5

اللّٰہ کے نافرمان حکمران

ایک ایسا ملک جس کا نام ہی ’’اسلامی جمہوریہ پاکستان‘‘ ہے اور جس کے آئین کی بنیاد ہی قرآن و سنت پر ہے وہاں دہائیوں سے سودی نظام کا برقرار رہنا اور اس پر مسلسل قرضے لینا ایک بہت بڑا تضاد ہے۔

مذہب، آئین اور عوام کی ذمہ داری کے حوالے سے اس صورتحال کی حقیقت سود کے خلاف شرعی حکم اور “اللہ سے جنگ”قرآن مجید سورۃ البقرہ، آیت 279 میں سود لینے اور دینے والوں کے لیے بہت واضح الفاظ میں “اللہ اور اس کے رسول کے خلاف جنگ” کا اعلان کیا گیا ہے۔

حکمرانوں کا طرزِ عمل بدقسمتی سے پاکستان کی مقتدر اشرافیہ نے ہمیشہ عارضی معاشی سہاروں اور اپنی بقا کے لیے اس سخت ترین وعید کو پسِ پشت ڈالے رکھا, انہوں نے ملک کو ایک ایسے چکر میں پھنسا دیا جہاں پرانے سودی قرضے اتارنے کے لیے مزید سود پر قرض لینا مجبوری بنا دیا گیا۔

پاکستانی آئین اور وفاقی شرعی عدالت کا فیصلے میں  یہ بات اہم ہے کہ پاکستان کے عوام اور علمائے کرام نے اس سودی نظام کو کبھی دل سے تسلیم نہیں کیا۔آئین کا آرٹیکل 38(f) حکومت کو پابند کرتا ہے کہ وہ ملک سے ربا سودکا جلد از جلد خاتمہ کرے گی۔ اپریل 2022 میں وفاقہ شرعی عدالت (Federal Shariat Court) نے ایک تاریخی فیصلہ دیا تھا جس کے تحت حکومت کو دسمبر 2027 تک ملک سے سودی نظام کا مکمل خاتمہ کر کے اسے غیر سودی (Islamic Banking) نظام میں تبدیل کرنے کی مہلت دی گئی ہے۔

حکومت اور اسٹیٹ بینک نے اس پر کام کرنے کی ہامی تو بھری ہے لیکن تاحال نظام کی جڑیں اتنی گہری ہیں کہ اس سے نکلنے کی حقیقی تڑپ نظر نہیں آتی۔ کیا عوام اس سود کے جواب دہ ہیں؟ہم عوام اس سود کے جواب دہ نہیں ہیں۔

سود پر قرض لینے کا فیصلہ پاکستان کے عام شہری، کسان یا مزدور نے نہیں کیا بلکہ یہ بند کمروں میں بیٹھی اشرافیہ اور وزراء کے فیصلے تھے۔ اسلام کا بنیادی اصول ہے کہ “کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا” (قرآن) چونکہ عوام نے یہ قرض اپنے عیش و عشرت یا رضامندی سے نہیں مانگااس لیے وہ آخرت میں اس کے گناہ کے جواب دہ نہیں ہیں۔

دنیاوی بوجھ کی ناانصافی المیہ یہ ہے کہ آخرت کے گناہ سے تو عوام بری ہیں لیکن اس دنیا میں اس کا مالی بوجھ زبردستی غریب عوام پر ہی ڈالا جا رہا ہے۔ پٹرول، بجلی کے بلوں پر لگنے والے ٹیکس دراصل اسی سود کو چکانے کے لیے عوام کی جیب سے زبردستی نکالے جاتے ہیں۔حکمرانوں کی جانب سے سودی قرضوں پر انحصار کرنا ان کی معاشی نااہلی اور نظریاتی خیانت کا ثبوت ہے۔ جب تک ملک کا مالیاتی نظام سودی معیشت سے نکل کر حقیقی پیداوار، صنعت کاری اور اسلامی اصولوں مضاربت اور شراکت داری پر استوار نہیں ہوتا تب تک برکت کا اٹھ جانا اور معاشی بحران کا برقرار رہنا فطری امر ہے۔

اس ظالمانہ اور ناکام نظام کی جڑوں پر وار کیا جائے اگر ہم پاکستان کو اس معاشی اور اخلاقی دلدل سے نکالنا چاہتے ہیں تو کاغذی دعوؤں کے بجائے تین فوری اور انقلابی اقدامات اٹھانے ہوں گے بیوروکریسی اور وزراء کی مراعات کا مکمل خاتمہ جب تک حکمران اور سرکاری افسران عوام جیسے حالات میں نہیں رہیں گے انہیں غریب کی تکلیف کا احساس نہیں ہو سکتا۔

مفت سہولیات پر پابندی لگائی جائے وزراء، ججز، جرنیلوں اور گریڈ 22 کے افسران کو ملنے والی مفت بجلی، مفت پٹرول، بھاری پروٹوکول اور لگژری گاڑیاں فوری طور پر بند ہونی چاہئیں۔ سروس کے دوران یا ریٹائرمنٹ پر کروڑوں روپے کے سرکاری پلاٹس الاٹ کرنے کا سلسلہ مستقل طور پر ممنوع قرار دیا جائے اور یہ زمینیں ملکی قرضے اتارنے کے لیے استعمال ہوں بڑے جاگیرداروں اور رئیل اسٹیٹ پر بھاری ٹیکسپاکستان کا المیہ یہ ہے کہ غریب دکاندار اور تنخواہ دار طبقہ تو گندم کی روٹی پر بھی ٹیکس دیتا ہے لیکن ملک کے سب سے امیر ترین لوگ ٹیکس نیٹ سے باہر ہیں۔

بڑے بڑے جاگیردار جن کی ہزاروں ایکڑ زمینیں ہیں ان کی آمدنی پر بھاری ٹیکس عائد کیا جائے تاکہ عام آدمی پر سے بوجھ کم ہو,رئیل اسٹیٹ ہاؤسنگ سوسائٹیز کے ٹائیکونز، جو بغیر کسی پیداوار کے کھربوں روپے کماتے ہیں ان پر ایسا ٹیکس لگایا جائے کہ سرمایہ کار وہاں پیسہ پھنسانے کے بجائے کارخانے اور صنعتیں لگانے پر مجبور ہوں۔

غیر پیداواری اخراجات اور کرپشن پر کڑی نظرملک کو سڑکوں اور پلوں کی چمک دمک سے زیادہ اس بات کی ضرورت ہے کہ پیسہ وہاں لگے جہاں سے ملکی آمدنی بڑھے۔ترقیاتی منصوبوں کا آڈٹ  جیسے میٹرو بس یا پلوں جیسے بڑے منصوبوں کے ٹھیکوں کا تھرڈ پارٹی غیر جانبدار آڈٹ لازمی ہو تاکہ کمیشن اور کک بیکس کا راستہ روکا جا سکے۔سرمائے کی منصفانہ تقسیم کی جائے ٹیکس کا پیسہ وزراء کے محلات اور بیرونِ ملک بینک بیلنس کے بجائے عام آدمی کے ہسپتالوں، سرکاری اسکولوں اور سستی بجلی کے متبادل منصوبوں جیسے سولر انرجی پر خرچ ہو۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں