
والڈ سٹی آف لاہور اتھارٹی کا آئیڈیا سنئیر بیوروکریٹ کامران لاشاری کا ہے یہ لاہور پاکستان میں ایک نیم سرکاری تنظیم ہے، جو لاہور کے دیواروں کے شہر کے تحفظ، منصوبہ بندی اور ترقی، ضابطے اور انتظام کے لیے حکومت پنجاب کی طرف سے قائم اور فنڈز فراہم کرتی ہے۔یہ تنظیم خود مختاری سے کام کرتی ہے اور اسے 2012ء میں قائم کیا گیا تھا جب پنجاب کی صوبائی اسمبلی نےاتھارٹی بنانے کے لیے والڈ سٹی آف لاہور بل 2011ء میں ترمیم کی تھی۔ یہ علاقے میں ورثے کے مقامات کی دیکھ بھال کرتا ہے اور عمارتوں کو نقصان پہنچانے کے لیے سزاؤں کی وضاحت کرتا ہے اور لاہور کے پرانے شہر کے کام چلاتا ہے۔ اتھارٹی لاہور میں ثقافتی سرگرمیوں اور سیاحت کو فروغ دینے میں بھی مدد کرتی ہے۔والڈ سٹی لاہور نے 13سالوں میں لاہور کی ثقافت کی بحالی کے لیے لا تعداد منصوبے مکمل کر لیے ہیں اسں نے لاہور قلعہ کے اندر حویلی کھڑک سنگھ، گوجرانوالہ میں حویلی مہاراجہ رنجیت سنگھ اور لاہور کینٹ میں سینٹ میری میگڈلین چرچ کی مرمت و بحالی پراجیکٹ پر کام جاری ہے ۔ گذشتہ سالوں میں والڈ سٹی آف لاہور اتھارٹی نے اقلیتوں سے متعلق بہت سی اہم عمارات کی بحالی کے متعدد منصوبے مکمل کیے ہیں، جن میں پریسبیٹیرین چرچ (نولکھا) نکلسن روڈ ،کیتھیڈرل چرچ مال روڈ ، سیکرڈ ہارٹ کیتھیڈرل چرچ لارنس روڈ ، کیتھولک چرچ سینٹ فرانسس ایشیاٹکس سہو والاسیالکوٹ ، شوالہ مندر سیالکوٹ ، سینٹ میری ڈی ورجن کیتھیڈرل چرچ ملتان کینٹ ، کرائسٹ چرچ جناح روڈ راولپنڈی کینٹ، کرائسٹ چرچ جنجوعہ روڈ راولپنڈی، سینٹ جوزف کیتھولک چرچ، لال کرتی راولپنڈی اور کرائسٹ چرچ اوکاڑہ شامل ہیں۔اسی طرح دسمبر 2025 کے دوران والڈ سٹی آف لاہور اتھارٹی کے تحت متعدد اہم ترقیاتی، تحفظاتی اور بحالی کے منصوبوں کا آغاز کیا گیا۔ ان منصوبوں کا مقصد لاہور کے تاریخی ورثے کے تحفظ، شہری انفراسٹرکچر کی بہتری، سیاحتی سرگرمیوں کے فروغ اور عوام کو بہتر سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔ سال 2025 میں شروع ہوئے یا شروع کیے جا رہے ہیں،ان میں گردوارہ روری صاحب، جھامن اورگردوارہ پہلی پاتشاہی مانک لاہور کی تحفظ و بحالی شامل ہے۔اسی طرح گردوارہ بابا جمعیت سنگھ جی،گردوارہ سری گرو ہرگوبند صاحب پڈانہ،گردوارہ صاحب للیانی قصور،گردوارہ ملجی کنگن پور قصور،گردوارہ چھویں پاتشاہی گجرات ،گردوارہ چھوٹا ننکانا، ننک جگیر اوکاڑہ،گردوارہ ننک سر، ہڑپہ ساہیوال،گردوارہ بھومن شاہ، دیپالپور، اوکاڑہ،گردوارہ ننک سر، ٹبہ آہور، پاکپتن،گردوارہ خیر صاحب، منڈبہائوالدین،گردوارہ بھائی بنو، منڈی بہائوالدین،گردوارہ ننک سر، جھنگ،گردوارہ بھائی خان چند، مغھیانہ، جھنگ،قدیم گردوارہ، امبالہ اسکول، سرگودھا اورحویلی سجن سنگھ، راولپنڈی کا تحفظ و بحالی شامل ہے۔تاریخی زونز کی بحالی (نیو انارکلی اور اولڈ انارکلی کے فیسڈز، جین مندر، پان گلی، بخشی مارکیٹ، بائبل سوسائٹی)،مال روڈ اور لاہور کے تاریخی زونز کی بحالی (نیلا گنبد، کنگ ایڈورڈ، پاک ٹی ہاس، ایونگ ہال)، لاہورمال روڈ اور لاہور کے تاریخی زونز کی بحالی (وزیر خان برادری، نیشنل کالج آف آرٹس، ٹولنٹن، میوزیم)فصیل بند شہر لاہور کے چار قدیم دروازوں (کا تحفظ و بحالی شامل ہے۔کامران لاشاری کے بعد ڈائریکٹر جنرل نجم الثاقب کی متحرک اور بہتر منصوبہ بندی کے سبب ادارہ اس وقت ورثہ کے والڈ سٹی آف لاہور اتھارٹی کے تحفظ، شہری بحالی اور پائیدار سیاحت کے فروغ کے میدان میں نمایاں کردار ادا کر رہا ہے۔ نہ صرف لاہور بلکہ پنجاب کے دیگر تاریخی شہروں میں بھی متعدد ترقیاتی اور تحفظاتی منصوبوں پر بیک وقت کام جاری ہے، جس کے نتیجے میں والڈ سٹی آف لاہور اتھارٹی، ایک فعال اور قومی سطح پر نمایاں ادارے کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔ والڈ سٹی اتھارٹی ادارے کی بنیادی توجہ تاریخی ورثے کی اصل شناخت کو محفوظ رکھتے ہوئے شہری سہولیات میں بہتری، سیاحتی امکانات کے فروغ اور ثقافتی سرگرمیوں کے احیاء پر مرکوز ہے۔ لاہور ہیریٹیج ایریاز بحالی پروگرام کے تحت جاری منصوبے ہیں، جن پر جامع اور مربوط انداز میں کام جاری ہے۔ ان منصوبوں کا بنیادی مقصد لاہور کے تاریخی تشخص کو بحال کرنا، شہری سہولیات میں بہتری لانا، رسائی کو آسان بنانا اور سیاحتی امکانات کو فروغ دینا ہے۔
اہم منصوبوں میں دہلی گیٹ سے اکبری گیٹ تک مصالحہ مارکیٹ کی بحالی پر کام جاری ہے، جس کے ذریعے والڈ سٹی کے قدیم تجارتی مرکز کی رونقیں بحال کی جا رہی ہیں۔ اسی طرح شاہدرہ کمپلیکس آف مونومنٹس اور لاہور قلعہ میں تحفظاتی سرگرمیاں تسلسل کے ساتھ جاری ہیں، جن کے ذریعے ان تاریخی مقامات کی مضبوطی اور اصل حالت کی بحالی یقینی بنائی جا رہی ہے۔ شالامار باغ کی بحالی اور تحفظ کا کام بھی جاری ہے، جو اس عالمی ورثہ کے مقام کو محفوظ بنانے کی سنجیدہ کوششوں کی عکاسی کرتا ہے۔
اس کے علاوہ قدیم فصیل، نیو و اولڈ انارکلی، نیلا گنبد، پاک ٹی ہاؤس، ایونگ ہال اور کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج کے اطراف تاریخی فساڈز کی بحالی اور شہری خوبصورتی کے منصوبے لاہور کی تاریخی شناخت کو مزید نمایاں کر رہے ہیں۔ادارے کی جانب سے کم معروف مگر اہم تاریخی ورثے پر بھی خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ پانی والا تالاب کے قدیم اسٹیم پمپ ہاؤس، تاریخی گزرگاہوں، قدیم حویلیوں اور چار تاریخی دروازوں کی بحالی جیسے منصوبے اس امر کی عکاسی کرتے ہیں کہ صرف مشہور مقامات ہی نہیں بلکہ ہر اس تاریخی اثاثے کے تحفظ کے لیے کوشاں ہے جو لاہور کی تہذیبی شناخت کا حصہ ہے۔ اسی طرح وزیر خان بارہ دری، لاہور میوزیم، نیشنل کالج آف آرٹس، سمادھی رنجیت سنگھ جیسے اہم مقامات پر جاری بحالی اور سیاحتی سہولیات کی بہتری کے منصوبے شہر کو ایک جدید ثقافتی و سیاحتی مرکز بنانے میں معاون ثابت ہو رہے ہیں۔
مزید برآں، مقبرہ انارکلی اور بریڈلا ہال جیسے اہم تاریخی منصوبوں پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ بریڈلا ہال کی بحالی میں روایتی تعمیراتی مواد اور فنون جیسے کنکر چونے کا پلاسٹر، فریسکو ورک، اسٹکو ورک اور غالب کاری کو اصل انداز میں بحال کیا جا رہا ہے، جبکہ جدید تقاضوں کے مطابق واٹر پروفنگ، روشنی کے انتظامات، لکڑی کے کام اور فرش کی مرمت بھی جاری ہے۔ یہ اقدامات اس بات کی مثال ہیں کہ تاریخی ورثے کو محفوظ رکھتے ہوئے اسے جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔والڈ سٹی آف لاہور اتھارٹی کی سرگرمیاں لاہور تک محدود نہیں بلکہ پنجاب کے دیگر تاریخی شہروں تک بھی وسیع ہو چکی ہیں۔
ملتان میں حضرت موسیٰ پاک شہید کے مزار، قلعہ کہنہ قاسم باغ، حرم ٹریل اور جین مندر کی بحالی پر کام جاری ہے، جبکہ مری میں مال روڈ کی خوبصورتی اور سیاحتی سہولیات میں اضافے کے منصوبے تکمیل کے مراحل میں ہیں۔ اوچ شریف میں مذہبی ہیریٹیج گزرگاہ کی بحالی اور کرافٹ بازار کے قیام کے ذریعے مقامی ثقافت اور دستکاری کو فروغ دیا جا رہا ہے، جبکہ بہاولپور میں فرید گیٹ اور تھیم پارک کے منصوبے بھی جاری ہیں۔اسی طرح پنجاب بھر میں مندروں، گوردواروں اور دیگر مذہبی و ثقافتی مقامات کی بحالی پر بھی خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ گوردوارہ بھائی کرم سنگھ، حویلی مہاراجہ رنجیت سنگھ، حویلی بخشی رام اور دیگر تاریخی مذہبی مقامات کی مرمت پاکستان کے متنوع ثقافتی ورثے کے تحفظ کے عزم کو ظاہر کرتی ہے۔ ان منصوبوں کے ذریعے نہ صرف تاریخی عمارات کو محفوظ بنایا جا رہا ہے بلکہ مذہبی ہم آہنگی، ثقافتی سیاحت اور مقامی معیشت کے فروغ میں بھی مدد مل رہی ہے۔مجموعی طور پر، نجم الثاقب کی قیادت میں جاری یہ تمام منصوبے ایک متوازن اور جامع حکمت عملی کی عکاسی کرتے ہیں، جس میں ورثہ کے تحفظ، ثقافتی شناخت کے فروغ، سیاحت کی ترقی، کمیونٹی کی شمولیت اور معاشی بہتری کو یکجا کیا گیا ہے۔
والڈ سٹی اتھارٹی کی جانب سے تاریخی ورثے کی دستاویز بندی بھی بین الاقوامی معیار کے مطابق کی جا رہی ہے تاکہ طلبہ، محققین اور اسکالرز کے لیے مستند معلومات اور تحقیقی مواد دستیاب ہو سکے۔ یہ تمام اقدامات نہ صرف لاہور بلکہ پورے پنجاب میں ثقافتی ورثے کے تحفظ اور پائیدار ترقی کے فروغ میں اہم سنگِ میل ثابت ہو رہے ہیں۔والڈ سٹی آف لاہور اتھارٹی نہ صرف تاریخی عمارات اور ورثہ جاتی مقامات کے تحفظ، بحالی اور مرمت کے منصوبوں پر کام کرتی ہے بلکہ ثقافتی تقریبات، تاریخی دوروں اور عوامی آگاہی کی مختلف سرگرمیوں کا بھی انعقاد کرتی ہے، جن کا مقصد لاہور کی شاندار تاریخ اور ثقافتی روایات کو فروغ دینا ہے۔والڈ سٹی آف لاہور اتھارٹی ان سرگرمیوں کے ذریعے عوام کو لاہور کے قدیم ثقافتی اور تاریخی تشخص سے دوبارہ جوڑنے کی کوشش کرتی ہے۔
والڈ سٹی آف لاہور اتھارٹی کی نمایاں سیاحتی سرگرمیوں میں قلعہ لاہور میں منعقد کیا جانے والا “ہسٹری بائے نائٹ” ٹور شامل ہے۔ جس کے دوران شرکاء رات کے وقت روشن قلعہ لاہور کی سیر کرتے ہوئے اس کی تاریخی اہمیت اور داستانوں سے آگاہ ہوتے ہیں۔ اسی طرح شالیمار باغ میں “چاندنی راتیں” ٹور کا انعقاد کیا جاتا ہے، جو مغلیہ دور کے تاریخی باغات میں شام کے وقت ایک منفرد فراہم کرتا ہے۔
ثقافتی اور تفریحی تجربہ
اس کے علاوہ والڈ سٹی آف لاہور اتھارٹی، پرانے لاہور کی تاریخی گلیوں اور راستوں میں مختلف گائیڈڈ واکنگ ٹورز بھی منعقد کرتی ہے۔جن کے ذریعے طلبہ، محققین، سیاحوں اور عام شہریوں کو قدیم لاہور کی تاریخی عمارات، روایتی بازاروں، ثقافت اور طرزِ زندگی سے روشناس کروایا جاتا ہےوالڈ سٹی آف لاہور اتھارٹی ،حکومتِ پنجاب کے وژن کے مطابق ثقافتی ورثے کے فروغ اور تحفظ کے لیے پرانے لاہور کی روایتی ثقافت اور رسم و رواج کو دوبارہ زندہ کرنے کے لیے بھی سرگرم عمل ہے۔
اس مقصد کے تحت سال بھر مختلف ثقافتی اور سماجی تقریبات منعقد کی جاتی ہیں۔ ان میں “کھیڈاں لاہور دیاں” جیسے روایتی کھیلوں کے میلے، مشاعرے، دستکاروں اور ہنرمندوں کی نمائشیں، ثقافتی میلے، لوک موسیقی کی محافل، کہانی گوئی کی نشستیں اور مقامی فنون و دستکاری کے مظاہرے شامل ہیں۔ یہ سرگرمیاں فنکاروں، ادیبوں، ہنرمندوں اور ثقافتی شخصیات کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا موقع فراہم کرتی ہیں جبکہ عوام میں لاہور کی تاریخی اور ثقافتی شناخت کے حوالے سے شعور بھی اجاگر کرتی ہیں۔ والڈ سٹی لاہور کے علاوہ لہر ادارہ بھی سامنے آ گیا ہے جو بعض منصوبے والڈ سٹی کے ساتھ ملکر کر رہا ہے ثقافت کی بحالی قوموں کی پہچان اور شناخت کو زندہ رکھتی ہے ثقافت اور روایات ریاست کے اہم جزو میں بھی شمار ہوتے ہیں والڈ سٹی ثقافت و تہذیب کی بحالی کی ضامن ہے۔






