8

  انگلینڈ  یا آسٹریلیا؛ ویمن ٹی ٹوینٹی ورلڈ کپ کی ٹرافی آج کون لے جائے گا؟

(وسیم عظمت)  لندن کے لارڈز گراؤنڈ پر آج ویمنز ٹی ٹوینٹی ورلڈ کپ کا آخری معرکہ ہو رہا ہے اور میزبان انگلینڈ ویمن کو  دنیا کے پرلے کونے سےآئی اپنی دور کی رشتہ دار آسٹریلیا ویمن کا سامنا ہے۔ اس ورلڈ کپ کی ترافی کو حاصل کرنے کے لئے دونوں ٹیمیں یکساں پر عزم ہیں لیکن  آسٹریلین ویمن کو ایکسپرٹس  زیادہ فیوریٹ تصور کر رہے ہیں حالانکہ میچ لارڈز میں ہو رہا ہے جو برٹش ویمن کا اپنا گھر ہے۔

برٹش ویمن کیلئے یہ ورلڈ کپ ٹرافی میچ اس لئے کچھ زیادہ خاص  ہے کہ یہ اس لئے غیرمعمولی جذباتی اہمیت رکھتا ہے کہ  ٹیم کی سینئیر موسٹ پلئیر کی زندگی میں بھی یہ میچ پہلی بار ٹرافی کو  اپنا بنا کر چومنے کا  لمحہ لا سکتا  ہے۔ برٹش ویمن نے آخری بار  2009 میں آئی سی سی  ویمنز ورلڈ کپ کا فائنل جیتا تھا اور ٹرافی کو اپنا بنا کر چوما تھا۔
 انگلینڈ نے 2009 ک میں جیتنے کے بعد  T20 ورلڈ کپ ٹرافی تک پہنچنے کے لئے سخت کوششین کیں لیکن آج شام تک کامیاب نہیں ہوئیں۔ آخری بار  8 سال پہلے  2018 کے ورلڈ کپ میں انگلینڈ ویمن کو فائنل کھیلنے کا موقع ملا تھا، تب بھی وہ کامیاب نہیں ہوئی تھیں اور اس کے بعد  ساتھ سال سے وہ فائنل تک بھی نہیں جا سکیں۔ 

آج شام لارڈز میں آسٹریلیا  ویمن اپنے ساتویں ٹائٹل کے تعاقب میں ہیں۔  بطاہر یہ دکھائی دے رہا ہے کہ یہ ایک شدید مقابلہ ہوگا۔

انگلینڈ ویمن کے لئے امکانات

 انگلینڈ کی ٹیم سے ڈینی وائٹ ہوج  Danni Wyatt-Hodge اس  ورلڈ کپ میں ٹاپ سکورنگ بیٹ ہیں۔

آسٹریلیا کی سپرسینسیشن  بیتھ مونی ہیں جو اس وقت ٹی ٹوینٹی انٹرنیشنل کرکٹ میں نمبر ٹو بیٹر ہیں۔ انہوں نے فائنل میں آسٹریلیا کی جگہ کو محفوظ بنانے میں بہت بڑا کردار ادا کیا۔


لارڈز آئی سی سی ویمنز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 کے فائنل کے لیے تیار ہے۔ اس گیم میں انگلینڈ ویمن اور آسٹڑیلیا ویمن  آمنے سامنے ہوں گی، دونوں  ٹیموں نے متعدد لڑائیاں جیتی ہیں اور اس پورے ٹورنامنٹ میں ناقابل شکست رہیں۔ 

آج شام دو گھنٹے بعد شروع ہونے والے ٹی توینٹی کے اس عظیم معرکہ میں جو  22 بہترین پلئیر اپنے ہنر دکھائیں گی ان میں سے نمایاں ترین یہ ہیں۔ 

نیٹ سکی ور برنٹ
انگلینڈ کی سٹار آل راؤنڈر نیٹ سکیور برنٹ کو مکمل پرفارمنس دینا ہو گی اور ان کا شمار عالمی کرکٹ کی بہترین آل راؤنڈرز میں ہوتا ہے۔ ساؤتھ افریقہ کے ساتھ ایک حالیہ میچ میں سکیور برنٹ نے 47 گیندوں  سے گیارہ چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے شاندار 75 رنز بنائے تھے۔ وہ 159.57 کے اسٹرائیک ریٹ سے بیٹنگ کر رہی تھیں۔ اس کی مہارت انگلینڈ کو بغیر کسی رکاوٹ کے  ایک اچھا مجموعہ ترتیب دینے میں بنیاد فراہم کرے گی۔ اگر انگلینڈ پہلے بیٹنگ لینے میں کامیاب ہوئی تو سکیور کو زیادہ وائیٹل چانس ملے گا کہ خود  اپنا ریکارڈ بھی اوپر لے جائیں اور اس کے ساتھ انگلینڈ کو ایک  ناقابل شکست رن ریٹ تک لے جائیں۔

ڈینی وائٹ ہوج
انگلینڈ کی ٹیم کے ڈینی وائٹ ہوج اس وقت ورلڈ کپ میں ٹاپ سکورنگ بیٹرز کے  چارٹس میں سرفہرست ہیں۔  انہوں نے 73.50 کی اوسط سے 294 رنز بنائے ہیں۔ ان نمبروں کے ساتھ، وہ پاور پلے مرحلے کے دوران ہی کھیل کو  آسٹریلیا  ویمن کی دسترس سے  دور کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ ان کی مہم کی خاص بات سری لنکا کے ساتھ میچ میں 105 رنز  اور نیوزی لینڈ کے خلاف 89 ​​رنز ہے۔ آسٹریلیا کے نئے گیند باؤلرز پر حملہ کرنے کی ان  کی صلاحیت انگلینڈ کی اننگز کو  ڈکٹیٹ کر سکتی ہے اور پورے میچ کے لیے ٹون سیٹ کر سکتی ہے۔

آسٹریلیا ویمن کی سٹرنتھ میں نمایاں  دو پلئیر  بیتھ مونی اور سوفی مولینکس ہیں۔

بیتھ مونی
آسٹڑیلیا ویمن ٹیم کے پاس ان کی وکٹ کیپر بیتھ مونی ہیں، جو ان کے لیے ایک بڑی میچ اینکر ہیں۔ بہت زیادہ دباؤ میں پرسکون رہنے کی اس کی صلاحیت ہائی پریشر کے لمحات کے دوران تیز ہونے کے دوران ضروری ہوگی۔ مزید برآں، وہ ٹی ٹوینٹی انٹرنیشنل کرکٹ  کی نمبر ٹو بیٹر   ہیں اور انہوں نے سیمی فائنل میں ویسٹ انڈیز کے ساتھ منیچ میں 36 گیندوں پر 61 رنز بنا کر فائنل میں آسٹریلیا کی جگہ کو محفوظ بنانے میں بہت بڑا کردار ادا کیا، جس سے وہ ٹیم کی ایک اہم رکن بن گئیں جو ممکنہ طور پر انگلینڈ کے معنی میں بہترین باؤلرز سے بھی نمٹ سکتی ہیں۔

سوفی مولینکس
سوفی مولینکس، آسٹریلوی خواتین ٹیم کی کپتان دباؤ میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے میں کامیاب رہی ہیں اور فی الحال اس سیزن میں سب سے زیادہ وکٹیں لینے کے لیے ہیلی میتھیوز کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہیں، جنہوں نے 6.50 کے اکانومی ریٹ سے دس سکلپس لیے ہیں۔ اس ٹورنامنٹ میں ان کی کارکردگی کی خاص بات ویسٹ انڈیز کے خلاف سیمی فائنل میں صرف 30 رنز دیتے ہوئے دو وکٹیں حاصل کرنا ہے۔ اس کارکردگی کے ذریعے، اس نے واضح کیا ہے کہ وہ دباؤ میں اچھی طرح سے کام کر سکتی ہیں اور پاور پلے اور درمیانی اوورز کے دوران اپنی درستگی، تغیر اور تال کے ذریعے ڈیلیور کر سکتی ہیں۔ اپنی باؤلنگ کے علاوہ وہ تمام دباؤ کے لمحات میں آسٹریلوی ٹیم کی رہنمائی کرنے میں بھی کامیاب رہی ہیں۔

انگلینڈ ویمن کا ٹی توینٹی ورلڈ کپ فائنل کا ریکارڈ بہت مختصر ہے؛ دچارکھیلے، ایک جیتا، تین ہارے۔ آج کا فائنل میچ اس لئے ہی اہم ہے کہ ہوم وکٹ پر  اپنی بہترین ٹیم کے ساتھ انگلینڈ ویمن ہسٹری کو از سر نو ترتیب دینے کی واقعی پوزیشن میں ہیں۔ پہلی  ٹرافی بھی انہوں نے ہوم وکٹ پر ہی  جیتی تھی۔  انگلینڈ نے ہوم گراؤنڈ پر کھیلے گئے پہلے افتتاحی ویمنز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2009 کے فائنل میں نیوزی لینڈ کو ہرا کر ٹرافی اٹھائی تھی۔ 
 اس کے بعد انگلینڈ کی ٹیم 2012، 2014 اور آخری بار 2018 کے فائنل میں پہنچی تھی، لیکن ان تینوں بار اسے آسٹریلیا کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

انگلینڈ کی ٹیم میں 2018 کا فائنل کھیلنے والی کھلاڑی
 انگلینڈ کی موجودہ ٹیم میں 6 انتہائی تجربہ کار کھلاڑی ایسی موجود ہیں جو 2018 کے اس آخری فائنل کی پلیئنگ الیون یا اسکواڈ کا حصہ تھیں۔ ان کھلاڑیوں کے نام یہ ہیں:
ہیتھر نائٹ (Heather Knight): یہ 2018 کے فائنل میں بھی ٹیم کی کپتان تھیں۔
نیٹ اسکیور برنٹ (Nat Sciver-Brunt): موجودہ کپتان، جو 2018 کے فائنل میں بطور آل راؤنڈر سرفہرست تھیں۔
ڈینی وائٹ ہووج (Danni Wyatt-Hodge): انگلینڈ کی اسٹار اوپنر بیٹر۔
ایمی جونز (Amy Jones): ٹیم کی وکٹ کیپر بیٹر۔
صوفی ایکلسٹن (Sophie Ecclestone): دنیا کی صفِ اول کی اسپنر، جو 2018 میں محض 19 سال کی عمر میں فائنل کھیلی تھیں۔
صوفیہ ڈنکلی (Sophia Dunkley): مڈل آرڈر بیٹر، جو 2018 کے اسکواڈ کا حصہ تھیں۔ 

 اس کے علاوہ موجودہ اسکواڈ میں شامل لیفٹ آرم سپنر لنسی سمتھ (Linsey Smith) بھی 2018 کے ورلڈ کپ اسکواڈ کا حصہ رہ چکی ہیں۔
یہ تجربہ کار کور گروپ (Core Group) لارڈز کے میدان پر آسٹریلیا کے خلاف ماضی کی فائنل ہار کا بدلہ لینے اور 17 سال بعد تاریخ دہرانے کے لیے انگلینڈ کا سب سے بڑا ہتھیار ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں