
(انور عباس) وزیر مملکت اور پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی کے چیئرمین بلال بن ثاقب نے تین اہم ملاقاتیں کیں جن میں ہانگ کانگ اور پاکستان کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔
ہانگ کانگ میں ہانگ کانگ مانیٹری اتھارٹی کے ڈپٹی چیف ایگزیکٹو آرتھر یوئن سے ملاقات کی ہے۔ اس ملاقات میں پاکستان اور ہانگ کانگ کے درمیان ڈیجیٹل فنانس اور ٹیکنالوجی تعاون بڑھانے پر بات چیت ہوئی۔
بلال بن ثاقب نے ہانگ کانگ مانیٹری اتھارٹی کے ڈپٹی چیف ایگزیکٹو آرتھر یوئن کے ساتھ ملاقات میں ٹوکنائزڈ کیپٹل مارکیٹس، ڈیجیٹل بانڈز اور سیٹلمنٹ انفراسٹرکچر پر تبادلہ خیال کیا۔
اسلام آباد میں فارن آفس کے اعلامیہ میں بتایا گیا کہ اس ملاقات میں بلال بن ثاقب نے کہا کہ ہانگ کانگ پاکستانی ٹیکنالوجی کمپنیوں اور عالمی سرمایہ کاروں کے درمیان اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے ورچوئل اثاثہ شعبے کے لیے ریگولیٹری بنیادیں قائم کردی ہیں۔ ہمارا اگلا مقصد ریگولیٹری فریم ورک کو معاشی نتائج میں تبدیل کرنا ہے۔ پاکستان کا مقصد معتبر کمپنیوں کو سرمایا کاری کی طرف راغب کرنا اور حقیقی مالیاتی استعمال کے مواقع پیدا کرنا ہے۔
بلال بن ثاقب نے کہا کہ ٹوکنائزڈ کیپٹل مارکیٹس اور ریگولیٹری ٹیکنالوجی میں عملی پیش رفت پر توجہ مرکوز ہے۔
پاکستان نے سرکاری سیکیورٹیز، صکوک اور دیگر حقیقی مالیاتی اثاثوں کی ٹوکنائزیشن کے ہانگ کانگ ماڈل سے سیکھنے میں دلچسپی کا اظہار کیا۔
بلال بن ثاقب نے ہانگ کانگ کے سیکریٹری برائے فنانشل سروسز و ٹریژری کرسٹوفر ہوئی سے بھی ملاقات کی۔ اس ملاقات میں پاکستان اور ہانگ کانگ کے درمیان ادارہ جاتی تعاون، تکنیکی تبادلوں اور مالیاتی شعبے میں عملی اشتراک پر گفتگو ہوئی۔
بلال بن ثاقب نے ہانگ کانگ قانون ساز کونسل کے رکن ڈنکن چیو سے بھی ملاقات کی۔ اس ملاقات میں ٹیکنالوجی اور جدت پر تبادلہ خیال ہوا۔ملاقات میں فن ٹیک، ویب تھری، مصنوعی ذہانت اور سائبر سیکیورٹی میں تعاون کے امکانات زیر غور آئے۔
بلال بن ثاقب کا عالمی مالیاتی مراکز کے ساتھ محفوظ، شفاف اور مربوط ورچوئل اثاثہ ایکو سسٹم بڑھانے کا عزم ظاہر کیا۔
یہ بھی پڑھیں: لیفٹیننٹ جنرل (ر)سردار علی چودھری انتقال کرگئے






