
(ویب ڈیسک) غزہ جنگ شروع ہونے کے 2 سال 10 ماہ بعد غزہ میں ملبہ سے 112 فلسطینیوں کی لاشیں نکل آئیں، اسرائیلی حملے میں مارے گئے تھے
غزہ سول ڈیفنس نے بتایا ہے کہ غزہ سٹی کے صبرہ علاقے میں واقع ابو شریعہ اور الحسینہ خاندان کے گھروں کے ملبے سے 112 لوگوں کی لاشیں اور انسانی باقیات برآمد کی گئیں، منگل کو ان کا جنازہ ہوا۔
غزہ میں اسرائیل-حماس جنگ کی ہولناکی ایک بار پھر سامنے آئی ہے۔ غزہ سٹی میں ایک اسرائیلی فضائی حملوں کے آغاز کے کے تقریباً 2 سال 10 ماہ بعد عمارتوں کا ملبہ ہٹایا جا رہا ہے تو ملبے سے 112 لاشیں اور لاشوں کی باقیات برآمد کی گئی ہیں۔ ان لاشوں میں ایک ہی خاندان کی بڑی تعداد میں خواتین اور بچے شامل بھی ہیں۔ غزہ سول ڈیفنس کے مطابق یہ جنگ شروع ہونے کے بعد خطے میں ہونے والی سب سے بڑی اجتماعی آخری رسومات میں سے ایک ہے۔
سات اکتوبر 2023 کو حماس اور اسلامک جہاد کے ہزاروں مسلح کارکنوں کے اسرائیل کے اندر جا کر کئی سرحدی دیہات ، ایک میوزک فیسٹیول اور سرحدی فوجی پوسٹوں پر حملوں کے کچھ گھنٹے بعد اسرائیل نے غزہ میں حماس اور اسلامک جہاد کے ٹھکانوں پر بمباری اور میزائل حملوں سے جنگ کا آغاز کیا تھا جو کئی ماہ پہلے بظاہر تو بند ہو چکی ہے لیکن اب بھی غزہ میں حماس کے کارکنوں پر اسرائیل فوج کے ٹارگٹڈ حملوں کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔
غزہ سول ڈیفنس کے مطابق غزہ سٹی کے صبرہ علاقے میں واقع ابو شریعہ اور الحسینہ خاندان کے گھروں کے ملبے سے 112 لوگوں کی لاشیں اور انسانی باقیات برآمد کی گئیں۔ ان تمام کا منگل کو اجتماعی جنازہ ہوا۔ آخری رسومات کے دوران لاشوں کو اسٹریچر پر رکھ کر فلسطین کے جھنڈوں سے ڈھانپا گیا اور سینکڑوں لوگ نماز جنازہ اور ان کی تدفین میں شریک ہوئے۔
غزہ سول ڈیفنس کے مطابق 23 نومبر 2023 کو جنگ کے دوسرے مہینے میں اسرائیلی حملے میں دونوں خاندانوں کے رہائشی کمپاؤنڈ کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ اس وقت جنگ جاری ہونے کے سبب ریسکیو ٹیمیں جائے وقوع پر نہیں پہنچی تھیں۔ جولائی کے وسط میں ٹیموں کو پہلی بار وہاں پہنچنے کا موقع ملا، جس کے بعد 2 ہفتوں تک ملبے میں لاشوں کی تلاش کی مہم چلائی گئی۔
غزہ سول ڈیفنس کے آپریشن ڈائریکٹر محمد علی المغیر نے بتایا کہ ریسکیو ٹیم نے 17 دنوں تک مسلسل مہم چلا کر 112 لاشیں اور انسانی باقیات برآمد کیں۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ امدادی کارکنوں کو بقدر ضرورت مشینری نہ ہونے کی وجہ سے کنکریٹ اور مڑے ہوئے لوہے کے ڈھیر کو ہٹا کر ہاتھوں اور محدود وسائل سے ہی تلاشی مہم چلانی پڑی۔
یہ بھی پڑھیں : کوچ سرفراز احمد سے عمران خان کے بیٹوں کے انٹرویو سے متعلق سوال، ہیڈ کوچ نے کیا جواب دیا؟
غزہ سول ڈیفنس کے ترجمان محمود بسال نے بتایا کہ برآمد کی گئی لاشوں میں 44 بچے بھی شامل ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پورے غزہ میں اب بھی 8000 سے زائد لوگوں کی لاشیں ملبے کے نیچے دبی ہونے کا خدشہ ہے۔ ریسکیو مہم میں انٹرنیشل کمیٹی آف دی ریڈ کراس (آئی سی آر سی) کی جانب سے کرائے پر فراہم کیے گئے 2 ایکسکیویٹر (کھدائی مشین) کا استعمال کیا گیا۔ یروشلم میں آئی سی آر سی کے ترجمان پیٹ گریفتھس نے ’اے ایف پی‘ سے تصدیق کی کہ تنظیم نے غزہ میں دستیاب چند کھدائی مشینوں میں سے 2 مشینیں اس مہم کے لیے دستیاب کرائی تھیں۔
یہ بھی پڑھیں : ٹک ٹاک گینگسٹر نیفے میں پستولیں رکھ کر اے ایس پی کے دفتر میں جنگ کرنے لگے، گیارہ گرفتار
رپورٹ کے مطابق نومبر 2023 کے اس حملے کو لے کر اسرائیلی فوج سے جواب طلب کیا گیا تھا، لیکن اس نے اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ حالانکہ جنگ کے دوران اسرائیلی فوج کا کہنا رہا ہے کہ وہ صرف دہشت گردی کے ٹھکانوں کو نشانہ بناتی ہے۔ فوج کا الزام ہے کہ حماس شہری آبادی والے علاقوں سے اپنی مہم چلاتا ہے، جس کی وجہ سے عام لوگوں کی جان خطرے میں پڑتی ہے۔ غزہ کے حماس کے زیر کنٹرول وزارت صحت کے مطابق 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے کے بعد شروع ہونے والی اسرائیلی فوجی مہم میں اب تک 73000 سے زائد فلسطینیوں کی موت ہو چکی ہے۔ دوسری جانب ’اے ایف پی‘ کے ذریعہ اسرائیل کے آفیشیل اعداد و شمار کی بنیاد پر تیار رپورٹ کے مطابق 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے میں اسرائیل کے 1221 لوگوں کی موت ہوئی تھی، جبکہ 251 لوگوں کو یرغمال بنایا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیئے: دنیا ایوارڈ دیتی رہی، وہ تشدد کرتا رہا، اداکارہ کامیا نے شوہر کے مظالم کا راز کھول دیا






