
(ویب ڈیسک) شام کے صدر احمد الشرع نے انکشاف کیا ہے کہ شام کئی ممالک کی شرکت سے اسرائیل کے ساتھ ایک سکیورٹی معاہدہ کرنے کیلئے کام کر رہا ہے۔
الجزیرہ نیوز کے ساتھ ایک انٹرویو میں شامی صدر احمد الشرع نے کہا،مجھے امید ہے کہ اسرائیل کے ساتھ یہ سکیورٹی معاہدہ ایک جامع امن کا پیش خیمہ ثابت ہوگا۔ سوالات کے جواب میں صدر احمد اشراع نے کہا کہ اس طرح کا معاہدہ گولان کی پہاڑیوں پر شام کے حق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ اسرائیل نے 1973 سے گولان کی پہاڑیوں کے اس سے پہلے شام کا حصہ سمجھے جانے والے علاقہ پر قبضہ کر رکھا ہے اور احمد الشراع کی اتحادی فوج کے دمشق پر قبضہ کے فوراً بعد اسرائیل نے کارروائی کر کے گولانی کے کچھ مزید علاقہ پر بھی قبضہ کیا اور وہاں “بفر زون” بنا لیا تھا اور کہا تھا کہ یہ کارروائی شام میں حالیہ خانہ جنگی کے دوران اسرائیل کو محفوظ رکھنے کے لئے کی گئی ہے۔ اسرائیل کی اس پیش قدمی کے بعد شام کی احمد الشراع کی حکومت نے اس علاقہ کی فوری واپسی کا مطالبہ کیا تھا۔ شام کے وزیرِ خارجہ اسعد الشیبانی نے اسرائیل سے مطالبات کئے کہ وہ 1974 کی حدود کی خلاف ورزی بند کرے اور اس بفر زون سے فوری طور پر غیر مشروط انخلا کرے۔
اب الجزیرہ سے انٹرویو میں صدر احمد الشرع نے کہا کہ شام اسرائیل کے ساتھ کسی بھی قسم کے تصادم سے گریز کر رہا ہے۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ شام کا لبنان میں کسی بھی قسم کی فوجی مداخلت کا کوئی ارادہ نہیں۔ شام کا جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے خلاف کارروائی میں کسی کردار ادا کرنے کا سوال امریکہ کے صدر ٹرمپ کے اس بیان کے بعد زیر بحث آیا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ لبنان کی حزب اللہ کے خلاف شام کارروائی کرے۔ ماضی میں شام کے سابق صدر بشار الاسد کی حکومت کے دوران شام حزب اللہ کی مدد کرتا رہا اور حزب اللہ کے کارکن بشار الاسد کی حکومت کی شام کی خانہ جنگی میں عملی مدد کرتے رہے۔
الجزیرہ نیوز کے ساتھ انترویو مین صدر احمد الشراع نے بتایا کہ شامی حکومت اس وقت ایسے طریقوں پر غور کر رہی ہے جن کے ذریعے لبنانی حکام ملک کو اس کے موجودہ بحران سے نکالنے اور اسے سلامتی کی طرف گامزن کرنے میں مدد کر سکیں۔
جنوبی لبنان کا کافی علاقہ اس وقت اسرائیل کے قبضے میں ہے۔ ایران پر اسرائیل اور امریکہ کے 28 مارچ کے حملے کے فوراً بعد لبنان میں ضزب اللہ نے اسرائیل پر راکٹ اور میزائلوں سے حملے کئے تھے جس کے بعد اسرائیل کی فوج جنوبی لبنان میں گھس گئی تھی ۔ اب حزب اللہ اور اسرائیلی افواج کے درمیان کئی مہینوں سے لڑائی ہو رہی ہے۔ اس دوران لبنان کی حکومت کے ساتھ اسرائیل نے سیز فائر بھی کیا جسے حزب اللہ نے تسلیم نہیں کیا۔ اس سیز فائر کا بنیادی نکتہ یہ تھا کہ اسرائیل کی بجائے لبنان کی فوج جنوبی لبنان کے کچھ علاقوں کا کنترول سنبھالے گی اور اسرائیل کی حکومت حزب اللہ کو گزشتہ امن معاہدہ کے مطابق ڈس آرم کرے گی۔ حزب اللہ اسرائیل کی لبنان سے فوری مکمل واپسی کا مطالبہ کرتی ہے اور ڈس آرم ہونے کے امکان کو مسترد کرتی ہے۔
احمد الشرع نے اس بات پر زور دیا کہ لبنان کے بحران سے نمٹنے کیلیے صرف ایک سکیورٹی اپروچ کی نہیں بلکہ ایک ایسے جامع حل کی ضرورت ہے جو متعدد مسائل کو حل کرے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرکوں پر بسیں گھوم رہی ہیں، بسوں سے کشمیریوں کو خریدا نہیں جا سکتا، کشمیری ووٹ پیپلز پارٹی کو دیں گے؛شرجیل میمن






