
(24نیوز) آزاد کشمیر میں بیرسٹر افتخار گیلانی کے بلامقابلہ وزیر اعظم منتخب ہونے کا امکان سامنے آ رہا ہے۔ آج جمعرات کی شام دن ڈھلے تک بیرسٹر افتخار کے سوا کسی نے وزارت عظمیٰ کے الیکشن کے لئے کاغذات نامزدگی جمع نہیں کروانے کا ارادہ ظاہر نہیں کیا۔
آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کل جمعہ کے روز اپنے خصوصی اجلاس میں وزیر اعظم کا انتخاب کرے گی۔ وزیر اعظم کے انتخاب کے لئے ووٹنگ آئین میں طے شدہ طریقہ کار کے مطابق ہو گی۔
اس وقت تک دستیاب تازہ ترین معلومات کی بنیاد پر کل آزاد کشمیر کے وزیراعظم کا الیکشن بلامقابلہ ہونے کی طرف جاتا دکھائی دے رہا ہے، لیکن پیپلز پارٹی کی طرف سے امیدوار نہین لایا گیا لیکن امیدوار نہ لانے کا رسمی اعلان بھی نہیں کیا گیا۔
آزاد کشمیر میں وزیر اعظم کے بلامقابلہ انتخاب کی طرف جانے کی بظاہر وجہ یہ ہے کہ پیپلز پارٹی کے 14 ارکان کے موجودہ 53 رکنی اسمبلی میں صرف ایک تہائی ووٹ بنتے ہیں جبکہ مسلم لیگ ن کے 31 ارکان اور اتحادی جماعت کے ایک رکن کو ملا کر مسلم لیگ کی پارلیمانی قوت 32 بنتی ہے۔
ن لیگ نے بیرسٹر افتخار گیلانی کو اپنا امیدوار نامزد کر دیا ہے اور انہیں وزیراعظم کے انتخاب کے لیے کاغذات جمع کرانے کی ہدایت بھی دی گئی ہے۔
آج شام دن ڈھلنے تک سامنے موجود رپورٹس میں پیپلز پارٹی کی طرف سے کسی باقاعدہ وزیراعظم امیدوار کے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرانے کی تصدیق نہیں ملی۔
اس لیے اس وقت تک افتخار گیلانی واحد باقاعدہ طور پر سامنے آنے والے امیدوار ہیں۔ اگر پیپلز پارٹی نے کاغذات جمع نہیں کرائے تو کل وزیراعظم کا انتخاب بلامقابلہ ہو سکتا ہے۔
کل کب کیا ہو گا؟
وزارت عظمیٰ کے الیکشن کے لئے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرانے کا وقت صبح 9:30 سے 10:30 بجے تک مقرر کیا گیا ہے۔ کاغذاتِ نامزدگی کی جانچ پڑتال صبح 10:30 سے 10:45 بجے تک ہوگی۔
امیدواروں کے نامینیشن پیپرز کی جانچ پڑتال کے بعد امیدواروں کی ابتدائی فہرست صبح 11 بجے آویزاں کی جائے گی، کاغذاتِ نامزدگی واپس لینے کا وقت صبح 11 بجے سے 11:30 بجے تک ہے۔
امیدواروں کی حتمی فہرست دوپہر 12 بجے آویزاں کی جائے گی، ووٹنگ کی ضرورت پیش آئی تو وزیر اعظم کا انتخاب 27 اگست کو دوپہر 12 بجے ہوگا،وزیر اعظم کے انتخاب کے لیے تمام کارروائی قانون ساز اسمبلی کے سیکرٹریٹ میں ہو گی۔
ایک اہم احتیاط
“پیپلز پارٹی امیدوار نہیں لا رہی” ابھی ایک سیاسی نتیجہ ہے، حتمی انتخابی حقیقت نہیں۔ حتمی بات کاغذاتِ نامزدگی کی scrutiny/واپسی کے مرحلے کے بعد ہی کہی جا سکتی ہے۔
بیرسٹر افتخار نواز شریف کے امیدوار ہیں، مسلم لیگ ن آزاد کشمیر کے سربراہ انہیں ووٹ نہیں دیں گے
اس سے پہلے میڈیا رپورٹس میں بتایا جا رہا تھا کہ مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کے صدر شاہ غلام قادر بیرسٹر افتخار گیلانی کو وزیراعظم آزاد کشمیر نامزد کیے جانے کی مخالفت کر رہے ہیں۔ اگر کل جمعہ کے روز وزیر اعظم کے الیکشن میں ووٹ ہونے کی نوبت آئی تو بیرسٹر افتخار منتخب تو ہو جائیں گے لیکن مسلم لیگ ن کے لئے یہ سیٹ بیک ہو گا کہ پارٹی کا سربراہ اپنے وزارت عظمیٰ کے امیوار کو ووٹ نہیں دے گا۔
شاہ غلام قادر نے پارٹی قائد میاں نواز شریف کی جانب سے بیرسٹر افتخار گیلانی کو آزاد کشمیر کا وزیراعظم نامزد کیے جانے کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ وہ افتخار گیلانی کو ووٹ دیں گے نہ ہی وزیراعظم کے انتخاب کے لیے آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔
مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کے ذرائع کے مطابق جماعت کے صدر شاہ غلام قادر نے پارٹی قیادت کے فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹیکنوکریٹ کی نشست پر منتخب رکن قانون ساز اسمبلی بیرسٹر افتخار گیلانی کو وزیراعظم کے منصب کے لیے قابل قبول نہیں سمجھتے۔
یہ بھی پڑھیں: نیپال کے ڈیزاسٹر میں مرنے والوں کی تعداد 359ہوگئی، 1384 بدستور لاپتہ






