3

تیزی سے تبدیل ہوتی ہوئی ڈیجیٹل دنیا میں بعض روایتی مضامین کی مارکیٹ ویلیو کم ہو رہی ہے,گورنر بلوچستان

کوئٹہ : گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل نے کہا ہے کہ چیزوں کی فیوچر ویلیو اور انٹرنیشنل رجحانات کو مدنظر رکھتے ہوئے وویمن یونیورسٹی میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس، میڈیکل لیب ٹیکنالوجی، ہیومن نیوٹریشن اینڈ ڈائٹری سمیت جدید اور مارکیٹ ڈریون مضامین متعارف کرائے جا رہے ہیں جن سے طالبات کو جدید سائنسی علوم اور ٹیکنالوجیکل مہارتوں سے آراستہ کرنا ہے تاکہ وہ مقامی سطح کے ساتھ ساتھ قومی اور عالمی روزگار کی مارکیٹ میں بھی اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا سکیں۔ گورنر مندوخیل نے کہا کہ ضلع ژوب میں وویمن یونیورسٹی کے کیمپس کا قیام پورے ڈویژن کی ہزاروں طالبات کیلئے اعلیٰ تعلیم کے نئے مواقع پیدا کریگا۔ دور دراز علاقوں سے تعلق رکھنے والی بہت سی باصلاحیت طالبات مالی مشکلات، سفری مسائل اور دیگر سماجی و معاشی رکاوٹوں کے باعث اپنی تعلیم جاری نہیں رکھ پاتیں۔ ژوب کیمپس کا قیام ان طالبات کو ان کی دہلیز پر ہائیر ایجوکیشن کے قریب لانے اور ان کے تعلیمی خوابوں کو عملی شکل دینے میں مدد دیگا۔ یہ بات انہوں نے گورنر ہاؤس کوئٹہ میں سردار بہادرخان وویمن یونیورسٹی کی وائس چانسلر ڈاکٹر روبینہ مشتاق سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہی ۔ اس موقع پر گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ تیزی سے تبدیل ہوتی ہوئی ڈیجیٹل دنیا میں بعض روایتی مضامین کی مارکیٹ ویلیو کم ہو رہی ہے جبکہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس، جدید لیبارٹری ٹیکنالوجی، نیوٹریشن ، ڈیٹا سائنسز اور دیگر نئے شعبے انسانی زندگی اور جدید معیشت کی اہم ضرورت بنتے جا رہے ہیں۔ اس بدلتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر ہمیں پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں کو بھی اپنے تعلیمی پروگرامز کو مستقبل قریب کی ضروریات، ہائیر ایجوکیشن پالیسی اور مارکیٹ کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری ترجیح صرف اکیڈمک ڈگریاں جاری کرنا نہیں بلکہ ایسی کوالٹی ایجوکیشن فراہم کرنا ہے جو نئی نسل کو جدید علم، ڈیجٹل اسکلز اور روزگار کے نئے مواقعوں سے منسلک کر سکے۔ تعلیمی نصاب اور مارکیٹ کی ضرورت کے درمیان موجود خلا کو کم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ ہمارے نوجوان ڈگری کے ساتھ قابلِ روزگار مہارتیں بھی حاصل کر سکیں۔ گورنر مندوخیل نے کہا کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس محض ایک نیا مضمون نہیں بلکہ صنعت، تعلیم، صحت، زراعت، فنانس اور گوڈ گورننس سمیت تقریباً ہر شعبے میں تبدیلی کا ذریعہ بن رہی ہے۔ اسلیے ہماری سرکاری یونیورسٹیوں کو مستقبل قریب کے ان شعبوں میں افرادی قوت تیار کرنے کیلئے ابھی سے سرمایہ کاری کرنا ہوگی۔ گورنر بلوچستان نے کہا کہ خواتین کو معیاری اور جدید تعلیم فراہم کرنا صرف انفرادی ترقی کا معاملہ نہیں بلکہ پورے معاشرے کی معاشی اور سماجی ترقی سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹیوں کو تحقیق، اختراع، ڈیجیٹل مہارتوں، انٹرپرینیورشپ اور صنعت سے روابط پر بھی خصوصی توجہ دینا ہوگی تاکہ طالبات تعلیم مکمل کرنے کے بعد ملازمت کے ساتھ ساتھ اپنے کاروبار اور روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا کر سکیں۔ اس موقع پر وائس چانسلر سردار بہادر خان وویمن یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر روبینہ مشتاق نے گورنر بلوچستان کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ چانسلر آفس کی بھرپور معاونت، رہنمائی اور مسلسل سرپرستی کے نتیجے میں یونیورسٹی نہ صرف مختلف انتظامی و مالی بحرانوں سے نکلنے میں کامیاب ہوئی بلکہ اس کی رینکنگ اور اسکورنگ میں بھی نمایاں بہتری آئی ہے اور یونیورسٹی کی مجموعی کارکردگی میں تقریباً دوگنا اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی میں جدید تعلیمی پروگرامز کا اجراء، تحقیق کے فروغ، تعلیمی معیار میں بہتری اور طالبات کیلئے نئے مواقع پیدا کرنے کیلئے عملی اقدامات جاری ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں