وفاقی وزیرِ صحت سید مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت ادویات پر 9 اکتوبر کے بعد 2D بارکوڈ کے نفاذ پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے اجلاس منعقد ہوا، جس میں سی ای او ڈریپ، متعلقہ اداروں کے حکام اور تمام اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ تقریزاً 80 فیصد فارماسیوٹیکل کمپنیوں نے 2D بارکوڈ کے نفاذ کا عمل شروع کر دیا ہے۔ ڈیٹا جمع نہ کرانے والی کمپنیوں کو باضابطہ نوٹس جاری کرنے اور مقررہ مہلت کے بعد پیداواری یونٹس سیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
وزیرِ صحت نے کہا کہ جعلی ادویات کا خاتمہ ناگزیر ہے، اس معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا اور زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے گی۔ تمام کمپنیاں اپنا سیریلائزیشن ڈیٹا ڈریپ کو جمع کروائیں تاکہ ادویات کی مؤثر نگرانی، شفافیت اور ٹریک اینڈ ٹریس نظام یقینی بنایا جا سکے۔






