
(وسیم عظمت) آزاد کشمیر میں قانون ساز اسمبلی کے الیکشن کے پہلے دو مرحلے جماعت اسلامی اور جمعیت علما اسلام کے لئے ڈیزاسٹر ثابت ہوئے۔ تمام نشستیں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی نے جیت لیں۔
جماعت اسلامی کا آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے دو مراحل میں برا حشر ہوا۔ آزادکشمیر الیکشن کے دوسرے مرحلے میں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے امیدواروں نے تمام 21 نشستیں جیت لیں۔ دوسرے مرحلہ میں مسلم کانفرنس، جماعت اسلامی اور آزاد امیدواروں کو ایک بھی نشست نہیں ملی۔ تیسرے مرھلہ میں البتہ مسلم کانفرنس کے کم از کم ایک نشست جیتنے کا امکان باقی ہے۔
جماعت اسلامی جہاد کشمیر کے حوالے سے طویل عرصہ تک آزاد کشمیر بھر میں سرگرم ترین سیاسی جماعت سمجھی جاتی رہی ہے لیکن قانون ساز اسمبلی میں جماعت اسلامی کو نمائندگی کم ہی ملتی رہی ہے۔ آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے حالیہ الیکشن میں تو جماعت اسلامی کے ساتھ جو ہو رہا ہے اس برا حشر ہی کہاجا سکتا ہے۔
پہلے اور دوسرے مرحلہ میں قانون ساز اسمبلی کی 34 نشستوں پر پولنگ ہوئی۔ ان 34 نشستوں پر کہیں پیپلز پارٹی اور کہیں مسلم لیگ ن جیتی لیکن جماعت اسلامی کے امیدواروں کو ہر جگہ بری طرح شکست ہوئی۔
آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے الیکشن کے دو مراحل میں جماعت اسلامی کی شکست اور ضمانتیں ضبط ہونے کی تفصیل یہ ہے:
امیدواروں کی تعداد: جماعت اسلامی نے ان 34 میں سے 22 حلقوں میں اپنے امیدوار کھڑے کیے تھے، جبکہ باقی نشستوں پر وہ امیدوار ہی نہ لا سکے۔
ووٹوں کا حال: امیرِ جماعت ڈاکٹر محمد مشتاق خان سمیت ان کے جتنے بھی چوٹی کے لیڈران الیکشن لڑ رہے تھے، وہ کسی بھی حلقے میں دوسرے نمبر پر بھی نہیں آ سکے۔ ان کے مضبوط ترین امیدوار تیسرے، چوتھے یا پانچویں نمبر پر آئے۔
ضمانتیں ضبط: 22 میں سے تقریباً 16 حلقوں میں جماعت اسلامی کے امیدواروں کو اتنے کم ووٹ ملے کہ قانون کے مطابق ان کی انتخابی فیس (ضمانتیں) بھی ضبط ہو گئیں۔
سیاسی زبان میں کہیں تو ان دو مراحل میں آزاد کشمیر کی سیاست میں جماعت اسلامی کا مکمل صفایا ہو چکا ہے۔
جمعیت علما اسلام (فضل الرحمان) کا کیا حشر ہوا؟
آزاد جموں و کشمیر ک قانون ساز اسمبلی کے عام انتخابات کے پہلے دو مراحل میں جمعیت علمائے اسلام (فضل الرحمان) کا حشر بھی جماعت اسلامی جیسا ہی ہوا ہے اور مولانا فضل الرحمان کی جماعت ان تمام 34 نشستوں پر ایک بھی سیٹ جیتنے میں ناکام رہی ہے۔
ے یو آئی (ف) کے امیدوار کسی بھی حلقے میں ہارنے والوں میں نمایاں پوزیشن نہیں کر سکے۔
کُل 34 نشستوں میں سے جہاں مسلم لیگ (ن) نے 24 اور پیپلز پارٹی نے 10 سیٹیں حاصل کیں، وہاں مولانا فضل الرحمان کا دامن خالی رہا۔
ووٹوں کی پوزیشن اور ضمانتیں
آزاد کشمیر کی مقامی سیاست میں جے یو آئی (ف) کا تنظیمی ڈھانچہ بعض پاکٹس (مخصوص علاقوں) تک ہی محدود ہے۔ پہلے دو مراحل (میرپور ڈویژن، مظفرآباد ڈویژن اور مہاجرین کی نشستوں) میں ان کے کھڑے کیے گئے امیدواروں کو ہر جگہ محض چند سو ووٹ ہی مل سکے، جس کی وجہ سے تقریباً تمام حلقوں میں ان کے امیدواروں کی ضمانتیں ضبط ہو گئیں۔
فضل الرحمان کے کتنے امیدوار تھے؟
آزاد جموں و کشمیر کے عام انتخابات 2026ء کے ان پہلے دو مراحل کی کُل 34 نشستوں پر جمعیت علمائے اسلام (ف) کے کُل 14 امیدوار میدان میں آئے تھے۔
اس انتخابی معرکے میں جے یو آئی (ف) کی حکمتِ عملی اور امیدواروں کی تعداد کے برعکس اس کو ملنے والے ووٹ المناک ناکامی کی تصویر پیش کر رہے ہیں۔
پیپلز پارٹی سے اتحاد اور سیٹ ایڈجسٹمنٹ
آزاد کشمیر الیکشن کیمپین کی شروعات میں مولانا فضل الرحمان پاکستان پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری کو انتخابی اتحاد کرنے پر قائل کرنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ انتخابی اتحاد کے اس معاہدے کے تحت جے یو آئی (ف) نے 32 حلقوں میں پیپلز پارٹی (PPP) کے امیدواروں کی حمایت کی، جبکہ پی پی پی نے جے یو آئی (ف) کے لیے 2 نشستیں خالی چھوڑی تھیں۔
پیپلز پارٹی سے معاہدہ کے باوجود 12 آزاد امیدوار
مولانا فضل الرحمان نے دو نشستیں تو پیپلز پارٹی سے مانگ لیں اور اس کے عوض تمام باقی حلقوں میں جے یو آئی کے ووٹ پیپلز پارٹی کے امیدواروں کو دلوانے کا وعدہ کیا لیکن عملاً یہ کیا کہ 2 حلقوں کے علاوہ، جے یو آئی (ف) نے مزید 12 حلقوں (خاص طور پر مہاجرین مقیمِ پاکستان کے کچھ حلقوں) میں اپنے دیگر امیدواروں کو آزاد امیدوار بنا کر کھڑٓ کر دیا تاکہ پارٹی کا ووٹ بینک متحرک رہے۔ ان حلقوں میں پیپلز پارٹی کو معاہدہ کے مطابق جے یو آئی کے ووٹ نہ ہونے کے برابر ملے۔
حتمی نتیجہ: صفایا ہو گیا
ان تمام 14 امیدواروں میں سے ایک بھی امیدوار نشست جیتنا تو دور کی بات، دوسرے ، تیسرے نمبر پر بھی نہیں آ سکا۔ یہاں تک کہ جن 2 حلقوں میں پیپلز پارٹی نے اپنے امیدوار کھڑے نہ کر کے جمعیت علما اسلام کے امیدواروں کی آفیشل حمایت حاصل تھی، وہاں بھی مسلم لیگ (ن) کے امیدواروں نے انہیں بھاری مارجن سے شکست دی اور جے یو آئی (ف) کا صفایا ہو گیا۔
تیسرے مرحلے سے موہوم امید
اب جماعت اسلامی کو تو تیسرے مرحلہ میں بھی کوئی نشست ملنے کی آس نہیں البتہ جے یو آئی (ف) کی تمام تر امیدیں 10 اگست 2026ء کو ہونے والے تیسرے مرحلے پر ٹکی ہیں۔ پونچھ ڈویژن کی 11 نشستوں پر مولانا فضل الرحمان کی جماعت نے کچھ مضبوط مقامی امیدوار کھڑے کر رکھے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ کیا پونچھ ڈویژن جے یو آئی (ف) کا بھرم رکھ پاتا ہے یا وہاں بھی انہیں اسی طرح کے کلین سویپ کا سامنا کرنا پڑے گا۔
یہ بھی پڑھیئے: آزاد کشمیر کے الیکشن؛ پولنگ کے دوسرے مرحلہ میں قانون ساز اسمبلی کے رکن بننے والوں کا نوٹیفیکیشن






