
(24نیوز)ایران نے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے انتظام سے متعلق عمان کی تجویز مسترد کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ عمانی حدود میں واقع بحری راستے کے ایک حصے کا کنٹرول بھی ایران کے پاس ہونا چاہئے ،کاظم غریب آبادی نے کہا ہے کہ ایران نے گزشتہ 15 روز کے دوران امریکا سے مذاکرات کا کوئی مطالبہ نہیں کیا۔
ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے سرکاری ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر آبنائے ہرمز کو پہلے والی صورتحال پر واپس لایا گیا تو ایران کی فتح مکمل نہیں ہوگی۔
ایران کے نائب وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ بعض ممالک نے آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت کیلئے جنوبی راستہ بنانے کی تجویز دی ہے، تاہم یہ اقدام اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے منافی ہوگا۔
نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ عمان نے تجویز دی تھی کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری راستے کو دونوں ممالک کے درمیان مساوی طور پر تقسیم کیا جائے جس کے تحت 50 فیصد راستہ ایرانی اور 50 فیصد عمانی علاقائی پانیوں میں ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ منصوبے کے مطابق بحری جہاز ایرانی پانیوں سے داخل ہو کر عمانی پانیوں سے گزریں گے،ایران نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ بحری گزرگاہ کا وہ حصہ جو ایرانی پانیوں میں واقع ہے اس کا انتظام ایران کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں:ٹروبا ٹیسٹ میں ویسٹ انڈیز نے پاکستان کو 90 رنز سے شکست دیدی
کاظم غریب آبادی کا مزید کہنا تھا کہ عمانی پانیوں میں موجود راستے کے ایک حصے کا کنٹرول بھی ایران کے سپرد کیا جائے، اگر عمان نے ایران کی تجویز قبول نہ کی تو آبنائے ہرمز بند رہے گی۔






