(ویب ڈیسک) نیپال ڈیزاسٹر میں فوت ہو جانے والے افراد کی تعداد بڑھ کر 359ہو گئی ہے،1384 سے زیادہ افراد اب بھی غائب ہیں۔ ان کا کوئی پتہ نہیں کہ زندہ ہیں یا فوت ہو گئے۔ ان میں دو تہائی لوگ غیر ملکی ہیں جو سیر کرنے کے لئے نیپال آئے ہوئے تھے۔
غیر ملکیوں کی بہت بڑی تعداد کے غائب ہو جانے اور فوت ہونے کی وجہ سے نیپال کا ڈیزاسٹڑ دنیا بھر میں توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔
نیپال پولیس کے آج 27 اگست، شام 5 بجے کے اپ ڈیٹ کے مطابق سیلاب سے متاثرہ آٹھ اضلاع میں 359 لاشیں برآمد کی جا چکی ہیں۔
کٹھمنڈو پوسٹ Kathmandu Post نے آج شام اپنی اپ ڈیٹ رپورٹ میں نیپال ڈیزاسٹر میں اموات کا عدد 826 ہی دیا ہے، البتہ پاکستان میں بعض میڈیا آؤٹ لیٹس لاپتہ افراد کی تعداد پندرہ سو بتانے لگی ہیں۔
نیپال کی پولیس نے بتایاہے کہ ہمالیہ کے سیلاب کے بعد اب تک تین سو پچاس سے زیادہ لاشیں مل چکی ہیں۔ ریسکیو اور سرچ کے کام میں ہر طرف گارے کے ڈھیر ہونے کی وجہ سے شدید دشواری ہو رہی ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق نیپال کی پولیس نے X پر ایک پوسٹ میں کہا کہ جب سے ملک کے ہمالیائی سرحدی علاقوں اور چین کے تبت میں تباہ کن سیلاب آیا ہے، نیپال میں حکام کو 270 لاشیں ملی ہیں۔

ریسکیو اور سرچ کے کام میں مصروف حکام نے تصدیق کی ہے کہ نیپال میں لاپتہ/رابطے سے باہر لوگوں کی تعداد ایک ہزار سے زیادہ ہے۔
ان 826 میں 517 غیر ملکی سیاح ہیں اور 127 نیپالی سیاح شامل ہیں۔
لاپتہ افراد میں 44 نیپالی فوجی، 28 پولیس اہلکار اور 13 آرمڈ پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔
اگر نیپال اور تبت دونوں کو ملا کر دیکھا جائے تو جانی نقصان کی تعداد اس سے بھی زیادہ ہے: تبت میں اب تک تین افراد کی موت کی تصدیق ہوئی ہے اور 558 افراد لاپتہ رپورٹ ہوئے ہیں۔ یعنی مجموعی طور پر 273 افراد کے فوت ہونے اور تقریباً 1,384 افراد کے لاپتہ ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق جانی نقصان کے اعداد تیزی سے بدل رہے ہیں کیونکہ دریا کے اندرسے لاشیں مل رہی ہیں اور دور دراز علاقوں سے لاپتہ افراد کی فہرستیں مسلسل اپ دیٹ ہو رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: لیفٹیننٹ جنرل (ر)سردار علی چودھری انتقال کرگئے






