
(24 ںیوز)نیپال میں گلیشیئر ٹوٹنے کے بعد آنے والے تباہ کن ریلے کے 9روز بعد امدادی کارکنوں نے دریائے تریشولی سے منسلک ایک ہائیڈرو پاور منصوبے کی سرنگ سے 2 افراد کو زندہ نکال لیا۔
زندہ بچائے جانے والے دونوں کارکنوں، سنجے ساہ اور کبیر مہارژن، کو ابتدائی طبی امداد کے بعد دارالحکومت کھٹمنڈو کے فوجی اسپتال منتقل کر دیا گیا، جہاں ڈاکٹروں کے مطابق ان کی حالت مستحکم ہے۔
یہ حادثہ 26 اگست کو دریائے تریشولی کے بالائی علاقے میں پیش آیا، جب گلیشیئر ٹوٹنے کے نتیجے میں برف، چٹانوں اور مٹی کا ایک بہت بڑا ریلا وادی میں داخل ہوا۔ ریلے نے دریا کے ساتھ قائم کئی ہائیڈرو پاور منصوبوں کو شدید نقصان پہنچایا اور متعدد سرنگیں بھی متاثر ہوئیں۔
امدادی حکام کے مطابق بڑی تعداد میں کارکن ان سرنگوں میں پھنس گئے تھے۔ جمعے کو ساہ اور مہارژن کو اپر تریشولی تھری اے ہائیڈرو پاور اسٹیشن کی سرنگ سے نکالا گیا۔ دونوں بالترتیب مکینیکل فورمین اور مکینیکل سپروائزر کے طور پر کام کرتے تھے۔
فوجی اہلکاروں نے موقع پر ہی سنجے ساہ کا طبی معائنہ کیا اور انہیں آکسیجن فراہم کی۔ بعد ازاں دونوں کو اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں انہیں انتہائی نگہداشت میں رکھا گیا ہے۔ اسپتال ذرائع کے مطابق ساہ کو معمولی نوعیت کی چوٹیں آئی ہیں، جبکہ کبیر مہارژن اپنے ہاتھ اور پاؤں حرکت دینے سے قاصر ہیں۔
سنجے ساہ نے امدادی کارکنوں کو بتایا کہ سرنگ میں پھنسے رہنے کے دوران وہ وقتاً فوقتاً دعائیں پڑھتے رہے۔ ان کے مطابق سرنگ کے اندر مزید تین یا چار افراد کے زندہ ہونے کا امکان ہے، جبکہ ممکن ہے کہ کچھ اور افراد سرنگ کے مزید اندرونی حصوں میں موجود ہوں۔
کبیر مہارژن کے بھائی امیر مہارژن نے بتایا کہ انہیں ابھی تک سرکاری طور پر بھائی کے زندہ ملنے کی اطلاع نہیں دی گئی تھی۔ تاہم میڈیا کے ذریعے خبر ملنے کے بعد خاندان میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔
دونوں کارکنوں کا زندہ ملنا امدادی ٹیموں کے لیے ایک بڑی امید بن کر سامنے آیا ہے۔ اس سے قبل ایک اور ہائیڈرو پاور منصوبے کی سرنگ سے کچھ کارکن حادثے کے چند گھنٹوں بعد خود باہر نکلنے میں کامیاب ہوگئے تھے۔ وہاں سے زندہ بچنے والے دھن بہادر تمانگ نے دونوں کارکنوں کے بچاؤ کو ’’معجزہ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس واقعے سے دیگر لاپتا افراد کے بھی زندہ ملنے کی امید پیدا ہوئی ہے۔
نیپالی فوج اور پولیس کی قیادت میں امدادی ٹیمیں اب بھی اپر تریشولی تھری اے اور دیگر متاثرہ سرنگوں میں تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں۔ بھارت، جنوبی کوریا اور چین کے ماہرین بھی کارروائی میں معاونت کر رہے ہیں۔ امدادی کارکنوں کو سرنگوں کے اندر تلاش کے حوالے سے ماہرین کی ایک ٹیم واٹس ایپ کے ذریعے رہنمائی فراہم کر رہی ہے۔ تلاش کے لیے ہیلی کاپٹروں اور بھاری مشینری کا بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔
اس قدرتی آفت نے نیپال کے بنیادی ڈھانچے اور آبادی کو بھی بڑے پیمانے پر متاثر کیا ہے۔ حکام کے ابتدائی اندازے کے مطابق مالی نقصان 387.5 ارب نیپالی روپے، یعنی تقریباً 2.56 ارب ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں تقریباً 20 ہزار گھروں کی دوبارہ تعمیر درکار ہے، جبکہ کم از کم 7,500 مکانات مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں۔
حکام کے مطابق سیلاب کے نتیجے میں سیکڑوں غیر ملکی شہری بھی لاپتا ہیں، جن میں بڑی تعداد سیاحوں اور زائرین کی ہے۔ آسٹریلیا نے اپنے لاپتا شہریوں کی سلامتی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے آفت سے نمٹنے کے ماہرین کی ایک ٹیم بھی نیپال روانہ کی ہے، جو تلاش اور امدادی سرگرمیوں میں حصہ لے گی۔
دو کارکنوں کا نو روز بعد سرنگ سے زندہ نکلنا اگرچہ امدادی کارروائیوں میں ایک روشن خبر ہے، تاہم متاثرہ علاقوں میں اب بھی کئی خاندان اپنے پیاروں کی واپسی کے منتظر ہیں,اگر آپ چاہیں تو میں اسے مزید مختصر، ٹی وی نیوز پیکیج، یا ویب نیوز آرٹیکل کے انداز میں بھی ڈھال سکتا ہوں۔
یہ بھی پڑھیں :نویں جماعت کے 7 لاکھ 53 ہزار 813 طلبہ و طالبات ناکام ہوگئے






