4

آبنائے ہرمز کے خطرات !  عراق کیوں اہم بن گیا؟

(ویب ڈیسک ) مغربی توانائی کمپنیوں نے عراق کے تیل، گیس اور پائپ لائن منصوبوں میں سرمایہ کاری کے لیے درجنوں معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے ہیں، جن کی مجموعی مالیت 60 ارب ڈالر سے زائد بتائی جا رہی ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے  کے مطابق عراق امریکا کے ساتھ توانائی تعاون بڑھانے اور آبنائے ہرمز پر انحصار کم کرنے کے لیے نئے راستے تلاش کر رہا ہے تاکہ عالمی منڈیوں تک اپنی توانائی کی ترسیل کو مزید محفوظ بنایا جا سکے۔

امریکی چیمبر آف کامرس میں ہونے والی امریکا عراق بزنس سمٹ میں عراقی حکام اور امریکی توانائی، صحت اور ٹیکنالوجی کمپنیوں نے مختلف منصوبوں سے متعلق معاہدوں پر دستخط کیے۔

عراقی وزیر اعظم علی الزیدی نے کہا کہ عراق سرمایہ کاری کے لیے کھلی پالیسی اختیار کر رہا ہے اور ہر اس کمپنی کا خیر مقدم کرے گا جو ملک میں منصوبے شروع کرنا چاہتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق عراق نے توانائی کی بڑی کمپنی شیورون کے ساتھ بھی ممکنہ تعاون کے لیے پیش رفت کی ہے، جس میں مغربی قرنہ 2 اور ناصریہ آئل فیلڈز میں سرمایہ کاری کے امکانات شامل ہیں۔

 یہ بھی پڑھیں:ایران اورعرب ممالک میں مذاکرات! روس کےانکشاف نے سب کو حیران کر دیا

شیورون کے عہدیدار جیک اسپیرنگ نے بتایا کہ کمپنی عراق سے تیل برآمد کرنے کے لیے ایک نئی پائپ لائن میں سرمایہ کاری پر غور کر رہی ہے، جس کا مقصد آبنائے ہرمز کے بجائے متبادل برآمدی راستہ قائم کرنا ہے۔

عراق کی تیل برآمدات حالیہ علاقائی کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں محدود سرگرمیوں سے متاثر ہوئی ہیں، کیونکہ دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور گیس کی ترسیل اس اہم بحری راستے سے ہوتی ہے۔

دوسری جانب کونوکو فلپس نے شمالی عراق میں بی پی انرجی آف کرکوک لمیٹڈ کے 42 فیصد حصص خریدنے کا معاہدہ کیا ہے، جس کے تحت کرکوک کے چار تیل فیلڈز کی ترقی پر کام کیا جائے گا۔

برطانوی توانائی کمپنی بی پی کی چیف ایگزیکٹو میگ او نیل نے کہا کہ عراق میں توانائی کے شعبے میں “بہت زیادہ صلاحیت” موجود ہے اور یہ شراکت داری عراق اور عالمی توانائی تحفظ میں کردار ادا کر سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر عراق اپنے تیل برآمدی راستوں کو متنوع بنانے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو خطے کی توانائی سیاست میں اس کا کردار مزید اہم ہو سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں