2

اے آئی کو کھلی چھٹی ملی تو کیا ہوگا؟ ماہر نے خبردار کردیا

(ویب ڈیسک)مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی تیز رفتار ترقی کے ساتھ اس کے ذمہ دارانہ استعمال، اس کی کڑی نگرانی اور حفاظتی اصولوں کی ضرورت پر بحث شدت اختیار کرتی جارہی ہے۔

پاکستان کی معروف ٹیکنالوجی کمپنی کے سی ای او آصف پیر کے مطابق اے آئی کو روکنے کے بجائے اسے ذمہ دارانہ انداز میں اپنانے اور ایسے حفاظتی اصول وضع کرنے کی ضرورت ہے جو اس ٹیکنالوجی کو انسانی کنٹرول میں رکھیں۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے آصف پیر نے کہا کہ اے آئی اس صدی کی سب سے بڑی اختراعات اور بڑی تبدیلیوں میں سے ایک ہے، اس لیے اس کی ترقی پر مکمل پابندی لگانے کے بجائے ذمہ دارانہ استعمال پر توجہ دینی چاہیے۔

ان کے مطابق دنیا بھر میں اے آئی کے شعبے سے وابستہ رہنما بھی اب اسی نکتے پر بات کررہے ہیں کہ اس ٹیکنالوجی کو انسانیت کے فائدے کے لیے اور انسانی کنٹرول کے تحت استعمال کیا جائے۔

انہوں نے مائیکروسافٹ کے چیف ایگزیکٹو کی حالیہ بات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر اے آئی انسانیت کے لیے فائدہ مند نہیں اور انسانی کنٹرول میں نہیں تو اس کا تعاقب قابلِ قدر نہیں، اسی طرح گوگل کے چیف ایگزیکٹو کی جانب سے بھی اے آئی کو جرات مندی کے ساتھ لیکن ذمہ داری سے اپنانے کی بات کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:لانگ مارچ سے قبل علی امین گنڈاپور کی طبیعت ناساز،ہسپتال منتقل،ڈاکٹروں کا آرام کامشورہ

ماہر ٹیکنالوجی آصف پیر کے مطابق اے آئی سے جوابات، معلومات اور تحقیق حاصل کی جاسکتی ہے، لیکن ان کے نتیجے میں سامنے آنے والے اقدامات اور نتائج کی ذمہ داری انسانوں پر ہی رہنی چاہیے، ان کا کہنا تھا کہ اگر اے آئی ایجنٹس کو مکمل خودمختاری دے دی جائے اور وہ بغیر انسانی نگرانی کے اپنی مرضی سے کام شروع کردیں تو ایسے نظام کو ذمہ دار اے آئی قرار نہیں دیا جاسکتا۔

انہوں نے اے آئی کے لیے ممکنہ انسانی ضابطۂ اخلاق کی وضاحت کرتے ہوئے تین اہم اصولوں کا ذکر کیا، ان کے مطابق اے آئی ایجنٹس کو انسانی کنٹرول میں رہنا چاہیے، انہیں انسانی مقاصد سے ہم آہنگ ہونا چاہیے اور ان کی سرگرمیوں کو حفاظتی حدود کے اندر محدود رکھا جانا چاہیے۔

آصف پیر نے کہا کہ اے آئی کی ترقی کی رفتار کے مقابلے میں اس ٹیکنالوجی کو ریگولیٹ کرنے، اس کی حفاظت یقینی بنانے اور گارڈ ریلز وضع کرنے والا نظام پیچھے رہ گیا ہے۔

ان کے مطابق اگر اے آئی کسی مرحلے پر انسانی کنٹرول سے باہر ہوجائے تو ایسے میں اسے قابو کرنے کے لیے مناسب نظام کا موجود ہونا ضروری ہے۔

انہوں نے تجویز دی کہ اے آئی ماڈلز اور ان سے تیار کیے جانے والے ٹولز میں حفاظتی اصول پہلے ہی سے شامل ہونے چاہئیں، ان کے مطابق اوپن سورس یا کسی بڑی ٹیکنالوجی کمپنی کے ٹولز استعمال کرتے ہوئے بھی ذمہ دار اے آئی اور اخلاقی اصولوں کو نظام کا حصہ بنانا ضروری ہے۔

آصف پیر نے کہا کہ اے آئی اس وقت تجرباتی اور تیز رفتار ترقی کے مرحلے میں ہے اور مختلف کمپنیاں جدید ماڈلز تیار کرنے کی دوڑ میں شامل ہیں۔

مزید پڑھیں:یمنی حوثیوں کاریاض کی طرف داغا بیلسٹک میزائل فضا میں تباہ

تاہم اس ٹیکنالوجی کے فوائد بھی نمایاں ہیں اور صحت، تحقیق، تعلیم، دفاع، سائبر سیکیورٹی سمیت مختلف شعبوں میں اے آئی سے استفادہ کیا جارہا ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ اے آئی سے متعلق عالمی سطح پر مشترکہ اصولوں اور ضابطۂ کار پر بات چیت ضروری ہے، کیونکہ یہ ایک عالمی ٹیکنالوجی ایکو سسٹم بن چکا ہے۔

ان کے مطابق مختلف ممالک اور کمپنیاں اگر الگ الگ اصول اپنائیں گی تو ٹیکنالوجی کے ذمہ دارانہ استعمال کو یقینی بنانا مشکل ہوسکتا ہے۔

ماہر کے مطابق اے آئی ایجنٹس کو واضح اجازتوں اور حدود کے ساتھ کام کرنا چاہیے، یعنی انہیں یہ معلوم ہو کہ وہ کون سے کام کرسکتے ہیں اور کن کاموں کی اجازت نہیں۔

انسانی نگرانی، مقصد سے ہم آہنگی اور واضح حفاظتی حدود کو اے آئی کے مستقبل کے استعمال کا بنیادی حصہ بنانے کی ضرورت ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں