
(احمد منصور) شام کے وزیر خارجہ اسعد حسن الشیبانی کا 19 سال بعد پاکستان کا اہم دورہ مکمل ہوگیا جس کے دوران اسلام آباد اور دمشق کے درمیان سیاسی، سکیورٹی اور اقتصادی تعاون مزید مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
شامی خبر رساں ادارے سریا عرب نیوز ایجنسی کے مطابق اسعد حسن الشیبانی گزشتہ بدھ اعلیٰ سطح وفد کے ہمراہ اسلام آباد پہنچے تھے، اس دورے کو دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تزویراتی تعاون کے نئے دور کا آغاز قرار دیا گیا۔
دورے کے دوران پاکستان نے شام کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کیا، جبکہ مقبوضہ گولان کے معاملے پر بھی شام کے مؤقف کی حمایت کی گئی۔ پاکستان نے ادلب کے ابو الظہور ہوائی اڈے پر اسرائیلی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا۔
شامی وزیر خارجہ نے وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور دیگر اعلیٰ حکام سے اہم ملاقاتیں کیں سریا عرب نیوز ایجنسی کے مطابق اسعد حسن الشیبانی نے ’’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے‘‘ پر دستخط کا خیرمقدم کرتے ہوئے پاکستان کے علاقائی کردار کو سراہا۔
دونوں ممالک کے درمیان عوامی اور تجارتی روابط بڑھانے کے لیے براہ راست پروازوں کی بحالی پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، جبکہ دمشق یا اسلام آباد میں سرمایہ کاری فورم کے انعقاد اور امریکا ایران کشیدگی کم کرنے میں پاکستان کے کردار پر بھی بات ہوئی۔
شامی مشیر محمد الجفال کے مطابق یہ دورہ ایسے اہم اور حساس وقت میں ہوا ہے جب دونوں ممالک کے تعلقات مزید تعاون کی جانب بڑھ رہے ہیں۔
دمشق نے ریاض، انقرہ اور اسلام آباد کے ساتھ اپنے تعلقات کو علاقائی استحکام کے لیے خصوصی اہمیت کا حامل قرار دیا ہے، جبکہ علاقائی اور عالمی ممالک کی جانب سے پاکستان کے ساتھ سیاسی، معاشی اور سکیورٹی تعاون بڑھانے میں گہری دلچسپی کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے۔






