11

آبنائے ہرمز میں کشیدگی:خام تیل کی قیمت 90 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی

(ویب ڈیسک)عالمی منڈی میں پیر کے روز برینٹ خام تیل کی قیمت میں 2 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا اور یہ 90 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجہ مشرق وسطیٰ میں امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل میں رکاوٹوں کے خدشات ہیں۔

برینٹ کروڈ فیوچر 2.09 ڈالر یا 2.37 فیصد اضافے کے بعد 90.27 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئے، جو 11 جون کے بعد بلند ترین سطح ہے، گزشتہ ہفتے بھی برینٹ کی قیمت میں 15.9 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا، جو اپریل کے بعد سب سے بڑا ہفتہ وار اضافہ تھا۔

امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل کی قیمت بھی 1.71 ڈالر یا 2.07 فیصد بڑھ کر 84.37 ڈالر فی بیرل ہو گئی، جو 12 جون کے بعد بلند ترین سطح ہے، گزشتہ ہفتے WTI میں 15.5 فیصد اضافہ ہوا، جو مارچ کے آغاز کے بعد سب سے بڑا ہفتہ وار اضافہ تھا،اماراتی مربن خام تیل کی81.35 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈنگ جاری ہے۔

مشرق وسطیٰ میں کشیدگی ہفتے کے اختتام پر مزید بڑھ گئی، جہاں امریکہ نے ایران کے خلاف مسلسل نویں رات حملے کیے، جبکہ امریکی اتحادی ممالک کویت اور بحرین نے بھی ایرانی حملوں کی اطلاع دی۔

انرجی ماہرین کے مطابق خلیجی خطے میں کشیدگی میں کمی نہ آئی تو تیل کی منڈی ایک بار پھر بڑے پیمانے پر حملوں اور سپلائی میں خلل کے خطرات سے دوچار ہو سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:چھت گر گئی!خوشیوں بھرا گھر ماتم میں بدل گیا

ایرانی پاسداران انقلاب (IRGC) نے پیر کے روز دعویٰ کیا کہ دو تیل بردار جہاز آبنائے ہرمز کے ایک غیر محفوظ جنوبی راستے سے گزرنے کی کوشش کے دوران دھماکوں کا شکار ہوئے اور ناکارہ ہو گئے، ایران نے الزام عائد کیا کہ ان جہازوں کو امریکی فوج کی جانب سے اس راستے پر جانے کی ترغیب دی گئی تھی، تاہم اس واقعے کی آزادانہ تصدیق فوری طور پر نہیں ہو سکی۔

حالیہ دنوں میں دونوں فریقوں نے سمندری ٹریفک کو نشانہ بنایا ہے،امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ ایرانی بندرگاہوں پر بحری ناکہ بندی نافذ کر رہا ہے، جبکہ ایران کا مؤقف ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں اپنے ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والے جہازوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔

آبنائے ہرمز دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کی تیل تجارت کے لیے اہم راستہ ہے، اس لیے یہاں پیدا ہونے والی کشیدگی عالمی تیل کی قیمتوں پر براہ راست اثر ڈالتی ہے۔

برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز ایجنسی کے مطابق پیر کی صبح عمان کے علاقے کمزار کے شمال مغرب میں ایک جہاز میں آگ لگنے کی اطلاع بھی موصول ہوئی۔

مزید پڑھیں:عمرہ زائرین کیلئے بڑا اعلان!  یکم ربیع الاول سے نئی پابندیاں شروع

ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں اور ہفتوں میں واضح ہوگا کہ خطے میں دو طرفہ ناکہ بندیوں کے باعث تیل کی برآمدات کس حد تک متاثر ہوتی ہیں، تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ حالات میں تیل کی منڈیاں ممکنہ نقصانات کو کم سمجھ رہی ہیں، جبکہ عالمی تیل ذخائر گزشتہ پانچ برسوں کی کم ترین سطح کے قریب ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق اتوار کے روز صرف چار بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے، جبکہ اس سے ایک روز قبل یہ تعداد آٹھ تھی، جمعے کے بعد سے کم از کم تین آئل پروڈکٹس ٹینکرز اور ایک بڑے خام تیل بردار جہاز نے تیل کی لوڈنگ کے لیے آبنائے ہرمز میں داخلہ لیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں