
(ملک اشرف)لاہور ہائیکورٹ نے عدالتی حکم پر عمل درآمد نہ کرنے اور مطلوبہ واٹس ایپ چیٹ کا ریکارڈ پیش کرنے میں ناکامی پر ایف آئی اے کی تفتیش پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ایس ایچ او ایف آئی اے فیصل آباد اجمل کو تاحکم ثانی معطل کرنے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے ڈی جی ایف آئی اے کو آئندہ سماعت پر ایک سینئر افسر متعلقہ ریکارڈ سمیت پیش کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔
جسٹس امجد رفیق نے ملزم شاہد حمید کی درخواستِ ضمانت پر سماعت کے بعد تحریری حکم جاری کیا۔تحریری حکم کے مطابق گزشتہ سماعت پر ایس ایچ او ایف آئی اے فیصل آباد اجمل نے عدالت کو بتایا تھا کہ درخواست گزار کی واٹس ایپ چیٹ ریکارڈ پر موجود ہے جو اس کے مبینہ کردار کی نشاندہی کرتی ہے۔ اس پر عدالت نے سماعت ملتوی کرتے ہوئے حکم دیا تھا کہ درخواست گزار اور شریک ملزمان یا متاثرین کے درمیان ہونے والی متعلقہ واٹس ایپ گفتگو کا ٹرانسکرپٹ پیش کیا جائے تاکہ مقدمے میں درخواست گزار کے مبینہ کردار کا جائزہ لیا جا سکے۔عدالت نے قرار دیا کہ آئندہ سماعت پر ایس ایچ او ایف آئی اے مطلوبہ عدالتی حکم پر عمل درآمد نہ کر سکا۔ عدالت کے مطابق ایس ایچ او نے درخواست گزار کی واٹس ایپ چیٹ پیش کرنے کے بجائے شریک ملزم احمد شاہد اور متاثرہ فریق عمر عنایت کے درمیان ہونے والی گفتگو کا ٹرانسکرپٹ پیش کیا، جو عدالتی حکم کی تعمیل نہیں تھا۔جسٹس محمد امجد رفیق نے ریمارکس دیے کہ ایف آئی اے عدالتی حکم پر عمل درآمد میں ناکام رہی ہے، لہٰذا ایس ایچ او ایف آئی اے فیصل آباد اجمل کو آئندہ حکم تک معطل کیا جاتا ہے۔عدالت نے اپنے حکم میں ڈی جی ایف آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ اس مقدمے میں عدالت کی معاونت کے لیے ایک سینئر افسر مقرر کریں، جو آئندہ سماعت پر متعلقہ ریکارڈ کے ساتھ عدالت میں پیش ہو۔لاہور ہائیکورٹ نے مزید کارروائی کے لیے کیس کی سماعت 22 جولائی تک ملتوی کر دی۔
یہ بھی پڑھیں:بیٹے نے ائیر کنڈیشنر چلانے سے منع کرنے پر باپ کو قتل کر دیا






