6

پیڈا ایکٹ کے تحت ’’ٹرمینیشن‘‘ لاہور ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ آگیا

(ملک اشرف)لاہور ہائیکورٹ نے لاہور جنرل ہسپتال کے سیکیورٹی گارڈ کی برطرفی کا حکم کالعدم قرار دیتےہوئے ملازمت پربحال کردیا۔
لاہور ہائیکورٹ نے اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہاہے کہ باقاعدہ انکوائری کے بغیر ملازم کو بڑی سزا نہیں دی جاسکتی۔
جسٹس ملک محمد اویس خالد نے شفیق خوشنود کی درخواست پر فیصلہ جاری کیا،گیارہ صفحات کا فیصلہ عدالتی نظیر قراردیاگیاہے۔
سیکیورٹی گارڈ پر اے سی پائپ چوری کرنے اور ڈیوٹی سے غیر حاضر رہنے کا الزام عائد کیا گیا تھا،فیصلے میں کہاگیاہے کہ باقاعدہ انکوائری کے بغیر ملازم کو بڑی سزا نہیں دی جاسکتی، انکوائری ختم کرنے کی کوئی ٹھوس اور قابل جواز وجہ نہیں بتائی گئی،ملازم کو الزامات کا دفاع، گواہ پیش کرنے اور جرح کا حق حاصل ہے۔
 فیصلے میں کہاگیاہے کہ پیڈا ایکٹ میں ملازم کی ’’ٹرمینیشن‘‘ بطور سزا شامل نہیں،قانون میں ڈسمس، ریموول اور لازمی ریٹائرمنٹ جیسی بڑی سزائیں شامل ہیں،بغیر مناسب انکوائری برطرفی کا حکم آئین کے آرٹیکل 4 اور 10 اے کی خلاف ورزی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش میں ایک اور بڑی تبدیلی، مرزا فخر الاسلام صدر بن گئے
عدالت نے متعلقہ حکام کو الزامات پر قانون کے مطابق باقاعدہ انکوائری کی اجازت دے دی،عدالت نے سیکیورٹی گارڈ کے سابقہ مالی واجبات کا معاملہ بھی قانون کے مطابق طے کرنے کا حکم دے دیاہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں