
(انورعباس)نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے لندن میں برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ کے ساتھ وفود کی سطح پر مذاکرات کئے،دونوں جانب سے پاکستان اور برطانیہ کے دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا،دونوں ممالک نے اتفاق کیا کہ دونوں وزارتِ خارجہ کے درمیان باضابطہ مذاکرات کے لیے ایک منظم طریقہ کار قائم کیا جائے گا،اس منظم طریقہ کار کے تحت تعاون کے تمام شعبوں کا احاطہ کیا جائے گا،دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے اقدامات کیے جائیں گے،اہم شعبوں میں پیش رفت کا باقاعدگی سے جائزہ لیا جائے گا۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق دونوں وزرائے خارجہ نے مسلسل اعلیٰ سطح رابطوں اور باہمی دلچسپی کے امور پر قریبی رابطہ کاری کی اہمیت پر زور دیا، ملاقات میں اہم علاقائی اور عالمی پیش رفت، بالخصوص مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی ہوئی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا،نائب وزیراعظم نے خطے میں پاکستان کی جانب سے کی جانے والی سفارتی اور ثالثی کی کوششوں اور ان رابطوں کے ذریعے حاصل ہونے والی پیش رفت سے آگاہ کیا۔
برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے مشرقِ وسطیٰ میں مذاکرات، سفارت کاری اور استحکام کے لیے پاکستان کے تعمیری کردار اور سہولت کاری کی کوششوں کو سراہا۔
مذاکرات میں سندھ طاس معاہدے سے متعلق پیش رفت اور خطے کی سکیورٹی صورتحال بھی زیرِ بحث آئی،نائب وزیراعظم نے بھارت کی جانب سے اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کی مسلسل خلاف ورزیوں کو اجاگر کیا اور بین الاقوامی قانون اور معاہدوں کی پاسداری کی اہمیت پر زور دیا۔
نائب وزیراعظم نے افغان سرزمین سے جنم لینے والے دہشت گردی کے خطرات پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا،انہوں نے کہا کہ افغانستان سے سرگرم دہشت گرد گروہوں کی جانب سے پاکستان کے امن و سلامتی کو خطرہ لاحق ہے۔
دونوں جانب نے خطے اور اس سے باہر امن، استحکام اور تعاون کے فروغ کے لیے مسلسل رابطوں کی اہمیت پر زور دیا،دونوں وزرائے خارجہ نے پاکستانی ڈائسپورا کے اہم کردار کو تسلیم کیا ۔
انہوں نے کہا کہ پاکستانی کمیونٹی پاکستان اور برطانیہ کے درمیان دیرینہ تعلقات اور عوامی سطح کے روابط کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ڈالر نے روپے کو روند دیا، قیمت میں بڑااضافہ






