
(احمد منصور) مانسہرہ کی وادی کاغان میں قومی پیغامِ امن کمیٹی پاکستان کے زیر اہتمام ’’پیغامِ پاکستان‘‘ کے قومی بیانیے اور ضابطۂ اخلاق کے فروغ کے سلسلے میں پیغامِ امن علماء و مشائخ کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں مختلف مکاتبِ فکر کے علماء و مشائخ، دینی و سماجی قائدین نے شرکت کی۔
کانفرنس کے اعلامیے کے مطابق شرکاء نے قومی یکجہتی، بین المسالک ہم آہنگی، انسدادِ دہشت گردی و انتہا پسندی اور دفاعِ وطن کے تقاضوں پر متفقہ مؤقف کا اعادہ کیا ،اعلامیے میں کہا گیا کہ اسلام امن، رحمت، اعتدال اور رواداری کا دین ہے جبکہ دہشت گردی، انتہا پسندی، تکفیر، فرقہ واریت اور بے گناہ انسانوں کا قتل اسلامی تعلیمات کے منافی اور ناقابلِ قبول ہیں۔
شرکاء نے آئین و قانون کی بالادستی، قومی وحدت، سلامتی اور خودمختاری کے تحفظ کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے دہشت گردی اور مسلح تشدد میں ملوث عناصر کی مذمت کی اور ریاست کی انسدادِ دہشت گردی کوششوں کی حمایت کا اعلان کیا۔
اعلامیے میں بلوچستان میں معصوم شہریوں، مسافروں اور سکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنانے والے دہشت گرد حملوں کی بھی مذمت کی گئی۔ شرکاء کا کہنا تھا کہ پاکستان کے خلاف دہشت گردی، تخریب کاری اور بدامنی کی ہر سازش کو قومی اتحاد سے ناکام بنایا جائے گا اور دہشت گردوں، ان کے سہولت کاروں اور مالی معاونین کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی ضروری ہے۔
کانفرنس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ نوجوان نسل کو انتہا پسند نظریات سے محفوظ رکھنے کے لیے مدارس، جامعات، مساجد اور دیگر تعلیمی اداروں میں اعتدال، کردار سازی، حب الوطنی اور آئینی شعور کو فروغ دیا جائے۔
شرکاء نے سوشل میڈیا پر مذہبی منافرت، فرقہ وارانہ مواد، تکفیری بیانیے، جھوٹے پروپیگنڈے اور اشتعال انگیزی کو مسترد کرتے ہوئے ذمہ دارانہ طرزِ عمل اپنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
اعلامیے میں افواجِ پاکستان اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی انسدادِ دہشت گردی کے لیے خدمات اور قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا، جبکہ علماء و مشائخ نے امن، استحکام، قومی سلامتی اور دفاعِ وطن کے لیے ریاست اور قومی اداروں کے شانہ بشانہ کردار جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
اعلامیے کے مطابق ’’پیغامِ پاکستان‘‘ کو امن، اعتدال، رواداری، بین المسالک ہم آہنگی اور دہشت گردی و انتہا پسندی کی فکری بیخ کنی کے لیے متفقہ قومی بیانیہ قرار دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں :






