8

لاہورمیں کم سن گھریلو ملازمہ پر مبینہ تشدد ویڈیوسامنےآ گئی

(فاران یامین، عابد چودھری)لاہور کے علاقے اچھرہ میں چوری کے الزام پر 11 سالہ گھریلو ملازمہ پر مبینہ تشدد کا واقعہ سامنے آنے کے بعد پولیس نے مرکزی ملزم کو گرفتار کر لیا۔
اچھرہ کے علاقے سے ایک ویڈیو منظر عام پر آئی ہے جس میں ایک شخص کو کمسن بچی پر پلاسٹک کے پائپ سے تشدد کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے،متاثرہ بچی کی شناخت فاطمہ کے نام سے ہوئی ہے، جس پر مبینہ طور پر چوری کے الزام کے بعد تشدد کیا گیا۔
 مقامی افراد کا دعویٰ ہے کہ ویڈیو میں تشدد کرنے والا شخص بچی کا والد ہے،اہلِ محلہ کے مطابق مبینہ طور پر گھر کے مالکان کے کہنے پر والد نے اپنی کمسن بیٹی کو تشدد کا نشانہ بنایا، جبکہ واقعہ کے دوران گھر کے مالکان بھی قریب موجود تھے۔
پولیس کے مطابق 11 سالہ عروج فاطمہ شاہ جمال کے علاقے میں واقع ایک گھر میں ملازمت کرتی تھی، جہاں مبینہ طور پر چوری کے الزام پر اسے تشدد کا نشانہ بنایا گیا، واقعہ کی اطلاع ملنے پر اچھرہ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ملزم قربان کو شاہ جمال سے گرفتار کر لیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم کے خلاف مقدمہ درج کر کے مزید تفتیش کے لیے کیس انویسٹی گیشن ونگ کے حوالے کر دیا گیا ہے، جبکہ واقعہ کے دیگر پہلوؤں کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
ڈی آئی جی آپریشنز نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ بچوں کا استحصال اور ان پر تشدد ناقابلِ برداشت ہے اور ایسے جرائم میں ملوث افراد کسی رعایت کے مستحق نہیں۔
گزشتہ روز صوبائی دارالحکومت لاہور میں گھریلو ملازمہ پر مبینہ تشدد کا ایک اور افسوسناک واقعہ سامنے آیا تھاجس میں نصیر آباد کے علاقے میں 12 سالہ گھریلو ملازمہ کنیز فاطمہ جاں بحق ہو گئی تھی،پولیس کے مطابق جاں بحق ہونے والی 12 سالہ کنیز فاطمہ کا تعلق فیصل آباد سے تھا اور وہ گزشتہ ایک ماہ سے صوفی اعجاز کے گھر ملازمہ کے طور پر کام کر رہی تھی، ایف آئی آر کے مطابق بچی کے والد جاوید نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ جمعہ کی شام تقریباً پانچ بجے انہیں گھر کے مالکان کی بہو کی جانب سے فوری لاہور پہنچنے کے لیے کہا گیا، جب وہ لاہور پہنچے تو انہیں بتایا گیا کہ ان کی بیٹی گلاب دیوی ہسپتال میں زیر علاج ہے۔والد کے مطابق جب وہ ہسپتال پہنچے تو کنیز فاطمہ مردہ حالت میں موجود تھی۔

یہ بھی پڑھیں:بونیر؛دہشتگردوں کی فائرنگ،سی ٹی ڈی پولیس کے سب انسپکٹرشہید
والد نے الزام عائد کیا کہ کوٹھی مالکان نے ان کی 12 سالہ بیٹی کو تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کیا ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آنے کے بعد موت کی اصل وجہ اور دیگر حقائق واضح ہوں گے، جبکہ مقدمے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں