
(انور عباس) ترجمان دفتر خارجہ نے برطانیہ میں بچوں کے جنسی استحصال کے کیس میں گرفتار شبیر احمد سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے پاکستان کا تفصیلی موقف پیش کر دیا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ ایسے گھناؤنے جرائم کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی جاتی ہے،ان کا کہنا تھا کہ ایسے سنگین جرائم میں ملوث افراد کے خلاف مکمل اور غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں، انہیں قانون کے مطابق انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے اور انہیں نسل، قومیت یا مذہب سے بالاتر ہو کر قانون کی مکمل سختی کے ساتھ سزا دی جائے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے زیرِ بحث معاملہ مکمل طور پر برطانیہ کا داخلی معاملہ ہے،متعلقہ فرد برطانوی شہری ہے جس نے اپنی پوری بالغ زندگی برطانیہ میں گزاری،ملزم برطانوی سرزمین پر کیے گئے قابلِ مذمت جرائم کے باعث برطانوی عدالت سے سزا یافتہ ہے۔
اس فرد کی رہائی، نگرانی یا مستقبل کی قانونی حیثیت سے متعلق ہر فیصلہ صرف اور صرف برطانیہ کے مجاز حکام کے دائرۂ اختیار میں آتا ہے اور اس کا فیصلہ برطانیہ کے قوانین کے مطابق ہی ہونا چاہیے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ اس فرد کی جائے پیدائش سے قطعِ نظر، اصل ذمہ داری اس ماحول پر عائد ہوتی ہے جہاں وہ پروان چڑھا، تربیت ہوئی، ذہن سازی کی گئی، اور بدقسمتی سے وہ بگاڑ کا شکار ہوا، اس کے گھناؤنے جرائم متقاضی ہیں کہ ان کے اسباب پر سنجیدہ غور و فکر کیا جائے، نہ کہ غیر متعلقہ یا بیرونی عوامل میں ذمہ داری تلاش کی جائے۔
یہ بھی پڑھیں: محسن نقوی اور پی آئی اے کے وفد کی بوئنگ کے پریذیڈنٹ برینڈن نیلسن کےساتھ ملاقات






