1

نیتن یاہو نے نازا کے ڈائریکٹر اوراپنے مخالفوں کی شہریت منسوخ کرنے کا قانون بنانے کا اعلان کر دیا

(ویب ڈیسک) اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو نے اعلان کیا ہے کہ  میں اسرائیل سے باہر جا کر اسرائیل کی فوج  کے بارے میں بہتان لگانے والوں کی شہریت منسوخ کرنے کا بل پیش کروں گا۔ ان کے اس اعلان کا بظاہر تناظر  NAZA فلم ہے جس کو بنانے والے اسرائیل کے بائیں بازو کے لوگوں میں شمار ہوتے ہیں۔ 
ٹائمز آف اسرائیل نے آج رپورٹ کیا ہے کہ وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ وہ بیرون ملک آئی ڈی ایف کے فوجیوں پر بہتان لگانے والوں کو سزا دینے کے لیے دو بل پیش کریں گے۔

پہلا بل ان کی شہریت منسوخ کرنے کا آپشن متعارف کرائے گا، اور دوسرا جرم ثابت ہونے پر ان کے خلاف مقدمہ دائر کرنے کی صورت میں سزا  میں اضافہ کرے گا۔ 

 نیتن یاہو نے ایک ویڈیو میں واضح طور پر اسرائیل کی ڈیموکریٹس پارٹی کے سربراہ یائر گولن،  فوج کی سابق ایڈووکیٹ جنرل یافت تومر-یروشلمی اور حالیہ فلم “NAZA” کے فلمسازوں کا حوالہ دیتے ہوئے  یہ باتیں کہیں۔

نیتن یاہو  نے کنیست کے الیکشن سے پہلے اپنے متشدد نیریٹیو میں مزید آگ بھرتے ہوئے کہا  کہ ’’ان کی جگہ یہاں نہیں ہے۔‘‘ ،مزید کہا کہ وہ توقع کرتے ہیں کہ تمام صہیونی جماعتیں ان اقدامات ( شہریتیں منسوخ کرنے کی قانون سازی) کی حمایت کریں گی۔

یہ بھی پڑھیئے:  جےڈی وینس نے امریکہ اور اسرائیل کے تعلق کی موجودہ شکل کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی بات کر دی 

چینل 12 کی رپورٹ کے مطابق، اسرائیل فلم “NAZA” پر اپنے ردعمل میں اپنا راستہ بدل رہا ہے۔

چینل 12 نیوز آؤٹ لیٹ نے نیتن یاہو حکومت کے  ایک اندرونی میمو کے  حوالے سے رپورٹ کیا کہ اسرائیل نے محسوس کیا ہے کہ آئی ڈی ایف پر غزہ کے شہریوں کو جان بوجھ کر خطرے میں ڈالنے کا الزام لگانے والی فلم نے بیرون ملک زیادہ ہنگامہ آرائی نہیں کی، اور اسرائیل کا ردعمل دراصل خود شعلوں کو ہوا دے رہا ہے۔

“فی الحال، اسرائیل (نیتن یاہو کی حکومت) کی طرف سے جارحانہ ردعمل  مباحثے  کو فلم سے ہی ان الزامات کی طرف لے جا رہا ہے کہ اسرائیل اظہار رائے کی آزادی کی اجازت نہیں دیتا،” ایک IDF ذریعہ نے چینل 12 کو بتایا۔ “اس لیے ہم اپنے میڈیا پروفائل کو کم کر رہے ہیں۔”

یہ بھی پڑھیئے:   حوثیوں کے سعودی عرب پر حملوں کے بعد جنگ خطرناک مرحلہ میں داخل ہو گئی، سعودی عرب کی حوثی ٹھکانوں پر ائیر سٹرائیکس

اسرائیلی سفارت کاروں نے نیتن یاہو کے اپنی ویڈیو جاری کرنے سے پہلے ہی نیوز  آؤٹ لیٹ چینل 12 کو بتایا کہ وزیر اعظم کا دفتر انتخابی مہم کے ایک حصے کے طور پر “سیاسی وجوہات کی بنا  پر فلم کے ارد گرد اندرونی بحث کو ہوا دے رہا ہے۔ ایک ہاتھ پروفائل کو کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ دوسرا ہاتھ شن بیٹ کے سربراہ کو تحقیقات کے لیے بھیج رہا ہے اور وزراء سے مطالبہ کر رہا ہے کہ فلم سازوں کی شہریت منسوخ کی جائے۔”

اسرائیلی سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ “اسرائیل اس درمیان پھنس گیا ہے کہ بین الاقوامی سطح پر اس کے لیے کیا صحیح ہے اور سیاست دانوں کے لیے انتخابی  سیاست میں کیا صحیح ہے”۔

یہ بھی پڑھیئے:  امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ کے خلاف مواخذے کی درخواست دائر 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں