
(ملک رحمان)وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہاہے کہ دہشت گردی ہم پر مسلط کی گئی، امن کے مکمل قیام تک اس کے خلاف جنگ جاری رکھیں گے،بند کمروں میں ہونے والے فیصلوں نے ملک کو بدامنی کی طرف دھکیلا، مگر خیبرپختونخوا پولیس نے 22 سال سے دہشت گردی کے خلاف بے مثال قربانیاں دی ہیں۔
تفصیلات کے مطابق خیبرپختونخوا پولیس فورس کی افرادی قوت اور آپریشنل کیپیسٹی میں اضافے کے سلسلے میں اہم پیش رفت ہوئی ہے،صوبے کے آٹھوں ڈویژنز سے 4306 پولیس کانسٹیبلز کی بھرتی مکمل ہونے پروزیر اعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے تقرری کے حکم نامے تقسیم کیے۔
اس دوران گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ امید ہے جس میرٹ پر آپ کی بھرتی ہوئی، اسی میرٹ، دیانتداری اور ایمانداری کو اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں بھی برقرار رکھیں گے،خیبرپختونخوا میں بانی چیئرمین عمران خان کے وژن کے مطابق میرٹ اور شفافیت کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے،خیبرپختونخوا پولیس، سی ٹی ڈی اور سپیشل برانچ ملک میں اپنی بہترین پیشہ ورانہ کارکردگی کی بدولت نمایاں مقام رکھتی ہیں،آج آپ ایک عظیم فورس کا حصہ بن رہے ہیں، اس کی عزت، وقار اور روایات کا ہر حال میں خیال رکھیں۔
ان کا کہنا تھاکہ گزشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصے سے خیبرپختونخوا پولیس دہشت گردی کے خلاف صف اول میں لڑ رہی ہے،بند کمروں میں ہونے والے فیصلوں نے ملک کو بدامنی کی طرف دھکیلا، مگر خیبرپختونخوا پولیس نے 22 سال سے دہشت گردی کے خلاف بے مثال قربانیاں دی ہیں،خیبرپختونخوا پولیس کی قربانیوں اور جرات کو سلام پیش کرتا ہوں،اپنے مقصد پر ثابت قدم رہیں، کسی بھی دباؤ یا مداخلت کے سامنے نہ جھکیں،جرائم کے خاتمے اور دہشت گردی کے خلاف مؤثر کارروائی آپ کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کا کہنا تھا کہ عوام سے خوش اخلاقی، احترام اور انصاف کے ساتھ پیش آنا ہی ایک اچھے پولیس اہلکار کی پہچان ہے،صوبائی حکومت پولیس فورس کی ہر مرحلے پر مکمل معاونت جاری رکھے گی،خواتین کانسٹیبلز کی شمولیت خوش آئند ہے، صوبائی حکومت خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ خواتین کے لیے انٹرن شپ پالیسی، بلاسود قرضوں اور دیگر حکومتی پروگراموں میں برابر کا حصہ دیا جائے گا،آئین ہر شہری کو پرامن احتجاج کا حق دیتا ہے،گزشتہ 78 برس سے جمہوری عمل کو محدود کیا جاتا رہا اور اس کا الزام سیاستدانوں پر عائد کیا جاتا رہا،میں نے وزیر اعلیٰ بننے کے بعد ہر قانونی دروازہ کھٹکھٹایا مگر انصاف فراہم نہیں کیا جا رہا۔
ان کا کہنا تھا کہ 26 نومبر اور 9 مئی کے واقعات میں ہمارے نہتے کارکنوں پر فائرنگ کی گئی ،26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کے بعد عدالتوں کو مفلوج کر دیا گیا ہے۔
سہیل آفریدی کا مزید کہنا تھا کہ سیاسی جلسوں پر ایف آئی آرز درج کی جاتی ہیں، یہاں تک کہ کم عمر بچوں کو بھی مقدمات میں نامزد کیا جاتا ہے،دوسری جانب ڈرون حملوں میں قیمتی جانوں کے ضیاع کے باوجود قانونی کارروائی نہیں ہوتی۔
یہ بھی پڑھیں : ضلع مری کے سکولوں میں گرمیوں کی تعطیلات کا اعلان






