9

مصر اور آسٹریلیا کا میچ؛ ایشیا کی آخری امید! مصری سٹار صلاح کو آسٹریلیا کیسےروکےگا؟

(وسیم عظمت)براعظم ایشیا اور براعظم آسٹریلیا میں سے کون فیفا ورلڈ کپ کے 16 کے راؤنڈ میں رہے گا، کس براعظم کا پتہ کٹ جائے گا، اس کا دارومدار آسٹریلیا اور مصر کے آج رات ہو رہے میچ پر ہے۔ مصر ایشیا کی فٹ بال کے میگا ایونٹ میں ایشیا کی آخری ٹیم ہے اور آسٹریلیا  براعظم آسٹریلیا سے ورلڈ کپ میں آنے والی دو ٹیموں میں سے آخری ٹیم ہے۔

فیفا کا ریکارڈ؛ آسٹریلیا ایشیا میں اور مصر افریقہ میں

امریکہ، میکسیکو اور کینیڈا میں ہو رہے فٹ بال کے فیفا ورلڈ کپ کا آغاز ہوا تو  ایشیا سے8ٹیمیں 48 ٹیموں میں شامل تھیں۔ ان میں سے سات ہار چکی ہیں اور صرف مصر باقی ہے۔ فیفا کی کنفیڈریشنوں کی فہرستیں البتہ مختلف ہیں۔ ان فہرستوں میں آسٹریلیا بھی ایشیا کی کنفیڈریشن سے منسلک ہے اور مصر افریقہ کی کنفیڈریشن کا حصہ ہے۔ فیفا کیے آفیشل ریکارڈ کے مطابق آج 3 جولائی تک صرف آسٹریلیا ہی ایشیا کی ورلڈ کپ کے میدان میں باقی ٹیم رہ گئی ہے۔

نیوزی لینڈ کی حیثیت

فیفا کی تنظیم نیوزی لینڈ کو الگ علاقہ شمار کرتی ہے اور اسے آسٹریلیا کی طرح ایشیا کی کنفیڈریشن کا حصہ نہیں مانتی، فیفا ورلڈ کپ میں نیوزی لینڈ کو  او ایف سی  کی نمائندہ ٹیم  کی حیثیت سے براہ راست شرکت کا موقع دیا گیا۔اوشینیا (OFC) کو فیفا ورلڈ کپ 2026 میں پہلی بار ایک ڈائریکٹ کوالیفائنگ سپاٹ (براہِ راست سیٹ) ملی تھی۔ نیوزی لینڈ نے اپنے خطے کے کوالیفائرز جیت کر اس تاریخی سیٹ پر قبضہ کیا اور ورلڈ کپ 2026 کے لیے کوالیفائی کیا لیکن نیوزی لینڈ گروپ جی کے میچوں میں ہی فارغ ہو کر میگا ایونت سے باہر ہو گئی۔

کون سی ایشیائی ٹیمیں ورلڈ کپ سے باہر ہو چکیں؟

  فیفا کے آفیشل ریکارڈ کے مطابق، 2026 کے فیفا ورلڈ کپ میں ایشین فٹبال کنفیڈریشن (AFC) سے منسلک  ریکارڈ 9 ٹیموں نے شرکت کی تھی۔ ان ٹیموں میں  جاپان، جنوبی کوریا، ایران،  سعودی عرب، قطر، عراق،  اردن،  ازبکستان

آسٹریلیا (فٹبال ریکارڈز کے مطابق) شامل تھیں۔  ان ٹمیوں میں سے آسٹریلیا کے سوا تمام ٹیمیں  اب ٹورنامنٹ سے فارغ ہو چکی ہیں۔

افریقہ کی نمائندگی کی صورتحال

جغرافیائی، سیاسی اور ثقافتی اعتبار سے مصر کو ایشیا کا حصہ مانا جائے اور آسٹریلیا کو براعظم آسٹریلیا کا نمائندہ تصور کیا جائے تو آج کچھ گھنٹے بعد ہونے والے میچ میں جب مصر اور آسٹریلیا آمنے سامنے آئیں گے تو یہ طے ہو گا کہ کیا ایشیا کو 16 کے راؤنڈ میں جگہ ملے گی یا مکمل صفایا ہو جائے گا؟

براعظم افریقہ سے گھانا  واحد ٹیم ہے جس کا میچ باقی ہے اور جس کے 16 کے راؤنڈ تک جانے کا امکان باقی ہے۔ اگر مصر کو بھی ایشیا کی بجائے افریقہ کا حصہ مانا جائے تو مصر اور گھانا دو ملکوں کے آگے جانے کا امکان اب تک باقی ہے۔

گھانا کا آخری میچ کولمبیا کے ساتھ ہونا ہے۔

مصر اور  آسٹریلیا کا میچ؛ دو براعظموں کی امید؟

پاکستانی وقت کے مطابق  رات11 بجے ٹیکساس کے شہر آرلنگٹن کے ڈلاس سٹیڈیم میں مصر اور آسٹریلیا کا میچ ہو گا جو طے کرے گا کہ دونوں میں سے کون سی ٹیم پری کوارٹر فائینلز یعنی 16 کے راؤنڈ میں جائے گی۔ 

اگر فیفا کی تنظیمی تقسیم کو مانا جائے تو آسٹریلیا براعظم ایشیا کی کنفیڈریشن کی آخری امید ہے اور مصر براعظم افریقہ کی کنفیڈریشن کی گھانا کے ساتھ دوسری باقی امید ہے۔

اگر ایشیائی باشندوں کے  جغرافیہ کے متعلق عمومی تصور کے تناظر میں دیکھا جائے تو مسر ایشیا کی فیفا ورلڈ کپ میں بقا کی آخری آس ہے  اور آسٹریلیا براعظم آسٹریلیا کی اس میگا ایونٹ میں بقا کی اکلوتی امید ہے۔

پروفیشنل فورکاسٹ کیاہے؟

مصر اور آسٹریلیا کے میچ سے پہلے یہ فورکاسٹ کی جا رہی ہیں کہ مصر کی آسٹریلیا کی ٹیم کر معمولی برتری حاصل ہے اور اس کے جیتنے کا امکان  40 فیصد اور آسٹریلیا کے جیتنے کا امکان 27 فیصد ہے۔ باقی امکان میچ کے 90 منٹ کے کھیل میں ڈرا ہونے کا ہے۔ کیونکہ ناک آؤٹ راؤنڈ میں کوئی میچ ڈرا نہیں ہوتا اس لئے  کہا جا سکتا ہے کہ مصر  کے جیتنے کا امکان 54 فیصد اور آسٹریلیا کے جیتنے کا امکان  46 فیصد ہے۔

عرب ملکوں کے فٹ بال فینز مصر کے عربی سپیکنگ بیک گراؤنڈ کی وجہ سے اور پاکستان، انڈیا جیسے ملکوں کے مسلم فٹ بال فینز مصری کھلاڑیوں کے مسلمان ہونے کی وجہ سے ان کو جیتتے ہوئے دیکھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ آسٹریلیا بظاہر تو براعظم آسٹریلیا کا ملک ہے لیکن ثقافتی اعتبار سے آسٹریلین کھلاڑیوں کو انگلینڈ اور امریکہ کے فینز کی بھی سپورٹ حاصل رہتی ہے۔

صلاح کیا کر سکتا ہے؟ آسٹریلیا کیلئے کیا سٹریٹیجی محفوظ ہوگی؟

مصر کا سٹرائیکر محمد صلاح اپنی اب تک کی پرفارمنس کی وجہ سے فٹ بال کے فینز کی  خاص توجہ کا مرکز ہے اور وہی آج کے میچ میں آسٹریلیا کی سٹریٹیجی کا بھی مرکز ہو گا۔

ایک تاثر یہ ہے کہ ممکن ہے کہ آسٹریلیا کے کوچ اور کیپٹن آج کے ڈو آر ڈائی میچ میں صلاح کو روکنے کے لئے دو کھلاڑیوں کو اس پر مامور کرنے کابڑا رسک لے لیں۔ اگر ایسا ہوا تو  یہ آسٹریلیا کے لیے ایک دلچسپ مگر خطرناک توازن ہوگا۔

اگر وہ واقعی Mohamed Salah پر دو کھلاڑی مستقل لگا دیتے ہیں، تو مصر کے دوسرے حملہ آوروں کے لیے جگہیں پیدا ہوں گی۔ خاص طور پر مصر کے دوسرے سٹرائیکر عمر مرموش  Omar Marmoush سب سے بڑا فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں گے۔ وہ صرف اسٹرائیکر نہیں، بلکہ بائیں جانب سے اندر آ کر ہاف اسپیس میں کھیلنے میں بھی مہارت رکھتے ہیں۔ جب آسٹریلیا کے دو کھلاڑی مدافع صلاح کی طرف کمتوجہ رہیں گے تو مارموش کو گیند  حاصل کرنے اور ڈرائیو کرنے کی زیادہ گنجائش مل سکتی ہے۔


مصر کا دوسرا اسٹرائیکر یا اٹیکنگ مڈفیلڈر بھی “سیکنڈ بال” اور خالی زونز تلاش کرے گا۔ اگر صلاح گیند لے کر دو آسٹریلین ڈیفینڈرز  کو اپنی طرف کھینچ لیں تو درمیان میں مصر کا ایک کھلاڑی عارضی طور پر آزاد ہو جاتا ہے۔
مصر کے فل بیکس، خاص طور پر اگر وہ آگے بڑھنے کی ہمت کریں، تو اوورلیپنگ رنز سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں کیونکہ آسٹریلیا کی دفاعی توجہ دائیں جانب صلاح پر مرکوز ہوگی۔
لیکن ایک اہم نکتہ بھی ہے کہ صلاح کو “ڈبل مارک” کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ دو کھلاڑی ہر وقت ان کے ساتھ چپکے رہیں۔ جدید فٹ بال میں عموماً ایک ڈیفینڈر سامنے سے پریشر دیتا ہے جبکہ دوسرا کور (cover) فراہم کرتا ہے۔ اگر دونوں واقعی صلاح کے ساتھ چمٹ جائیں تو وہ خود آسٹریلیا کے دفاع میں خلا پیدا کر دیں گے، جس کا مصر فائدہ اٹھا سکتا ہے۔

آسٹریلیا کیلئے متبادل سٹریٹیجی

آسٹریلیا کے لئے اس کے متبادل سٹریٹیجی یہ ہو سکتی ہے کہ صلاح کو گیند ملنے پر فوری طور پر دوہرا دباؤ۔
لیکن گیند دوسری سمت جاتے ہی فوراً دفاعی شکل (shape) بحال کرنا۔
بنیادی مقصد یہ نہ ہو کہ صلاح ہر حال میں  قابو میں رہے، بلکہ یہ ہو کہ  صلاح خطرناک علاقوں میں مڑ کر کھیل نہ سکے اور ٹارگٹ پر ہٹ کرنے تک نہ جا سکے۔


دلچسپ بات یہ ہے کہ صلاح کی عظمت صرف گول کرنے میں نہیں، بلکہ مقابل ٹیم کے دفاع کو اپنی طرف کھینچنے میں بھی ہے۔ بعض اوقات وہ خود سکور نہیں کرتا، مگر اس کی موجودگی سے ساتھی کھلاڑیوں کے لیے دروازے کھل جاتے ہیں۔ یہی چیز آسٹریلیا کے لیے اصل امتحان ہوگی۔

 یہ بھی پڑھیں:  فیفا ورلڈکپ؛سیلفی لینے سے روکنے پر مصری ٹیم مینجر اور امریکی اہلکار میں تلخ کلامی 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں