1

مذاکرات ہی خطے کے مسائل کا واحد حل، اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پرعملدرآمد کیلئے سرگرم ہیں: دفتر خارجہ

(24نیوز)ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہا ہے کہ پاکستان خلیج، بحیرہ احمر اور آبنائے ہرمز کی موجودہ سیکیورٹی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور خطے میں پائیدار امن کے لیے سفارت کاری اور مذاکرات ہی واحد راستہ ہیں ،پاکستان ایران اور امریکا کے درمیان تکنیکی مذاکرات کی بحالی اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد کے لیے مسلسل سفارتی کوششیں کر رہا ہے۔

اسلام آباد میں ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ پاکستان خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور معمول کے حالات کی بحالی کے لیے تمام متعلقہ فریقوں سے رابطے میں ہے، انہوں نے کہا کہ پاکستان کی کوشش ہے کہ فریقین اسلام آباد مفاہمتی یادداشت اور 22 جون 2026 کے پاکستان قطر مشترکہ اعلامیے کی روح کے مطابق دوبارہ مذاکرات کی میز پر آئیں۔

انہوں نے بتایا کہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے حالیہ دنوں میں سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا، جس میں فلسطین، غزہ، مغربی کنارے، مسجد اقصیٰ اور خطے کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا، دونوں رہنماؤں نے علاقائی امن، استحکام اور بحیرہ احمر و آبنائے ہرمز میں قانونی بحری تجارت کے تسلسل کے لیے قریبی تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

ترجمان نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب پر ہونے والے حملوں کی مذمت کرتا ہے اور خطے میں جنگ یا کشیدگی کے پھیلاؤ کا مخالف ہے، انہوں نے واضح کیا کہ ایران اور امریکا کے درمیان تنازع کسی دوسرے ملک تک نہیں بڑھنا چاہیے۔

کویت کے ساتھ دفاعی تعاون کے معاہدے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ دراصل 2023 میں طے پایا تھا اور پاکستان و کویت کے درمیان 1980 کی دہائی سے جاری دفاعی تعاون کا تسلسل ہے، انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ سعودی عرب کے ساتھ موجود اسٹریٹیجک دفاعی تعاون سے مختلف نوعیت کا ہے اور پاکستان اپنے تمام دفاعی معاہدوں کے تحت ذمہ داریاں پوری کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں:لاہور ہائیکورٹ: بانی تحریک انصاف کی ہمشیرہ نورین نیازی کی 6 اگست تک حفاظتی ضمانت منظور

ترجمان دفتر خارجہ نے ڈی ڈبلیو کی پاکستان کے جوہری پروگرام سے متعلق دستاویزی فلم کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس میں یکطرفہ اور غیر مصدقہ معلومات پیش کی گئی ہیں، انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اپنے جوہری کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم پر مکمل اعتماد ہے، جو بین الاقوامی تقاضوں کے مطابق محفوظ اور مؤثر ہے۔

انہوں نے بھارتی وزیر دفاع کے کارگل سے متعلق حالیہ بیان کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر پر اپنے غیر قانونی قبضے کو معمول کا معاملہ ظاہر کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاہم اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت استصوابِ رائے ہی مسئلہ کشمیر کا تسلیم شدہ حل ہے۔

افغانستان سے متعلق سوال پر ترجمان نے کہا کہ پاکستان کی کارروائیاں صرف دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف ہوتی ہیں، انہوں نے کہا کہ طالبان جنگجو وردی نہیں پہنتے، اس لیے زمینی حقائق کو نظر انداز کرتے ہوئے لگائے جانے والے الزامات درست نہیں، بدخشاں میں طالبان مخالف مزاحمت سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے ان کے پاس کوئی مصدقہ معلومات نہیں ہیں۔

ترجمان نے مزید بتایا کہ پاکستان نے سکھ یاتریوں کو بڑی تعداد میں ویزے جاری کیے ہیں، جبکہ آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات معمول کا جمہوری عمل ہیں اور اس حوالے سے بین الاقوامی برادری کی جانب سے دفتر خارجہ کے سامنے کوئی باضابطہ تحفظات نہیں رکھے گئے۔

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ انڈیا کو آزاد کشمیر کے معاملات پر بات نہیں کرنی چاہیے جبکہ بھارتی کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال انتہائی مخدوش ہے ، پاکستان کشمیریوں کے حق خودارادیت کی بات کرتا ہے جبکہ بھارت کشمیریوں کے خودارادیت کے خلاف ہے، پاکستان اور بھارت کے درمیان یہ بنیادی فرق ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں