13

حوثی لیڈر کی باب المندب بند کر کے تیل کی قیمت 200ڈالر کروانےکی دھمکی

(ویب ڈیسک)   ہرمز کے میں بین الاقوامی جہاز رانی کے لئے شدید مشکلات پیدا کرنے کے بعد  ایران  نے بحیرہ احمر کے گیٹ وے  سے بحری جہازوں کی آمد و رفت بند کروانے کے لئے  حوثیوں کو استعمال کرنے کی دھمکی دے دی۔ 

نیوز ایجنسی روئٹرز نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ ایران کے پریس ٹی وی کی ویب سائٹ پر ایک رپورٹ کے مطابق، یمن ک کی حوثی حکومت کے ایک سینیئر اہلکار نے پیر کے روز  اعلان کیا کہ حوثی مسلح افواج آبنائے باب المندب کو بند کرنے کے لیے تیار ہیں – اس اقدام سے تیل کی قیمتیں 200 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہیں –

 ایران کے پریس ٹی وی ویب سائٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق  اگر سعودی عرب نے “یمن پر حملہ” جاری رکھا تو، حوثی بحیرہ احمر میں باب المندب کو بند کرنے کے لئے کارروائی کرین گے اس اقدام سے ایرانی تی وی کے مطابق  انٹرنیشنل مارکیٹ میں کروڈ آئل کی قیمت دو سو ڈٓلر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔ 

یہ بھی پرھیں:  عوام کی حمایت سے محروم کالعدم ایکشن کمیٹی کے اوچھے ہتھکنڈے، پولیس کے نہتے اہلکار پر بلاجواز تشدد اور ہتک آمیز ویڈیو 
حوثی  ملیشیا کے سیاسی بیورو کے رکن محمد الفرح نے الزام لگایا کہ واشنگٹن سعودی عرب کو یمن پر حملہ کرنے پر اکسا رہا ہے اور اس طرح کی اشتعال انگیزی امریکہ کے مفاد میں نہیں ہوگی۔ “اگر موجودہ صورتحال مزید بگڑتی ہے تو آبنائے باب المندب اور آبنائے ہرمز کو آپریشنل اتحاد میں بند کر دیا جائے گا۔ پھر تیل کی قیمتیں ایک خوفناک جھٹکے میں 200 ڈالر فی بیرل تک پہنچ جائیں گی۔”
مشرق وسطیٰ کے سکالر فواز گرجیس نے رائٹرز کو بتایا کہ “ایران ہر طرح سے جانے کے لیے تیار ہے۔” انہوں نے کہا کہ تہران واشنگٹن کو دکھا رہا ہے کہ وہ بیک وقت دونوں گزرگاہوں کو خطرہ  سے دوچار کر سکتا ہے، جس سے تنازعہ دو طرفہ تصادم سے بڑھ کر  عالمی توانائی کی تجارت کے لیے سمندری راستوں کے لیے چیلنج میں تبدیل ہو جائے گا۔

“اب (تہران) قریب اور وسیع دونوں طرف بڑھ رہا ہے۔ پیغام یہ ہے کہ نہ صرف ہرمز بلکہ باب المندب بھی خطرے میں ہے۔”

حوثیوں کے جہاز رانی کی تجارت پر حملے
حوثی پہلے بھی کوشش کر چکے ہیں کہ وہ باب المندب کے ذریعے عالمی تجارت کا گلا گھونٹ دیں لیکن اس کا نتیجہ انہیں یمن کے اندر اپنے ٹھکانوں پر شدید حملوں اور وسیع پیمانے پر بربادی کی صورت میں بھگتنا پڑا تھا۔7  اکتوبر 2023 کو اسرائیل کے کئی گاؤں پر حماس کے حملوں سے  غزہ کی جنگ شروع ہونے کے بعد، ایران کے حمایت یافتہ حوثی گروپ نے بحیرہ احمر میں تجارتی بحری جہازوں پر حملے شروع کئے تھے، یہ کہتے ہوئے کہ وہ فلسطینیوں کی حمایت میں اسرائیل سے منسلک جہازوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔
اس مہم نے بڑی شپنگ کمپنیوں کو مجبور کیا کہ وہ جنوبی افریقہ کے ارد گرد جہازوں کو دوبارہ روٹ کریں، نقل و حمل کے اخراجات میں اضافہ ہوا، اور جہاز رانی کی حفاظت کے لیے یمن مین حوثیوں کے اڈوں پر امریکی اور برطانوی فضائی حملوں کے ساتھ ساتھ ایک کثیر القومی بحری مشن شروع ہو گیا تھا۔
کنگز کالج لندن کے اسکول آف سیکیورٹی اسٹڈیز کے ایک سینئر لیکچرر آندریاس کریگ نے حوثیوں کے تازہ خطرے کو ہرمز کے بعد ایران کے لیے “ایک اور جوہری آپشن” کے طور پر بیان کیا – ایک یہ آپشن صرف اس صورت میں اختیار  کیا جائے گا جب آئی آر جی سی اس نتیجے پر پہنچے کہ ہمہ گیر جنگ کی واپسی ناگزیر ہوگئی ہے۔
لیکن انہوں نے خبردار کیا کہ اگر واشنگٹن نے ایران کے اہم بنیادی ڈھانچے پر حملے تیز کیے تو تہران اپنے یمنی اتحادیوں کو باب المندب کو بند کرنے کے لیے استعمال کر کے ان حملوں کا جواب دے سکتا ہے، جس سے آبنائے ہرمز کی وجہ سے لگنے والا اقتصادی جھٹکا مزید بڑھ جائے گا۔

یہ بھی پڑھیئے:  مولانا فضل الرحمان کیخلاف درخواست؛ڈائریکٹر این سی سی آئی اے سےجواب طلب 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں