2

ٹی ٹی پی، فتنہ الہندستان اور بی ایل اے افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کر رہے ہیں:اسحاق ڈار

(24نیوز)نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے تنازع کا اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق منصفانہ حل ہی جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی بنیاد ہے، جبکہ پاکستان مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کی اپنی غیرمتزلزل حمایت جاری رکھے گا،ٹی ٹی پی، فتنہ الہندستان اور بی ایل اے افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کر رہے ہیں۔

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے فلپائن کے دارالحکومت منیلا میں منعقدہ 33ویں آسیان ریجنل فورم (ARF) کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے خطے میں امن، استحکام، مذاکرات اور باہمی تعاون کے فروغ کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔

انہوں نے 33ویں آسیان ریجنل فورم کی میزبانی پر فلپائن کو خراجِ تحسین پیش کیا اور جنوب مشرقی ایشیا میں دوستی و تعاون کے معاہدے کی 50ویں سالگرہ کے موقع پر اس کے بنیادی اصولوں سے وابستگی کا اظہار کیا، اسحاق ڈار نے کہا کہ آسیان ریجنل فورم علاقائی سلامتی کے ڈھانچے کا ایک اہم ستون بن چکا ہے، تاہم بدلتے ہوئے عالمی حالات کے پیشِ نظر اسے مزید فعال، مستقبل پر نظر رکھنے والا اور عملی اقدامات پر مبنی کردار ادا کرنا ہوگا۔

انہوں نے منیلا پلان آف ایکشن 2026-2036 کے مؤثر نفاذ کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال عالمی اداروں اور قوانین پر مبنی نظام کو دباؤ میں لا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان مصنوعی ذہانت، سائبر سکیورٹی، موسمیاتی تبدیلی، غذائی و توانائی تحفظ سمیت ابھرتے ہوئے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے عالمی تعاون کا حامی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پیٹرولیم قیمتیں۔۔!وزیراعظم نے بڑا قدم اٹھا لیا

اسحاق ڈار نے اپنے خطاب میں علاقائی اور عالمی امن کو درپیش آٹھ بڑے چیلنجز کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن و استحکام کے لیے دیرینہ تنازعات کا حل ناگزیر ہے، انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کا تنازع پاکستان اور بھارت کے درمیان علاقائی عدم استحکام کا بنیادی مسئلہ ہے، جس کا حل اقوام متحدہ کے چارٹر، سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق ہونا چاہیے۔

انہوں نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کے فیصلے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا 24 کروڑ پاکستانیوں کی زندگی اور روزگار کو خطرے میں ڈال رہا ہے، انہوں نے عالمی برادری، بالخصوص اے آر ایف کے رکن ممالک، پر زور دیا کہ بنیادی تنازعات کے پرامن حل اور عالمی قوانین کے احترام کے لیے کردار ادا کریں۔

نائب وزیراعظم نے خلیجی خطے کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے امن کی بحالی کے لیے فعال سفارتی کردار ادا کیا اور امریکا و ایران کے درمیان اسلام آباد میں مذاکرات کے انعقاد میں بھی اپنا کردار نبھایا، ان کے مطابق امریکا، ایران، خلیجی ممالک اور دیگر دوست ممالک کا پاکستان پر اعتماد قابل قدر ہے، جبکہ پاکستان آبنائے ہرمز میں معمول کی بحری سرگرمیوں کی بحالی اور خطے میں پائیدار امن کے لیے پرعزم ہے۔

غزہ کی صورتحال پر اظہارِ تشویش کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے انسانی المیے کے خاتمے پر زور دیا اور کہا کہ پاکستان فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت اور 1967 سے قبل کی سرحدوں پر قائم آزاد و خودمختار فلسطینی ریاست، جس کا دارالحکومت القدس شریف ہو، کی حمایت جاری رکھے گا۔

انہوں نے دہشت گردی کو پوری دنیا کے لیے مشترکہ خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان عالمی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صفِ اول کا کردار ادا کرتا رہا ہے، ان کے مطابق پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 80 ہزار سے زائد جانوں کی قربانی دی جبکہ 150 ارب ڈالر سے زیادہ کا معاشی نقصان برداشت کیا، انہوں نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے ساتھ ساتھ تعلیمی اصلاحات اور ادارہ جاتی مضبوطی پر بھی توجہ دے رہا ہے۔

مزید پڑھیں:صرافہ مارکیٹ میں بھونچال!سونے کی نئی قیمت نے حیران کر دیا

افغانستان سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے نائب وزیراعظم نے کہا کہ افغان سرزمین سے دہشت گردی پاکستان اور خطے کے لیے ایک سنگین سکیورٹی چیلنج ہے، ان کا کہنا تھا کہ ٹی ٹی پی، فتنہ الہندستان اور بی ایل اے افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کر رہے ہیں، جبکہ پاکستان کی افغان طالبان حکومت سے واحد توقع ہے کہ وہ اپنی سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دے، انہوں نے اے آر ایف کے رکن ممالک سے بھی اس حوالے سے مؤثر کردار ادا کرنے کی اپیل کی۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان یوکرین میں منصفانہ اور پائیدار امن کے لیے سفارتی کوششوں کی حمایت کرتا ہے اور تنازعات کے حل کا واحد پائیدار راستہ مذاکرات اور سفارت کاری ہے، انہوں نے جنوبی بحیرہ چین کے تنازعات کے حل پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ مسائل اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق پرامن طریقے سے حل ہونے چاہییں، جبکہ پاکستان ون چائنا پالیسی سے اپنی وابستگی برقرار رکھتا ہے۔

اپنے خطاب کے اختتام پر نائب وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے اور صاف توانائی کے فروغ سمیت موسمیاتی اہداف کے حصول کے لیے اقدامات کر رہا ہے، انہوں نے عالمی تعاون، مشترکہ ذمہ داریوں، خودمختار مساوات، باہمی احترام اور مذاکرات کو مستقبل کی بنیاد قرار دیتے ہوئے پرامن، خوشحال اور مضبوط خطے کی تعمیر کے لیے مشترکہ کوششوں پر زور دیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں