
(ویب ڈیسک) آزاد کشمیر کی حکومت نے ریاست میں انتخابی مہم کے آغاز کے بعد پہلے سے جاری احتجاج اور دھرنے کے تناظر میں امن و امان کی سورتحال کو یقینی بنائے رکھنے کے لئے وفاق سے اضافی سیکیورٹی فورسز طلب کرلی۔ آزاد کشمیر کے ہوم ڈیپارٹمنٹ نےاسلام آباد میں وفاقی وزارت داخلہ پاکستان کو فورسز بھیجنے کی درخواست ارسال کر دی ہے۔
ہوم ڈیپارٹمنٹ کی درخواست میں آزاد کشمیر حکومت نے 4 ہزار اہلکاروں پر مشتمل فیڈرل کانسٹیبلری کے چار ہزار اہلکاروں کو آزاد کشمیر مین تعیناتکرنے کے لئے بھیجنے کے لئے کہا ہے۔ حکومت آزاد کشمیر نے پاکستان رینجرز کے 7 ونگز بھی آزاد کشمیر میں تعینات کرنے کی درخواست کی ہے۔
وفاقی وزارت داخلہ کو ملنے والے آذاد کشمیر ہوم ڈیپارٹمنٹ کے مراسلے میں امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر فوری نفری فراہم کرنے کی استدعا کی گئی ہے، مراسلے کے مطابق کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی مشکوک سرگرمیوں سے امن و امان کے متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ اس کالعدم قرار پا چکے گروہ کی سرگرمیوں کے سبب فورسز کے 4 اہلکار شہید اور 174 زخمی ہوئے ہیں۔ ہوم ڈیپارٹمنٹ کے مراسلے میں راولاکوٹ میں دھرنے اور دیگر اضلاع میں احتجاجی سرگرمیوں کا بھی ذکر ہے۔
حکومت آزاد کشمیر نے اضافی نفری کو اسلحہ اور انسدادِ ہنگامہ آرائی کے آلات سے لیس کرنے کی بھی درخواست کی۔ محکمہ داخلہ آزاد کشمیر نے صورتحال کے پیش نظر فوری تعیناتی کو ناگزیر قرار دیا۔
واضح رہے کہ آزاد کشمیر میں انتخابی مہم شروع ہو رہی ہے۔ اس انتخابی مہم کے دوران عمومی طور پر امن قائم رہنا ریاست مین الیکشن کے آزادانہ اور منصفانہ انعقاد کے لئے الگ سے ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھیئے: سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے قتل کا بدلہ لیا جائے گا: سربراہ پاسداران انقلاب






