
(24 نیوز )برطانیہ میں پیٹرول کی قیمت نومبر 2022 کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، اس وقت پیٹرول 160 پنس اور ڈیزل 179 پنس فی لیٹر تک پہنچ گیا ہے، ایندھن مہنگا ہونے سے برطانوی شہریوں پر مالی دباؤ میں اضافہ ہوا ہے۔
گاڑی کا ٹینک بھرنے کی لاگت 88 پاؤنڈ تک پہنچ گئی ہے اور آئندہ ہفتوں میں ڈیزل مزید مہنگا ہونے کا خدشہ ہے۔ خام تیل مہنگا اور برطانیہ میں ایندھن کی قیمتیں برقرار ہیں۔
اس حوالے سے برطانوی میڈیا کے مطابق ایران جنگ کے باعث بڑھتی ہوئی تیل کی قیمتوں کے باعث برطانیہ میں پیٹرول کی قیمت ایک بار پھر نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے، جس سے سالانہ تعطیلات پر روانہ ہونے والے لاکھوں گھرانوں پر مالی دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔
برطانیہ میں پٹرولیم قیمتوں کو مانیٹر کرنے والے ادارے آر اے سی کے مطابق برطانوی شہریوں کے لیے ناخوشگوار خبر یہ ہے کہ پیٹرول کی اوسط قیمت 160 پنس فی لیٹر تک پہنچ گئی ہے۔ اس سے قبل جولائی کے آغاز میں مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی کے اعلان کے بعد قیمت کم ہو کر 151 پنس فی لیٹر تک آ گئی تھی۔
جمعہ کے روز پیٹرول کی قیمت نومبر 2022 کے بعد اپنی بلند ترین سطح پر تھی، جب روس کے یوکرین پر حملے کے بعد ایندھن کی قیمتوں میں کافی اضافہ ہوا تھا، ڈیزل کی قیمت میں بھی 14.5 پنس کا اضافہ ہوا ہے اور اب یہ 179 پنس فی لیٹر ہو گئی ہے، تاہم یہ اپریل میں ریکارڈ کی گئی 192 پنس فی لیٹر کی بلند ترین سطح سے اب بھی کم ہے۔
آر اے سی کے سربراہ برائے پالیسی سائمن ولیمز نے کہا اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک عام خاندانی گاڑی کی پیٹرول ٹنکی بھرنے کی لاگت بڑھ کر تقریباً 88 پاؤنڈ ہو گئی ہے، جبکہ ڈیزل سے چلنے والی گاڑی کی ٹینکی بھرنے پر تقریباً 10 پاؤنڈ اضافی خرچ آ رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ڈیزل کی قیمتوں میں مزید اضافے کا امکان ہے اور اگر خام تیل کی قیمت میں نمایاں کمی نہ آئی تو آئندہ چند ہفتوں میں یہ 185 پنس فی لیٹر تک پہنچ سکتی ہے۔
جون کے وسط میں امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت طے پانے کے بعد ایندھن کی قیمتوں میں کمی آئی تھی۔ تاہم، حالیہ ہفتوں میں امریکی صدر ٹرمپ امن کوششوں سے مایوس دکھائی دیے، اور امریکہ نے ایران پر کئی نئے حملے کیے۔ اس کے جواب میں تہران نے مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ کے اتحادیوں کے خلاف کارروائیاں شروع کر دیں۔
جمعہ عالمی منڈی میں خام تیل برینٹ کروڈ کی قیمت میں ایک فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا اور یہ 90 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی۔ اسکی وجہ ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور کا یہ دعویٰ تھا کہ اس نے آبنائے ہرمز سے امریکی فضائی نگرانی میں گزرنے کی کوشش کرنے والے دو آئل ٹینکروں کو نشانہ بنایا جبکہ مزید چار جہازوں کو واپس جانے پر مجبور کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں :کراچی سے ابوظہبی جانے والی غیرملکی ائیر لائن حادثے سے بال بال بچ گئی






