4

تحریک آزادی سے خوفزدہ مودی سرکارپھرمعصوم کشمیریوں پر ٹوٹ پڑی

(احمد منصور ) تحریک آزادی سے خوف زدہ مودی سرکارایک بارپھرمعصوم کشمیریوں پر ٹوٹ پڑی۔
 مختلف ذرائع کے مطابق مقبوضہ جموں و کشمیر میں ایک پولیس اہلکار کے قتل کے بعد بھارتی سیکیورٹی فورسز کی جانب سے بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن جاری ہے، متعدد علاقوں میں چھاپوں اور گرفتاریوں کا سلسلہ تیز کر دیا گیا ہے، جبکہ بعض رہائشی املاک کو بھی منہدم کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
مسلمان دشمنی کے ایجنڈے پرقائم مودی سرکار کشمیریوں کے حق خودارادیت کو دبانے کیلئے ظلم وجبرکی ہرحد عبورکررہی ہے،بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیرمیں پولیس اہلکار کے قتل کے بعد ہزاروں کشمیریوں کو ناصرف ِحراست  میں لے لیا بلکہ املا ک کو بھی گرانا شروع کردیا۔
بھارتی جریدے انٹرنیشنل بزنس ٹائمز کے مطابق ضلع اننت ناگ میں پولیس اہلکارکے قتل کے بعد جموں وکشمیرمیں کریک ڈاؤن شدت اختیارکرگیاہے۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق پولیس اہلکار کے قتل کے بعد قابض بھارتی فورسز نے مقبوضہ کشمیر میں 2 رہائشی مکانات کو دھماکے سے اڑا دیا،بھارتی فورسز نے بڑے پیمانے پر چھاپوں کے دوران تقریباً 3500 کشمیریوں کو گرفتار کر لیا۔ 
ترک نیوز ایجنسی ٹی آرٹی نے بھی قابض فورسزکی جانب سے ہزاروں کشمیریوں کی گرفتاری کی تصدیق کی ہے۔
وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے کشمیریوں کی گرفتاریوں پرغم وغصے کااظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ ہم نے پہلگام حملے کے بعد بھی بھارت سرکارکی طرف سے ایسی ہی صورتحال دیکھی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کیخلاف جماعت اسلامی کی درخواست کو نمبر الاٹ
سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے بھی مودی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ ہزاروں کشمیریوں کی گرفتاری اور گھروں کی مسماری اجتماعی سزا ہے، جس کی جمہوریت میں کوئی جگہ نہیں۔
انسانی حقوق کے بین الاقوامی ادارے ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق بھارتی حکومت نے جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی اور جبر میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے،مقبوضہ کشمیرمیں بڑھتےہوئے مظالم سے ظاہرہوتا ہے کہ مودی حکومت کشمیریوں کے جذبہ آزادی کو دبانے میں ناکام ثابت ہورہی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں