4

پاکستان افغانستان سے سرحدیں کھولنے اور تجارت بڑھانے پر تیار

پاکستان نے افغانستان کے ساتھ سرحدیں کھولنے، تجارت بحال کرنے اور افغانستان کو علاقائی تجارت و رابطوں کے مرکز کے طور پر استعمال کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔

پاکستانی دفترِ خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر خان نے جمعرات کو ہفتہ وار بریفنگ میں کہا کہ پاکستان سرحدیں کھولنے اور تجارتی روابط بڑھانے کے لیے تیار ہے، تاہم ان کے بقول افغانستان کی جانب سے کچھ معاملات پر تعاون ضروری ہے۔ ترجمان نے کہا: ’’اب کارروائی دوسری جانب (افغانستان) کے ہاتھ میں ہے۔‘‘

پاکستانی مؤقف کے مطابق چین، ترکیہ اور قطر کی جانب سے کشیدگی کم کرنے کے لیے کی جانے والی سفارتی کوششیں تاحال کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچ سکیں۔

دوسری جانب افغانستان پاکستانی الزامات کو مسترد کرتا آیا ہے۔ افغان حکام کا مؤقف ہے کہ افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی اور دونوں ممالک کے درمیان مسائل کو باہمی مذاکرات کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔ کابل کا کہنا ہے کہ وہ ابتدا ہی سے بات چیت اور سفارتی حل کا حامی رہا ہے۔

افغانستان کا شروع سے مطالبہ ہے کہ پاکستان واضح اور مضبوط ضمانت دے کہ طورخم راہداری کو مستقبل میں دباؤ یا بلیک میلنگ کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا۔

تجارت کے معاملے میں افغانستان نے پاکستان پر انحصار کم کرنے کے لیے متبادل راستوں پر توجہ بڑھا دی ہے۔ ایران، وسطی ایشیا اور دیگر ممالک کے ساتھ تجارتی روابط میں اضافے کی کوششیں جاری ہیں، جس کے باعث کابل اب طورخم کو واحد یا ناگزیر تجارتی راستہ نہیں سمجھتا۔

دونوں ممالک کے درمیان بنیادی اختلافات اب بھی سکیورٹی، سرحدی معاملات اور تجارت کے حوالے سے برقرار ہیں، جبکہ چین، ترکیہ اور قطر کی سفارتی کوششیں دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے جاری ہیں۔

صورتحال میں ایک اہم تبدیلی یہ ہے کہ پاکستان اب شدید معاشی دباو تاجروں زمینداروں اور ٹرانسپورٹرز کے معاشی نقصان کے بعد اب سرحدیں کھولنے اور تجارت بحال کرنے کی آمادگی ظاہر کر رہا ہے، جبکہ افغانستان نے اسی دوران اپنے لیے متبادل تجارتی راستے بھی مضبوط کر لیے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں