3

بنگلہ دیش کے صدر شہاب الدین نے استعفیٰ دےدیا

(سلیم رضا) بنگلہ دیش کے صدر شہاب الدین نے استعفیٰ دےدیا۔
ڈھاکہ سے  24نیوز کے نامہ نگار سلیم رضا نے اطلاع دی ہے کہ بنگلہ دیش کے صدر شہاب الدین نے استعفیٰ دے دیا ہے۔ انہوں نے اپنا استعفیٰ آج شام بنگلہ دیش کی قومی پارلیمنٹ کے سپیکر کو پیش کیا۔ ان کا استعفیٰ پارلیمنٹ سیکرٹریٹ پہنچ گیا ہے۔ یہ اطلاع ڈھاکہ کے بنگبھابن ذرائع سے ملی ہے۔ 
اپنے استعفیٰ کے خط میں بنگلہ دیش کے صدر  شہاب الدین نے اپنی  بیماری کا  حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ وہ دل کی بیماری، ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس اور گردے کی پیچیدگیوں سمیت مختلف صحت کے مسائل میں مبتلا ہیں۔ 
انہوں نے بتایا کہ میں نے پہلے اپنے دل کی بائی پاس سرجری کروائی تھی، حال ہی میں کیے گئے صحت کے معائنے میں ا مجھے آٹونومک نیوروپتی  بیماری کی تشخیص ہوئی  ہے۔ جس کی وجہ سے  میں کبھی کبھار کچھ دیر کے لیے بے ہوش ہو جاتا ہوں۔
صدر شہاب الدین نے استعفیٰ میں لکھا کہ ان بیماریوں کے پھیلاؤ اور جسمانی و ذہنی معذوری کی وجہ سے میرےلیے صدر جیسے اہم آئینی عہدے کی ذمہ داریاں ادا کرنا ممکن نہیں ہے اور  مجھےطویل المدتی علاج کی ضرورت ہے۔ ایسی صورتحال میں  میں نے بنگلہ دیش کے آئین کے آرٹیکل 50(3) کے تحت صدر کے عہدے سے استعفیٰ دینے کا  فیصلہ کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیئے:  پٹرولیم مصنوعات کی قیمت روزانہ مقرر کرنے کی پالیسی، سینیٹ کمیٹی نے اوگرا اور پٹرولیم ڈویژن سے جواب طلب کر لیا 

صدر مملکت کا استعفیٰ سپیکر کو موصول ہونے کے بعد از خود منظور تصور کیا جاتا ہے اور سپیکر قائم مقام صدر کی ذمہ داری فی الفور سنبھال لیتے ہیں۔
بنگلہ دیش کے آئین کے حصہ فور کے باب 1 کے آرٹیکل 54 کے مطابق، اگر صدر کا عہدہ خالی ہو جائے یا وہ غیر موجودگی یا بیماری کی وجہ سے اپنے فرائض انجام دینے سے قاصر ہو، تو بنگلہ دیش کی قومی اسمبلی کا سپیکر اس وقت تک قائم مقام صدر کے طور پر کام کرے گا جب تک کہ نیا صدر منتخب نہیں ہو جاتا۔


عوامی لیگ کی حکومت کے دوران منتخب ہونے والے محمد شہاب الدین نے اپریل 2023 میں صدر کا عہدہ سنبھالا تھا۔ شہاب الدین وہ واحد شخص ہیں جو جولائی میں حسینہ واجد کی حکومت کے سٹوڈنتس کے احتجاج کو شدید تشدد اور گولی کے ذریعہ کچلنے کے بعد ہونے والی عوامی بغاوت کے بعد بھی اعلیٰ آئینی عہدے پر فائز رہے۔ شہاب الدین نے تین حکومتوں میں صدر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ وہ عوامی لیگ کی حکومت ختم ہونے کے بعد  محمد یونس کی عبوری حکومت، اور  آج شام تک بنگلہ دیش نینلسٹ پارٹی کی حکومت کے دوران  صدر رہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں