(ویب ڈیسک) یہودیوں کے ہیکل سلیمانی کے انہدام کے دن سوگ کی عبادات کے موقع پر مشرقی یروشلم میں کشیدگی بڑھ گئی۔ فلسطینی حکام نے شکایت کی ہے کہ آج جمعرات کے روز 4,200 سے زیادہ اسرائیلی آباد کاروں اور انتہائی دائیں بازو کے گروہوں نے مشرقی یروشلم میں مسجد الاقصی کے احاطے مین واقع قدیم ہیکل میں جا کر عبادت کی ۔ اس سال قدیم ہیکل کی سائیٹ پر عبادت کیلئے ٓنے والوں کی تعداد گزشتہ سالوں سے بہت زیادہ بتائی جا رہی ہے۔
انتہائی دائیں بازو کے اسرائیل کے قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر بھی جمعرات کو پولیس کی بھاری نفری کی حفاظت میں یہودیوں کے سوگ کے دن تیشا باؤ کے لیے اس مقام پر داخل ہوئے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہاں یودی مذہب کا مرکزی ہیکل تھا جو دو بار تباہ ہو چکا ہے۔ اب اس کی صرف ایک دیوار ہی باقی ہے جسے دیوارِ گریہ کہا جاتا ہے۔
الجزیرہ نیوز نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ اس ہیکل کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ عین اسی مقام پر ہوتا تھا جسے مسلمانوں کے نزدیک مسجد الاقصیٰ اور یہودیوں کے لیے ٹمپل ماؤنٹ کے نام سے جانا جاتا ہے۔
یروشلم گورنریٹ کی فلسطینی انتظامیہ نےجمعرات کے روز بتایا کہ اب تک 4,288 اسرائیلی احاطے میں داخل ہو چکے ہیں۔
گورنر نے کہا کہ یہ تعداد غروب آفتاب تک بڑھتی رہے گی، شاید 5,000 تک پہنچ جائے جو کہ اس تعطیل کے دوران پچھلے سالوں میں ریکارڈ کی گئی تعداد سے زیادہ ہوگی۔
فلسطینی حکام نے بتایا کہ اسرائیلی فورسز نے مسجد کے دروازوں پر سخت پابندیاں عائد کیں، بڑی تعداد میں فلسطینی نمازیوں اور سٹوڈنٹس کو داخلے سے روک دیا ۔
مقبوضہ مغربی کنارے کے مرکزی شہر رام اللہ میں الجزیرہ کے نامہ نگار نے کہا کہ اسرائیلی حکام نے یروشلم کے پرانے شہر میں “انتہائی سخت اقدامات” کیے ہیں، جس میں بوڑھوں کے علاوہ تمام افراد کے الاقصیٰ کے احاطے میں داخلے پر پابندی اور قلندیہ اور مشرقی یروشلم کے اطراف میں چوکیوں کو سخت کرنا شامل ہے۔

یروشلم کے گورنر نے کہا کہ اسرائیلی آباد کاروں نے احاطے کے اندر تلمود کی رسومات ادا کیں، جن میں سجدہ، نوحہ گری، مرثیہ پڑھنا اور دعائیں شامل ہیں۔
اسرائیلی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ پولیس نے جمعرات کو ایک ہزار سے زیادہ اسرائیلیوں کو اس مقام پر نماز ادا کرنے کی اجازت دی۔ اگرچہ قدیم ہیکل کے نام سے موسوم اس مخصوص جگہ پر مسلمانوں کو بھی جانے کی اجازت ہے، لیکن 1967 کے معاہدے کے تحت انہیں وہاں جا کر نماز ادا کرنے سے منع کیا گیا ہے۔
‘ناقابل قبول اشتعال انگیزی’
یروشلم گورنریٹ نے بین گویر کے قدم ہیکل کی سائیٹ پر آنے کو ایک خطرناک اشتعال انگیزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام اس جگہ پر یہودی ہیکل کی تعمیر نو کی وکالت کرنے والے گروہوں کے ساتھ پہلے سے وابستہ کارروائیوں کے لیے سرکاری اسرائیلی حمایت کی عکاسی کرتا ہے۔
تیشا باؤ کا سوگ اور عبادت کے اجتماعات
یہودی تقویم کے مطابق آج 23 جولائی یہودیوں کا سال کا سب سے غمگین دن اور سوگ کا تہوار “تیشا باؤ” (Tisha B’Av) ہے۔ اس دن بیت المقدس میں ان کے قدیم پہلے اور دوسرے ہیکل کی تباہی کی یاد میں سوگ منایا جاتا ہے۔
اس موقع پر دنیا بھر کے یہودیوں کی سب سے بڑی اور اہم ترین عبادت مشرقی یروشلم میں واقع ہیکل کے باقی حصہ، دیوارِ گریہ پر ہوتی ہے۔ یہ یروشلم (بیت المقدس) میں حرم شریف (ٹیمپل ماؤنٹ) کی مغربی بیرونی دیوار ہے۔ تیشا باؤ کے دن ہزاروں کی تعداد میں یہودی روایتی طور پر اسی دیوار کے سامنے زمین پر بیٹھ کر روتے ہوئے مرثیے پڑھتے اور گریہ و زاری کرتے ہیں کیونکہ وہ اسے اپنے تباہ شدہ ہیکل کی آخری نشانی مانتے ہیں۔

ٹیمپل ماؤنٹ (حرم شریف کا بیرونی احاطہ) پر بھی حالیہ برسوں میں کچھ سخت گیر یہودی گروہ وں نے سخت سیکورٹی کے سائے میں اس دن اپنی سوگ کی سرگرمیاں شروع کر رکھی ہیں۔ وہ جمع ہو کر آتے ہیں اور مسجدِ اقصیٰ اور گنبدِ صخریٰ کے بیرونی صحنوں میں (جسے وہ ٹیمپل ماؤنٹ کہتے ہیں) جمع ہونے کی کوشش کرتے ہیں، حالانکہ وہاں ان کی باقاعدہ عبادت پر شدید تنازعات اور پابندیاں رہتی ہیں۔
جو یہودی یروشلم میں موجود نہیں ہیں، آج انہوں نے دنیا بھر میں اپنے اپنے ملکوں اور شہروں کی مقامی سینی گوگ میں جمع ہو کر اس دن کی مخصوص عبادات کیں۔
آج کے دن یہودی مکمل روزہ رکھتے ہیں۔ زمین پر بیٹھتے ہیں یا کم اونچی کرسی پر بیٹھتے ہیں اور ہیکل سلیمانی کی تباہی کا سوگ مناتے ہیں۔






