9

اگر آئین کے اندر رہ کر نئے صوبے بنائیں جائیں تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں رانا ثنا اللہ

 (ویب ڈیسک)  وزیراعظم کے مشیر سینیٹر رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ اگر آئین کے اندر رہ کر نئے صوبے بنائیں جائیں تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے۔

 ایک نیوز چینل کے اینکر سے  گفتگو کرتے ہوئے  رانا ثنا اللہ نے کہا کہ 1973 کے آئین کی وجہ سے فیڈریشن قائم ہے۔

 صوبوں کی موجودہ تعداد کو برھا کر موجودہ سوبوں میں سے نئے انتظامی یونٹ (صوبے) بنانے کی بحث کے متعلق سوالات کے جواب میں رانا ثنا اللہ نے کہا اگر چھوٹے انتظامی یونٹس بننے ہیں تو بھی اسی سسٹم سے بننے ہیں، اگر صوبے بننے ہیں تو اسی آئین کے تحت ہی بنیں گے۔

ایک سوال کے جواب میں رانا ثنا  اللہ نے وفاقی وزیر داخلہ کے اس بیان سے اختلاف کیا کہ موجودہ نظام کام نہیں کر پا رہا۔ رانا ثنا اللہ نے کہا کہ محسن نقوی کہتے ہیں کہ “سسٹم گرگیا ہے وہ کس سسٹم کی بات کر رہے ہیں.” رانا ثنا نے کہا کہ اس بات کا کوئی سیاق وسباق نہیں۔

اس ہی ٹاک شو میں پیپلز پارٹی کی خاتون سینیٹر پلوشہ خان نے رانا ثناء اللہ سے اتفاق کیا کہ نئے صوبے آئین کے مطابق بننے چاہییں۔

نیا صوبہ بنانے کے لئے آئین کیا کہتا ہے؟ 

1973 کے آئین کے آرٹیکل   239(4)  کے مطابق موجودہ سوبوں میں سے نئے صوبے بنانے کے لئے قومی اسمبلی، سینیٹ اور متعلقہ صوبہ میں نئے صوبہ کی تشکیل کے حق میں آئینی ترمیم پیش کر کے اسے دو تہائی اکثریت سے منطور کروانا ضروری ہے۔ 

آرٹیکل 239(4) کیا ہے؟
 پاکستان کے آئین کا آرٹیکل 239(4) یہ کہتا ہے:

“کوئی ایسا آئینی ترمیمی بل جو کسی صوبے کی حدود میں تبدیلی کرے، اس وقت تک صدرِ مملکت کے سامنے منظوری کے لیے پیش نہیں کیا جائے گا جب تک اس صوبے کی صوبائی اسمبلی اسے اپنی کل رکنیت کے کم از کم دو تہائی ووٹوں سے منظور نہ کر دے۔”
اس پروویژن کا انگریزی متن یوں ہے:

“A Bill to amend the Constitution which would have the effect of altering the limits of a Province shall not be presented to the President for assent unless it has been passed by the Provincial Assembly of that Province by the votes of not less than two-thirds of its total membership.”
اس آرٹیکل کو آسان زبان میں یوں بیان کیا جا سکتا ہے کہ اگر پنجاب کو تقسیم کر کے جنوبی پنجاب صوبہ یا زیادہ صوبے بنائے جانے کی تجویز ہے  تو پنجاب اسمبلی کی دو تہائی اکثریت کا اس تجویز کی حمایت کرنا لازمی ہے۔ اس کے بعد قومی اسمبلی اور سینیٹ کو بھی اس تجویز کو دو تہائی اکثریت سے منظور کرنا ہو گا، تینوں  منتخب ایوانوں سے دو تہائی اکثیرت سے منظور ہونے کے بعد صدر مملکت رسمی منظوری دینے کے لئے اس تجویز کی سمری پر دستخط کریں گے۔
اگر خیبر پختونخوا سے ہزارہ صوبہ بنانے یا زیادہ انتظامی یونٹ بنانے کی تجویز ہے تو خیبر پختونخوا اسمبلی کی دو تہائی اکثریت کو اس تجویز کی منظوری دینا ہو گی۔ اس کے بعد قومی اسمبلی اور سینیٹ بھی اسے منطور کرین تب نئے انتظامی یونٹ بن سکیں گے۔ ایسا ہی بلوچستان اور سندھ کے بارے میں بھی ہے۔  متعلقہ سوبہ کے ارکان صوبائی اسمبلی کی دو تہائی اکثریت کی منطوری کے بغیر صرف پارلیمنٹ اس صوبہ کو تقسین نہیں کر سکتی اور پارلیمنٹ کی دو تہائی اکثریت کی منظوری کے بغیر صرف کسی صوبہ کی اسمبلی کی دو تہائی اکثریت  اپنے صوبہ کو نئے انتظامی یونٹوں میں تقسیم نہیں کر سکتی۔

کسی موجودہ سوبہ کو تقسیم کئے بغیر کسی انتظامی علاقہ مثلاً گلگت بلتستان کو  صوبہ بنانے کے لئے آرٹیکل  (4) 239  کے طریقہ کار کی ضرورت نہیں ہو گی۔

سابق قبائلی علاقوں فاٹا اور فانا کو خیبر پختونخوا میں شامل کرنے کے لئے پارلیمنٹ نے دو تہائی اکثریت کے ساتھ  25 ویں ترمیم منطور کی تھی۔ اس ترمیم میں ایک شق آرٹیکل  247 کو منسوخ کرنے کے متعلق تھی۔ آئین کا آرٹیکل  247  فاٹا اور فانا کو الگ انتظامی حیثیت عطا کرتا تھا۔ فاٹا اور فانا کے علاقوں کو خیبر پختونخوا صوبہ کا حصہ بنانے کے لئے آرٹیکل    (4) 239  کے طریقہ کار کے مطابق متعلقہ صوبہ یعنی خیبر پختونخوا کی صوبائی اسمبلی نے دو تہائی اکثریت سے منطوری دی تھی۔

خراب گورننس کی بہتری کیلئے نئے انتظامی یونٹس کی تجویز پر موجودہ بحث

پاکستان میں طویل عرصہ سے زیادہ انتظامی یونٹ بنا کر گورننس کو بہتر بنانے کی بحث موجود رہی ہے جو آج کل وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے پاکستان اکنامک فورم میں گورننس کے کولیپس اور نئے انتظامی یونٹ بنانے کی ضرورت پر گفتگو کرنے سے ایک بار پھر عوام اور ماہرین کی گفتگو کا موضوع بنی ہوئی ہے۔ اگر بیک وقت سارے صوبوں کی تشکیل نو کرنے کی کسی تجویز کو آئین کی موجودہ پرویژن کے تحت رو بہ عمل لانا ہو تو اس کے لئے چاروں صوبائی اسمبلیوں اپنے اپنے متعلق تجویز، اور  قومی اسمبلی اور سینیٹ کی دو تہائی اکثریت کی تمام تجاویز پر حمایت حاصل ہونا ضروری ہے۔

نئے انتظامی یونٹ؛ زمینی صورتحال

پنجاب میں مسلم لیگ ن، سندھ میں پیپلز پارٹی اور خیبر پختنوخوا میں پی ٹی آئی کی موجودہ حکومت، کوئی بھی اپنے صوبہ کو تقسیم کر کے نئے انتظامی یونٹ بنانے کے متعلق سوچنا بھی گناہ سمجھتے ہیں۔  گورننس کے کولیپس کی علامات کو جب بھی ڈسکس کیا جاتا ہے، صوبوں کی موجودہ حدود کو برقرار رکھنے کے حامی اصلاحات پر عمل کرنے اور “سسٹم کے اندر رہ کر” حل تلاش کرنے کی دلیل دیتے ہیں۔ 

کوئی متبادل راستہ؟

نئے انتظامی یونٹس کی ضرورت پر زور دینے والے   آرٹیکل    (4) 239  کے کسی متبادل راستہ کی نشاندہی کرنے میں عموماً شامل نہیں ہوتے۔

یہ بھی پڑھیئے:  پونچھ ڈویژن میں دس اگست کو پولنگ، تین جماعتوں اور بائیکاٹی قوت کا چار رُخا معرکہ 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں