
(24نیوز)ٹرمپ انتظامیہ نے اسرائیل کو تقریباً 2.8 ارب ڈالر مالیت کے اسلحے کی فروخت کی منظوری دے دی، جس میں تقریباً 40 ہزار بم بھی شامل ہیں۔
خبر ایجنسی کے مطابق امریکی ہتھیاروں کی اس کھیپ کو اسرائیل کو فروخت کی جانے والی بڑی کھیپ میں شمار کیا جا رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق فروخت کیے جانے والے بموں میں تقریباً نصف ایم کے-84 (MK-84) ہیوی بم ہیں، جن کا وزن تقریباً ایک ٹن ہوتا ہے، جبکہ باقی نصف BLU-117 بنکر بسٹر بم ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیل نے اس نوعیت کے بھاری بم غزہ میں استعمال کیے ہیں، جن کے نتیجے میں عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا اور بڑے گڑھے بننے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔
رپورٹ کے مطابق سابق صدر جو بائیڈن کے دورِ حکومت میں امریکا نے اسرائیل کو بعض بھاری بموں کی ایک کھیپ کی فراہمی روک دی تھی، تاہم ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے اسلحے کی نئی فروخت کی منظوری دے دی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:لیبیا:تیل کی پیداوار میں کمی پر احتجاج، پیٹرولیم فسیلیٹیز گارڈز نے پائپ لائن بند کردی






