1

  پیٹ کی چربی موٹاپے سے نجات کا آسان ترین نسخہ دریافت ہوگیا

(24نیوز) نئی ریسرچ نے ورزش کرنے سے بھاگنے والے موٹے مردوں اور عورتوں کے چربی سے نجات حاصل کرنے کی امید جگا دی۔

اب تک یہ دیکھا جاتا رہا ہے کہ ایک مرتبہ موٹے ہو جانے والے لوگوں کے لئے پیٹ اور سارے جسم پر چڑھی ہوئی چربی سے نجات حاصل کرنا ہر گزرتے دن کے ساتھ مشکل تر ہوتا جاتا ہے۔ وہ ورزش کرنے کے ارادے کرتے ہیں، پکے منصوبے مناتے ہیں، عمل شروع تو کرتے ہیں لیکن جاری نہیں رکھ سکتے۔ کھانے کو کنترول کرنے کے پلان بناتے ہیں، عمل شروع کرتے ہیں لیکن کچھ دن بعد بد پرہیزی کرنے لگتے ہیں اور مزید کچھ دن بعد سب کچھ چھوڑ کر پہلے کی طرح بلکہ بعض اوقات پہلے سے بھی زیادہ کھانے لگتے ہیں۔

اب  ہانگ کانگ کے طبی ماہرین کی ریسرچ نے  کھانےمیں پرہیز کرنے میں قدرے کامیاب لیکن ورزش کرنے میں دقت محسوس کرنے والے موٹے افراد کے لئے فالتو چربی سے نجات حاصل کرنے کی امید  پھر سے زندہ کر دی ہے۔ 

اب ریسرچرز نے وہ وہ بہترین ورزش دریافت کر لی ہے جس کو  ہفتے میں صرف ایک بار کر کے ہی  بڑھی ہوئی توند کی چربی میں کمی لانا ممکن ہے۔ہانگ کانگ کی ایک یونیورسٹی کی  ایک طبی تحقیق میں  یہ راز کھا ہے کہ  پیٹ اور کمر کے گرد جمع ہونے والی چربی کو جسے  طبی زبان میں ورسیکل فیٹ کہا جاتا ہے، ہفتے میں صرف ایک دن ورزش کرنے سے ہی کم کیا جا سکتا ہے۔

پیٹ پر چڑحی چربی خطرناک مسئلہ
توند کی چربی جسمانی چربی کی سب سے خطرناک قسم ہوتی ہے کیونکہ یہ بہت اہم اعضا کو ڈھانپ لیتی ہے۔

اس چربی کے نتیجے میں امراض قلب، ذیابیطس اور دیگر سنگین طبی مسائل کا خطرہ بڑھتا ہے۔

 پیٹ پر چربی کی تہیں جب چڑھنا شروع ہوتی ہیں تو لوگ ان پر توجہ نہیں دیتے، جب یہ بڑھ کر نمایاں ہو جاتی ہیں تو  لوگ  اس سے نجات پانے کے لیے لوگ کافی کوششیں کرتے ہیں مگر ناکام رہتے ہیں کیونکہ تب تک ان کی چربی پیدا کرنے والی تمام عادیں پختہ ہو چکی ہوتی ہیں۔ نہ ان سے کھانا کنٹرول ہوتا ہے نہ ہی جسمانی حرکت اور مشقت میں اضافہ ہوتا ہے۔

اب جو ریسرچ ہوئی ہے اس کے نتائج سے پتہ چلا کہ چربی خواہ کتنی ہی بڑھ چکی ہو، اس سے نجات اتنی مشکل نہیں جتنی لوگ تصور کرتے ہیں۔ صرف مناسب ورزش کی ضرورت ہے۔ درحقیقت ہفتے میں صرف ایک بار ایک مخصوص ورزش کو عادت بناکر توند کی چربی گھلانا ممکن ہے۔

ہفتے میں صرف ایک بار واک، اور  چربی کا کام تمام

ہانگ کانگ یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ ہر ہفتے ایک بار تیز رفتاری سے چہل قدمی کرنے سے جسمانی چربی کو گھٹانے اور کارڈیو ریسیپٹری فٹنس کو بہتر بنانے میں مدد ملتی ہے۔

اس تحقیق میں 315 افراد کو ایک کلینیکل ٹرائل کا حصہ بنایا گیا اور یہ سب افراد موٹاپے کے شکار تھے۔

ستمبر 2021 سے ستمبر 2024 تک جاری رہنے والے ٹرائل کے دوران ان افراد کو 3 گروپس میں تقسیم کیا گیا۔

ایک گروپ ایسے افراد پر مشتمل تھا جو ہفتے میں ایک بار تیز رفتاری سے چہل قدمی کرتے تھے جبکہ دوسرے گروپ میں شامل ہر ہفتے 3 بار ایسا کرتے تھے جبکہ تیسرا گروپ ایسا تھا جو اس ورزش سے دور رہنے والوں پر مشتمل تھا۔

ورزش کرنے والے دونوں گروپس کو ہر ہفتے مجموعی طور پر ورزش کرتے تھے جبکہ تیسرے گروپ کو ہر 2 ہفتے میں ڈھائی گھنٹے تک صحت سے متعلق تعلیمی سیشن کا حصہ بنایا گیا۔

محققین نے ٹرائل سے قبل، 16 ہفتوں بعد اور پھر 32 ہفتوں بعد ان فراد کی جسمانی چربی کی پیمائش کی۔

 روزانہ کتنے وقت تک چہل قدمی سے ذیابیطس جیسے سنگین مرض سے بچنا ممکن ہوتا ہے؟ 
 تحقیق میں دریافت ہوا کہ 16 ہفتوں کے بعد ورزش کرنے والے دونوں گروپس میں ملتی جلتی بہتری دیکھنے میں آئی۔

یعنی ہفتے میں ایک بار اور 3 بار ورزش کرنے والوں کی جسمانی چربی کی سطح میں لگ بھگ ایک جیسی کمی آئی اور ان کی کارڈیو ریسیپٹری فٹنس بھی بہتر ہوگئی۔

محققین نے بتایا کہ ویسے تو ہر ہفتے اس طرح کی جسمانی سرگرمیوں کا مشورہ دیا جاتا ہے مگر نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر ہفتے تیز رفتاری سے چہل قدمی کرنے سے بھی جسمانی چربی میں اتنی کمی آتی ہے، جتنی 3 بار ورزش کرنے سے آتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ تو اگر توند نکلنے کے بعد ورزش کو معمول بنانا مشکل محسوس ہوتا ہے تو ہفتے میں ایک بار ایسا کرنے سے بھی چربی کی سطح میں کمی لائی جاسکتی ہے۔

اس تحقیق میں چہل قدمی کی جس قسم کو شامل کیا گیا تھا، اس میں لوگ پہلے تیزی سے چلتے، پھر معمول کی رفتار اور ایک بار پھر تیز رفتاری سے چہل قدمی کرتے تھے۔

اس تحقیق کے نتائج جرنل نیچر کمیونیکیشنز میں شائع ہوئے۔

یہ بھی پڑھیئے:       آج رات تھنڈر سٹارم اور موسلادھار بارش کی پیشین گوئی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں