(24نیوز) پاکستان پیپلز پارٹی نے آزاد کشمیر کے وزیر اعظم کے انتخاب میں اپنے رکن اسمبلی سردار مختار کو وزارت عظمیٰ کا امیدوار نامزد کر دیا ہے۔ سردار مختار نے قانون ساز اسمبلی کے الیکشن میں دارالحکومت کے انتخابی حلقہ سے نواز شریف کے نامزد امیدوار بیرسٹر افتخار کو شکست دے کر قانون ساز اسمبلی کی رکنیت حاصل کی تھی۔
کشمیر کی بساط پر پیپلز پارٹی کی خوبصورت موو
سردار مختار احمد خان آزاد کشمیر اسمبلی کے حالیہ الیکشن میں ایل اے-29، مظفرآباد-3 (مظفرآباد سٹی) سے پاکستان پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر منتخب ہوئے ہیں۔ انہوں نے 20,045 ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی، جبکہ ان کے مقابل مسلم لیگ کے نامزد امیدوار بیرسٹر افتخار علی گیلانی 16,507 ووٹ کے ساتھ الیکشن ہار گئے تھے۔ اس الیکشن کی کیمپین میں مسلم لیگ ن نے بیرسٹر افتخار کو وزارت عظمیٰ کے لئے نواز شریف کے امیدوار کی حیثیت سے ہی پروجیکٹ کیا تھا۔ سردار مختار عباسی یہ الیکشن جیتے تو اس جیت کی خاص اہمیت یہ تھی کہ 30 سال بعد دارلاحکومت مظفر آباد میں عوام نے پیپلز پارٹی کو کسی الیکشن میں کامیابی عطا کی۔

پیپلز پارٹی میں سردار مختار احمد کی کبھی کوئی نمایاں حیثیت نہیں رہی۔ 2026 کے انتخابات سے پہلے پیپلز پارٹی نے انہیں مظفرآباد سٹی کی نشست کے لیے اپنے نمایاں امیدواروں میں شامل کیا تھا، لیکن انہیں PPP آزاد کشمیر میں کسی بڑے رسمی عہدے پر کام کرنے کا کبھی موقع نہیں ملا۔
جب مسلم لیگ ن کے مینٹور میاں نواز شریف نے بیرسٹر افتخار کو ایل اے 29 میں سردار مختار سے الیکشن ہارنے کے بعد ٹیکنوکریٹ کی مخصوص نشست پر رکن اسمبلی بنوا کر وزارت عظمیٰ کا امیدوار بنا دیا تو پیپلز پارٹی نے کشمیر کی بساط پر اپنی اب تک سب سے خوبصورت موو چلی اور اپنے پیدل سردار مختار کو وزیر اعظم کے عہدہ کے لئے امیدوار بنا دیا۔
یہ بھی پڑھیں: صدر مسلم لیگ ن اور سابق وزیراعظم راجہ فاروق حیدرکا افتخار گیلانی کو ووٹ نہ دینے کا فیصلہ
وزیر اعظم کے انتخاب میں مسلم لیگ ن کو تقریباً دو گنا ووٹوں کی برتری حاصل ہے اور پیپلز پارٹی کا امیدوار کوئی بھی ہو اس کا وزیراعظم بننا ناممکن ہے، البتہ اب کل یہ ہو گا کہ مظفر آباد کے انتخابی حلقہ میں بیرسٹر افتخار کو بھاری اکثریت سے ہرانے والا عوامی نمائندہ ان کے مقابل ہو گا۔
یہ بھی پڑھیئے: آزاد کشمیر کا وزیراعظم بلامقابلہ منتخب ہو رہا ہے؟
کل ہو رہے وزارت عظمیٰ کے الیکشن میں دوسری دلچسپ بات یہ ہے کہ مسلم لیگ ن کے سابق وزیراعظم سردار فاروق حیدر اور مسلم لیگ ن آزاد کشمیرکے صدر شاہ غلام قادر دونوں نواز شریف کے وزارت عظمیٰ کے امیدوار بیرسٹر افتخار کو ووٹ نہیں دے رہے۔ ان دونوں ہیوی ویٹ لیگیوں کے ووٹ کے بغیر بھی بیرسٹر افتخار وزیر اعظم تو بن جائیں گے لیکن انہیں ابتدا ہی سے اپنی اخلاقی حیثیت کا سوال درپیش آ جائے گا۔
یہ بھی پڑھیئے: پارلیمنٹ کی سٹینڈنگ کمیٹی نے پمز کے ڈاکٹڑوں، نرسوں کو معطل کرنے، ای ڈی، وزیر صحت کے استعفے کا مطالبہ کر دیا






