(ویب ڈیسک) امریکہ، اسرائیل اور عرب ممالک کے اعلیٰ فوجی افسران کی گزشتہ ہفتے جرمنی میں اہم خفیہ ملاقات ہوئی جس میں ایران کے مسئلے پر غور کیا گیا۔ یہ بات امریکہ کی نیوز آؤٹ لیٹ ایکسئیس نے کل اپنی ایک رپورٹ میں بتائی ہے۔
ایکسئیس Axios کی 15 ستمبر 2026 کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ یہ ملاقات خفیہ ہے۔ ایکسئیس کی اس رپورٹ کے مطابق یہ ملاقات جرمنی میں گزشتہ ہفتے ہوئی، اسےسینٹ کوم CENTCOM کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر نے آرگنائز کیا تھا۔ اس میں امریکہ، اسرائیل اور آٹھ عرب ممالک کے اعلیٰ فوجی افسران شریک ہوئے۔
وہ سات عرب ممالک سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین، کویت، قطر، اردن، مصر ہیں۔
یہ بھی پڑھیئے: حوثیوں کے سعودی عرب پر حملوں کے بعد جنگ خطرناک مرحلہ میں داخل ہو گئی، سعودی عرب کی حوثی ٹھکانوں پر ائیر سٹرائیکس
اور رپورٹ کے مطابق سات عرب ملکوں کی فوجوں کے سینئیر افسروں کی شرکت تھی۔ یہاں ایک اہم عددی نکتہ ہے: Axios کے خلاصے میں امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ آٹھ عرب ممالک لکھے گئے ہیں، اور فہرست میں سات عرب ریاستیں واضح طور پر بیان ہو ئی ہیں۔ میڈیا رپورٹس میں جو نام سامنے آئے ہیں وہ سات ملکوں کے ہی ہیں۔ ایکسئیس کے ذرائع کے مطابق اس ملاقات کا موضوع ایران کی جنگ اور وسیع تر علاقائی کشیدگی تھا۔ Axios کے مطابق یہ کوئی پبلک سمت نہیں تھی بلکہ ایک پرائیویت میتنگ تھی، اور شریک ہونے والے ملکوں میں سے کسی بھی حکومت نے اسے پبلک نہیں کیا ۔

یہ اس لیے خاصی اہم خبر ہے کہ ایک ہی کمرے میں اسرائیلی، امریکی اور خلیجی/عرب فوجی قیادت کا اکٹھا ہونا صرف موجودہ جنگ کی پر روشنی نہیں ڈالتا بلکہ خطے میں ایک وسیع تر security سکیورٹی تعاون کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے۔ایکسئیس Axios نے اسی تناظر میں ابرہام اکارڈز Abraham Accords کے بعد اسرائیل اور بعض عرب ریاستوں کے درمیان بڑھتے ہوئے تعاون، ایرانی سرگرمیوں اور حوثی خطرے کا ذکر کیا ہے۔
اس اہم فوجی ملاقات میں کیا کوئی آپریشن پلان زیر غور تھے یا کہ کوئی مخصوص فوجی فیصلے کئے گئے، ایکسئیس نے اس بارے مین کچھ نہیں بتایا ۔ امریکی حکام نے اسے علاقائی سکیورٹی کوآپریشن کے حوالے سے بیان کیا، جبکہ Axios کی معلومات بنیادی طور پر اسرائیلی حکام سے آئی تھیں۔
Axios کی اصل رپورٹ
اسرائیل کی نیوز آؤٹ لیٹ ٹائمز آف اسرائیل نے اسی ایکسئیس کی اسی سٹوری کو فالو کرتے ہوئے خبر دی اور اسے جرمنی کے ایک ski resort میں ہونے والی ملاقات بتایا۔
بعض میڈیا رپورٹس کے مطابق ملاقات کے دوران ایڈمرل بریڈکوپر نے شئیر کیا کہ امریکی اڈوں پر ایرانی حملوں کے باوجود امریکی فوج خطے سے انخلا نہیں کرے گی، انہوں نے اپنے ہم منصبوں کو آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمدورفت بڑھانے کے امریکی منصوبے پر بھی تفصیلی بریفنگ دی۔
یہ بھی پڑھیئے: نیتن یاہو نے نازا کے ڈائریکٹر اوراپنے مخالفوں کی شہریت منسوخ کرنے کا قانون بنانے کا اعلان کر دیا
ایک اسرائیلی عہدیدار کے مطابق اسرائیلی فوج کے چیف آف اسٹاف جنرل ایال ضمیر نے دیگر شرکا کو مختلف محاذوں پر اسرائیلی فوج کے آپریشنز کے حوالے سے آگاہ کیا۔
سینٹکام نے اس ملاقات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ’جرمنی میں ایک طے شدہ کانفرنس کے دوران 8 ممالک کے اعلیٰ فوجی رہنماؤں کی میزبانی کی گئی، ان فوجی افسروں نے مشرق وسطیٰ میں سکیورٹی تعاون بڑھانے کے مواقع پر تبادلہ خیال کیا‘۔
یہ بھی پڑھیئے: جےڈی وینس نے امریکہ اور اسرائیل کے تعلق کی موجودہ شکل کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی بات کر دی






