
(24نیوز)وزیراعظم کی قائم کردہ پٹرولیم پرائسنگ کمیٹی کا پانچواں اجلاس وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک کی زیر صدارت ہوا جس میں سٹریٹجک پٹرولیم ذخائر اور پرائس اسٹیبلائزیشن فنڈ کے قیمتوں پر ممکنہ اثرات کا جائزہ لیا گیا۔
کمیٹی اراکین نے روزانہ پٹرولیم قیمتوں کے تعین کے فارمولے کو سراہا،کمیٹی اراکین نے کہا کہ نئے پٹرولیم پرائسنگ میکنزم میں شفافیت بڑھانے اور قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کم کرنے کے اقدامات قابلِ تحسین ہیں۔
وزیر پیٹرولیم نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ڈی ریگولیشن کے لیے مخصوص اہداف اور سنگِ میل مقرر کیے جائیں،آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو پٹرولیم سپلائی چین کی اینڈ ٹو اینڈ ڈیجیٹلائزیشن کا ذمہ دار بنایا جائے،اوگرا ویب سائٹ پر روزانہ پٹرولیم قیمتوں، پرائسنگ فارمولے اور پلاٹس ڈیٹا کا ڈیش بورڈ فعال ہو چکا ہے۔
اجلاس کو بریفنگ میں بتایاگیا کہ پٹرولیم قیمتوں کے نظام میں شفافیت اور عوام کی معلومات تک رسائی مزید بہتر ہوگی ،اسٹریٹجک ذخائر اور پرائس سٹیبلائزیشن فنڈ قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کم کرنے میں معاون ہو سکتے ہیں۔
اس دوران نئی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے قیام پر پابندی اور اس کے مارکیٹ مسابقت، سرمایہ کاری اور مارکیٹ ڈھانچے پر اثرات کا جائزہ لیا گیا۔
پٹرولیم پرائسنگ کمیٹی نے اتفاق کیا کہ فریٹ مارجن پول کا بھی جامع جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔
اجلاس میں وزارت خزانہ کو ایف بی آر اور پٹرولیم ڈویژن سے مشاورت کے بعد ونڈ فال ٹیکس پر آئندہ اجلاس میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پٹرولیم پرائسنگ کمیٹی ذیلی کمیٹیوں کی سفارشات پر مزید غور جاری رکھے گی،پٹرولیم سیکٹر میں شفافیت، مسابقت، کارکردگی اور صارفین کے تحفظ کے لیے جامع اصلاحاتی روڈ میپ مرتب کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں : قومی معیشت کیلئے بڑی خبر،سجاول میں تیل و گیس کا نیاکنواں دریافت






