
(24 نیوز)وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے آئی ایس پی آر کے زیرِ اہتمام سمر کیمپ میں ملک کے 18 شہروں سے تعلق رکھنے والے نویں سے بارہویں جماعت تک کے 4 ہزار سے زائد طلبہ و طالبات سے خصوصی نشست کی۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ دہشت گردوں نے بلوچستان کے غیور عوام کو ان کا ساتھ نہ دینے پر بے دردی سے شہید کیا۔ انہوں نے کہا کہ منگی ڈیم کو اس لیے نشانہ بنایا گیا کیونکہ یہ بلوچستان میں پانی کی فراہمی کا ایک اہم منصوبہ ہے۔
میر سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ پولیس پر حملے کے بعد امداد کے لیے جانے والی فورس کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ اس واقعے کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن قائم کر دیا گیا ہے اور تمام حقائق قوم کے سامنے لائے جائیں گے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان نے الزام عائد کیا کہ کوئٹہ دھرنے کے دوران بعض سیاسی رہنماؤں نے ریاست کے خلاف گمراہ کن پروپیگنڈا کیا، تاہم پاکستان کے خلاف جاری منظم سازش کو پاک فوج اور بلوچ عوام مل کر ناکام بنائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے فیلڈ مارشل کی قیادت میں بھارتی جارحیت کا بھرپور جواب دیا، جبکہ معرکۂ حق میں پوری قوم افواجِ پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑی رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کی سرپرستی میں سرگرم دہشت گردوں نے بھی اپنے مبینہ ماسٹر مائنڈ کا انجام دیکھ لیا۔
میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ دہشت گردی اور تشدد کو کسی بھی صورت جائز قرار نہیں دیا جا سکتا, انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان ایک مضبوط قومی ریاست ہے اور ہمیشہ قائم و دائم رہے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان اور پاکستان ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں، ملک کا مستقبل روشن ہے اور ایسا وقت آئے گا جب ہر شہری بلا خوف و خطر آزادی کے ساتھ زندگی گزار سکے گا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔ انہوں نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ پاکستان تاقیامت قائم رہنے کے لیے بنا ہے اور “پاکستان ہمیشہ زندہ باد”۔
یہ بھی پڑھیں :پنجاب اسمبلی کا 44 واں اجلاس طلب،نوٹیفیکیشن جاری






