
(24نیوز)کپتان قومی ویمن کرکٹ ٹیم فاطمہ ثنا نے کہا ہے کہ ون ڈے سیریز ہارنے پر مایوسی ہوئی ہے سیریز میں ہمارا آغاز اچھا تھا لیکن اس کے بعد جس طرح کی پرفارمنس ہوئی ہے اس سے مایوسی تو ہوئی ہے،ان کا کہنا تھا کہ کوشش یہی ہے کہ اس سے جتنا پازیٹو لے سکیں، لیں تاکہ آئندہ فائدہ ہو ۔
کپتان فاطمہ ثنانے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بیٹنگ ٹریک تھا لیکن اس طرح ہم نے بیٹنگ نہیں کی جس طرح اس پچ پر بیٹنگ کرنی چاہیے تھی اگر سینئیرز کے بعد جونئیرز کو پاس موقع آئے تو انہیں اس سے فائدہ اٹھانا چاہیے،مڈل آرڈر میں جونئیر جتنا اچھا کھیلیں گے اتنا فائدہ ہے۔
کپتان قومی ویمن کرکٹ کا کہنا تھا کہ ٹیم اس سیریز میں گل فیروزہ اور صدف شمس نے جس طرح ہمیں پاور پلے میں آغاز فراہم کئے وہ ہمارے لیے پازیٹو ہے، سدرا امین پر دباؤ بھی تھا لیکن انہوں نے سیریز کے شروع ہی سے اپنی اننگز بنانے کی کوشش کی ہے ،منیبہ علی نے پانچویں نمبر پر آ کر اچھی بیٹنگ کی ہے ،ٹیم میں بہت سی چیزیں اچھی ہو رہی ہیں۔
ان کے مطابق باؤلنگ میں ام ہانی اور نشرہ سندھو اچھی بالنگ کر رہی ہیں،نوجوان باولرز جتنی جلد بہتری لائیں گی،اتنا اچھا ہے کوشش یہی ہے کہ نوجوان کھلاڑیوں کو زیادہ موقع دیں تاکہ آگے چل کر فائدہ ہو ۔
ان کا کہنا تھا کہ کھلاڑیوں کو ایک پیغام دیا ہے پازیٹو رہیں جب تجربات کرتے ہیں تو بعض اوقات ناکامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس لئے صبر کے ساتھ کھیلیں فینز کو بھی میں یہی کہوں گی،ہر کسی کا جو رول ہے وہ کلئیر کر دیا گیا ہوا ہے اور کھلاڑیوں کو بھی اپنے رول کا پتہ ہے اور یہی چیز بہت اچھی ہے اس سے ہر کھلاڑی تیار ہو رہی ہے جتنا تو وہ اب زمہ داری لیں گی اتنا آگے فائدہ ہو گا۔
فاطمہ ثنا مزید کہنا تھا کہ ہنڈرد کھیلنے کے لئے پرجوش ہوں کوشش ہو گی کہ وہاں اچھا کھیلوں تاکہ آگے چل کر پاکستان کی اور کھلاڑیوں کو بھی موقع ملے اچھی بات ہے کہ پاکستان کی طرف سے مجھے موقع مل رہا ہے اب بس یہ ہے کہ وہاں اچھا پرفارم کروں ،ٹی ٹوینٹی سیریز کے لیے یہی پیغام ہے کہ ٹیم میں زیادہ نئی اور نوجوان کھلاڑی ہیں پہلی مرتبہ کھیل رہی ہیں وہ انجوائے کریں اور خود پر اعتماد رکھ کر کھیلیں۔
یہ بھی پڑھیں : خاتون اول آصفہ بھٹو زرداری کا کراچی میں لیاری اسپینسر آئی ہسپتال کا دورہ






