
(24 نیوز)جرمنی کے دارالحکومت برلن میں ہم جنس پرستوں کی ریلی کے دوران اُن پر گاڑی چڑھا دینے والے حملہ آور کو پولیس نے تلاش کرنے کے بعد فائرنگ کرکے ہلاک کر دیا۔
برلن کے ٹیئرگارٹن پارک میں گزشتہ روز ایک تیز رفتار وین ہجوم پر چڑھا دی گئی تھی، جس کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک اور 29 زخمی ہوگئے تھے۔
تاہم جرمن پولیس کا کہنا ہے کہ اب کسی بھی زخمی کی جان کو فوری خطرہ نہیں رہا۔
جرمن حکام نے اس واقعے کو شدت پسندانہ دہشت گردی قرار دیا ہے۔
یہ حملہ ہفتے کی رات برلن کے وسط میں واقع ٹیئرگارٹن پارک کے قریب اس وقت ہوا جب ہزاروں افراد پرائیڈ تقریبات میں شریک تھے۔
پولیس نے بتایا کہ حملہ آور نے پہلے ایک وین ہجوم پر چڑھا دی، جس سے متعدد افراد زخمی ہوئے، اور اس کے بعد اس نے ایک بڑے دھار دار ہتھیار سے کئی افراد پر حملہ کیا۔
حملے کے بعد ملزم موقع سے فرار ہوگیا جبکہ اس کی گاڑی بعد میں ایک درخت سے ٹکرائی ہوئی حالت میں ملی۔
حکام نے حملے کے فوراً بعد شہر بھر میں بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کیا۔
پولیس نے ملزم کی شناخت 21 سالہ عبدل بی کے نام سے کی، جو لبنانی نژاد جرمن شہری تھا اور 2005 میں جرمنی میں پیدا ہوا تھا۔
پولیس نے اس کی تصاویر جاری کرتے ہوئے عوام سے اس کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق جرمن پراسیکیوٹرز نے بتایا کہ عبدل بی پہلے بھی پولیس کی نظر میں تھا اور وہ شدت پسند حلقوں سے وابستہ سمجھا جاتا تھا۔
مزید پڑھیں:ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ جاری، خودمختاری کا دفاع ترجیح ہے: ایران
رپورٹ کے مطابق وہ 2025 میں لبنان گیا تھا جہاں سے شام پہنچ کر شدت پسند تنظیم میں شامل ہونے کا ارادہ رکھتا تھا۔
تاہم لبنان میں گرفتار ہونے کے بعد اسے مذہبی اور فرقہ وارانہ نفرت پھیلانے سمیت دیگر الزامات پر تین ماہ قید کی سزا ہوئی تھی۔
جرمنی واپسی پر برلن کی ایک عدالت نے اسے سنگین پرتشدد کارروائی کی تیاری اور شدت پسند تنظیم کا پروپیگنڈا شائع کرنے کے جرم میں ایک سال دس ماہ کی معطل سزا سنائی تھی، جبکہ اپیل کے دوران اسے رہا کر دیا گیا تھا۔
پولیس نے بتایا کہ اتوار کی شام تقریباً چھ بجے اسپینڈاؤ ضلع میں واقع ایک گارڈن کمپلیکس میں ملزم کا سراغ ملا۔
حکام کے مطابق جب پولیس اہلکار اس کے قریب پہنچے تو اس نے دھار دار ہتھیار کے ساتھ ان کی جانب بڑھنے کی کوشش کی، جس پر برلن کی خصوصی پولیس یونٹ نے فائرنگ کی۔
برلن پولیس کے مطابق طبی عملے نے موقع پر ہی اس کی جان بچانے کی کوشش کی، تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہوگیا۔
حملے کے عینی شاہد نے بتایا کہ اچانک ایک زور دار آواز سنائی دی، اس کے بعد چند اور آوازیں آئیں۔
ابتدا میں ہمیں سمجھ نہیں آیا کہ چیخیں کیوں سنائی دے رہی ہیں کیونکہ ہر طرف موسیقی، جشن اور شور تھا۔
بعد میں جب پولیس نے پارک خالی کرایا اور ہمیں گھروں کو جانے کا کہا تو اندازہ ہوا کہ اصل میں کیا ہوا ہے۔
حملے کے بعد پولیس نے سوشل میڈیا پر لوگوں سے فوری طور پر علاقہ چھوڑنے کی اپیل کی تاکہ ایمبولینسوں اور ریسکیو ٹیموں کو متاثرین تک پہنچنے میں آسانی ہو۔






