1

نیند کے دوران تکیہ انسانی صحت پر کیا اثرات مرتب کرتا ہےطبی ماہرین کا انکشاف

(24 نیوز)نیند کے دوران استعمال ہونے والا تکیہ گردن اور ریڑھ کی ہڈی کی صحت پر اہم اثر ڈال سکتا ہے، تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ حد سے زیادہ نرم تکیہ ہر وقت بہتر انتخاب ثابت نہیں ہوتا۔ ان کے مطابق خریداری کے وقت کسی تکیے کا نرم اور آرام دہ محسوس ہونا اس بات کی ضمانت نہیں کہ وہ پوری رات سر اور گردن کو مطلوبہ سہارا بھی فراہم کرے گا۔

فزیوتھراپی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ بہت سے لوگ صرف چند لمحوں کے تجربے کی بنیاد پر نرم تکیہ خرید لیتے ہیں، لیکن اس کی اصل کارکردگی کئی گھنٹے استعمال کے بعد سامنے آتی ہے۔ ان کے مطابق جب تکیہ سر کے وزن کے نیچے دب جاتا ہے تو اگر وہ مناسب سہارا برقرار نہ رکھ سکے تو گردن اور ریڑھ کی ہڈی کی سیدھ متاثر ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں صبح کے وقت گردن میں درد یا اکڑاؤ محسوس ہو سکتا ہے۔

سڈنی یونیورسٹی کے لیکچرر اور فزیو تھراپسٹ ایلان فو کے مطابق اکثر افراد تکیے کے ابتدائی آرام کو ہی اس کی خوبی سمجھ لیتے ہیں، حالانکہ اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ وہ پوری رات سر کو کس حد تک سہارا دیتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ صرف چند سیکنڈ یا چند منٹ کے تجربے سے کسی تکیے کے معیار کا درست اندازہ لگانا ممکن نہیں۔

ماہرین کے مطابق انسانی سر کا اوسط وزن تقریباً ساڑھے چار کلوگرام ہوتا ہے، جس کی وجہ سے تکیہ رات بھر آہستہ آہستہ دبتا رہتا ہے۔ اگر تکیہ بہت زیادہ نرم ہو تو وہ سر اور گردن کو مطلوبہ سہارا فراہم نہیں کر پاتا۔ اسی لیے ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ تکیہ خریدتے وقت صرف اس کی نرمی کو معیار نہ بنایا جائے بلکہ اس بات کو بھی دیکھا جائے کہ وہ گردن اور ریڑھ کی ہڈی کو سیدھی حالت میں رکھنے میں کس حد تک مددگار ہے۔

تحقیقی جائزوں کے مطابق لیٹیکس اور میموری فوم سے بنے تکیے گردن کے درد میں نسبتاً زیادہ مددگار ثابت ہو سکتے ہیں کیونکہ یہ رات بھر اپنی ساخت کو بہتر انداز میں برقرار رکھتے ہیں اور سر کو مناسب سہارا دیتے ہیں۔ دوسری جانب پروں یا مصنوعی ریشوں سے تیار کیے گئے تکیے بھی استعمال کیے جا سکتے ہیں، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ان کی نسبتاً سخت اقسام کا انتخاب زیادہ مناسب رہتا ہے کیونکہ بہت زیادہ نرم تکیے وقت کے ساتھ جلد اپنی مضبوطی کھو دیتے ہیں۔

ماہرین نے یہ بھی واضح کیا کہ نئے تکیے کے بارے میں پہلی ہی رات حتمی رائے قائم کرنا درست نہیں۔ ان کے مطابق پروں اور مصنوعی ریشوں والے تکیے ایک یا دو راتوں میں اپنی اصل حالت اختیار کر لیتے ہیں، جبکہ میموری فوم کے تکیے جسم کی حرارت اور سر کی ساخت کے مطابق ڈھلنے میں چند ہفتے بھی لے سکتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ تکیہ خریدتے وقت اگر ممکن ہو تو اس پر چند منٹ لیٹ کر دیکھنا چاہیے اور ایسا تکیہ منتخب کرنا بہتر ہو سکتا ہے جو ابتدا میں قدرے مضبوط یا نسبتاً اونچا محسوس ہو، کیونکہ مسلسل استعمال کے ساتھ وہ خود بخود کچھ نرم ہو جاتا ہے۔ ان کے مطابق گردن کی صحت کے لیے صرف آرام کا احساس کافی نہیں بلکہ مناسب سہارا فراہم کرنا زیادہ اہم ہے۔

یہ بھی پڑھیں :آزاد کشمیر کے انتخابات میں ہماری فتح مخالفین کو ہضم نہیں ہو رہی، عطا اللہ تارڑ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں