3

نقوش وطن: قومی ثقافتی بیانیہ کے حوالے سے سردار بہادر خان وومن یونیورسٹی میں میگا سیمینار کا انعقاد

کوئٹہ: بلوچستان سینٹر اف ایکسیلنس حکومت بلوچستان اور پاکستان پاورٹی ایلیویشن فنڈ کے اشتراک سے سردار بہادر خان یونیورسٹی میں ایک اہم سیمینار کا انعقاد کیا گیا جس میں وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت, اورنگزیب خان کچی, وزیر تعلیم بلوچستان, مس راحیلہ حمید درانی, سی ای او, پاکستان پاورٹی ایلیویشن فنڈ, نادر گل بڑیچ
فیڈرل سیکرٹری اسد رحمان گیلانی, چیف کورڈنیشن افیسر, بلوچستان سینٹر اف ایکسیلنس, ڈاکٹر دوست محمد, ڈپٹی کوارڈینیشن افیسر ڈاکٹر عصمت خان, وائس چانسلر سردار بہادر خان یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر روبینہ مشتاق ایگزیکٹو ڈائریکٹر لوک ورثہ, ڈاکٹر محمد وقاص سلیم اور انچارج ریہیبلیٹیشن سینٹر فمیدہ کاکڑ نے شرکت کی اس سیمینار کا مقصد قومی ثقافتی بیانیہ کی اہمیت کو اجاگر کرنے، فروغ دینے ,نوجوانوں اور طالب علموں کو مثبت، تعمیری اور مؤثر کردار ادا کرنے کے لیے متحرک کرنا تھا۔سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے مہمان خصوصی وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کھچی نے کہا کہ بلوچستان پاکستان کی ثقافتی شناخت کا حاشیہ نہیں بلکہ اس کا ایک بنیادی باب ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان کے بغیر پاکستان کی تاریخ، تہذیب اور قومی شناخت کی تصویر مکمل نہیں ہو سکتی۔ اس کے علاوہ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ہم ایک ایسا پاکستان چاہتے ہیں جس میں کسی شہری کو یہ محسوس نہ ہو کہ اس کی زبان، ثقافت یا علاقائی شناخت کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔وزیر تعلیم بلوچستان, راحیلہ حمید درانی نے اپنے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ ثقافت کو کبھی بھی تقسیم کا ذریعہ نہیں بنانا چاہیے بلکہ یہ لوگوں کو آپس میں جوڑنے کا بہترین وسیلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام ثقافتوں کا احترام کرنا اور باہمی اتحاد کو فروغ دینا ناگزیر ہے۔ مزید برآں، انہوں نے اس بات کا اظہار کیا کہ بلوچستان اپنے روایتی ہنر، ہستکاری اور سیاحت کے شعبے کے ذریعے ثقافتی تنوع سے باآسانی آمدنی حاصل کر سکتا ہے۔پاکستان پاورٹی ایلیویشن فنڈ (پی پی اے ایف) کے سی ای او, نادر گل بڑیچ نے کہا کہ ان کا ادارہ بلوچستان کے 41 اضلاع میں پائیدار ترقی، سماجی ہم آہنگی اور امن کے فروغ کے لیے بھرپور اقدامات کر رہا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہنر مند افراد اور خصوصاً خواتین کو قرضے اور تربیت فراہم کرنے سے وہ مع طور پر خودمختار ہو کر اپنے خاندانوں کا سارا بن رہی ہیں۔ مزید برآں، انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ خواتین کو تعلیم، معاشی خودمختاری اور امن کے قیام میں فعال کردار دے کر ہی معاشرے کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکتا ہے۔مقررین نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے قومی ثقافتی بیانیے (نقوشِ وطن) کی اہمیت اور ثقافتی فروغ پر روشنی ڈالی، اور معاشرے میں امن کے قیام، روایات کے تحفظ اور پائیدار ترقی کے لیے خواتین کے کلیدی اور بااختیار کردار کو ناگزیر قرار دیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ثقافت کو تقسیم کے بجائے قوم کو جوڑنے اور سماجی ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے ایک مؤثر وسیلے کے طور پر استعمال کیا جانا چاہئے۔ مزید برآں، مقررین نے بلوچستان کے بھرپور ثقافتی ورثے اور ہنر مند خواتین کو معاشی طور پر خودمختار بنانے کے ذریعے خطے کی ترقی کے عزم کا اعادہ کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں