
(ویب ڈیسک) لوئر دیر کے علاقے لڑم ٹاپ رباط درہ میں سرچ آپریشن کے دوران خوارجی دہشتگردوں کے گروہ نے چھپ کر پولیس پارٹی پر حملہ کر دیا۔ خوارجی دہشتگردوں اور پولیس کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں 3 پولیس اہلکار شہید ہو گئے جبکہ 15 اہلکار زخمی ہو گئے۔ خارجیوں کے حملے کا پولیس نے بھرپور اور بہادری سے مقابلہ کیا، لوئر دیر میں متعدد خارجی جہنم واصل کر دیئے گئے، کارروائی کے دوران خوارج کو بھاری نقصان پہنچایا گیا۔
پولیس کے ترجمان کے حوالے سے میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ اس انکاؤنٹر میں 3 اہلکاروں کے شہید ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔ شہید ہونے والوں میں کانسٹیبل ریاض اورکانسٹیبل محب خان شامل ہیں۔ زخمی ہونے والے اہلکاروں کو ہیڈکوارٹر ہسپتال تیمرگرہ منتقل کیا گیا جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ شدید زخمی اہلکاروں کو مزید علاج کے لیے پشاور منتقل کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سوات: جھیل سیف اللّٰہ میں کشتی الٹ جانے سے 7 افراد کی موت، انکوائری رپورٹ میں اہم انکشافات
اس واقعے کی اطلاع ملتے ہی مقامی سیاسی اور سماجی شخصیات، منتخب عوامی نمائندے اور عوام بڑی تعداد میں تیمرگرہ کے ہسپتال پہنچ گئے۔ پولیس کی جانب سے علاقے میں سرچ آپریشن مزید سخت کر دیا گیا ہے۔
خیبرپختونخوا پولیس کے آئی جی ذوالفقار حمید نے بتایا ہے کہ خارجیوں کے حملے کا پولیس نے بھرپور اور بہادری سے مقابلہ کیا، لوئر دیر میں متعدد خارجی جہنم واصل کر دیئے گئے، کارروائی کے دوران خوارج کو بھاری نقصان پہنچایا گیا۔
آئی جی ذوالفقار حمید نے کہا کہ پولیس فورس کے عزم، حوصلےمیں کوئی کمی نہیں آئی، دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ریاست پوری قوت سے اس کا مقابلہ کر رہی ہے، خیبرپختونخوا میں پائیدار امن کے قیام کیلئے نئی حکمت عملی پر عملدرآمد جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیئے: فرنچ پارلیمنٹ نےجان لیوا لاعلاج مرض کے مریضوں کو مرنے کی آزادی دینے کا قانون منظور کر لیا






