4

مولانا فضل الرحمان کے گھر پر ڈرون کیمرے کے ذریعے ویڈیو بنانا اور اسے سوشل میڈیا پر وائرل کر کے ان کی فیملی کو ہراساں کرنا کس قانون نے اجازت دی ہے؟جے یو آئی گوادر

جمعیت علماءاسلام پاکستان کے مرکزی امیر مولانا فضل الرحمان کے گھر پر ڈرون کیمرے کے ذریعے ویڈیو بنانا اور اسے سوشل میڈیا پر وائرل کر کے ان کی فیملی کو ہراساں کرنا کس قانون نے اجازت دی ہے؟

جمعیت علماءاسلام ضلع گوادر

جمعیت علماءاسلام ضلع گوادر کے امیر مفتی رحمت اللہ شاھ عباسی جنرل سیکرٹری مولانا محمدخیر فاروقی ودیگرنےاپنے مذمتی بیان جاری کرتےھوٸےکھاکہ
کیا آئین پاکستان کی کتاب میں کہیں لکھا ہے کہ ایک محب وطن سیاستدان کے گھر کی چادر اور چار دیواری کو پامال کیا جائے؟
کیا پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 354، الیکٹرانک کرائمز (PECA) ایکٹ 2016، اور آرٹیکل 14 جو ہر شہری کے گھر کے تقدس کی ضمانت دیتا ہے، وہ مولانا فضل الرحمان کے لیے معطل ہو گیا ہے؟

آج سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان میں سیاستدانوں کو اس طرح بلیک میل کیا جا رہا ہے؟ کیا مولانا فضل الرحمان کو پاکستان سے محبت، آئین کی بالادستی، اور جمہوریت کی بات کرنے کی سزا دی جا رہی ہے؟

مولانا فضل الرحمان وہ شخصیت ہیں جنہوں نے ہمیشہ پاکستان، اسلام اور جمہوریت کی بات کی ہے، جنہوں نے ہر مشکل وقت میں ملک کے لیے اتحاد کی بات کی۔ ان کے گھر پر اس طرح کی بچگانہ اور گھٹیا حرکت کرنا دراصل ان کی سیاسی قد کاٹھ سے خوف کی علامت ہے۔

پاکستان میں آزادی اظہار رائے پر کب سے پابندی لگی ہوئی ہے؟ کیا ایک سیاسی رہنما کو اپنی رائے رکھنے کا حق نہیں رہا؟ اور یہ ساری حرکتیں کس کے کہنے پر کی جا رہی ہیں؟ قوم جاننا چاہتی ہے۔

یہ ڈرون کیمرہ کےفوٹیج کسی ایک گھر پر نہیں، یہ پاکستان کی سیاست، اخلاقیات اور جمہوری روایات پر حملہ ہے۔ ہم اس کی شدید مذمت کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ اس واقعہ میں ملوث عناصر کو بے نقاب کر کے قانون کے مطابق سزا دی جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں