
(ویب ڈیسک)مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں ڈیڑھ فیصد سے زائد بڑھ کر چھ ہفتوں سے زیادہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔
برینٹ خام تیل (Brent Crude) کے فیوچر معاہدوں کی قیمت تقریباً 2 فیصد اضافے کے بعد 95.50 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ گزشتہ سیشن میں یہ 94.07 ڈالر پر بند ہوئی تھی، دوسری جانب امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل کی قیمت بھی تقریباً 1.7 فیصد اضافے کے ساتھ 88.70 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی۔
رپورٹس کے مطابق امریکہ نے ایران سے متعلق نئی فوجی کارروائیاں کی ہیں، جبکہ یمن کے حوثی گروپ نے بحیرۂ احمر میں تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے، جس کے بعد عالمی توانائی کی سپلائی کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
ایران کی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کے جنوبی حصے میں ایک آئل ٹینکر دھماکے کے بعد آگ کی لپیٹ میں آ گیا، جبکہ دو دیگر ٹینکر واپس لوٹ گئے۔ ایرانی حکام نے دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز ان کے کنٹرول میں ہے اور موجودہ حالات میں کسی بھی آئل ٹینکر کو ایران سے رابطے کے بغیر گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ادھر حوثی گروپ نے اعلان کیا ہے کہ وہ باب المندب میں سعودی عرب سے متعلق تیل بردار جہازوں کو بھی نشانہ بنائے گا۔ گروپ کے مطابق دو سعودی آئل ٹینکرز پر حملہ کیا گیا، جبکہ بحری سکیورٹی ذرائع کے مطابق سعودی پرچم بردار ٹینکر Encelia بحیرۂ احمر میں حملے کی زد میں آیا۔
حوثیوں نے مزید دعویٰ کیا کہ ان کی وارننگ کے بعد تقریباً 10 بحری جہاز سعودی بندرگاہوں کی جانب جانے کے بجائے واپس لوٹ گئے، تاہم اس دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
دوسری جانب امریکہ کے انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن (EIA) کے مطابق گزشتہ ہفتے امریکی خام تیل کے ذخائر میں تقریباً 20 لاکھ بیرل اضافہ ہوا، جبکہ تجزیہ کاروں نے 11 لاکھ بیرل کمی کی توقع ظاہر کی تھی۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز اور باب المندب جیسے اہم بحری راستوں پر بڑھتی ہوئی کشیدگی عالمی تیل کی رسد اور قیمتوں پر مزید دباؤ ڈال سکتی ہے۔






