1

پارلیمنٹ کی سٹینڈنگ کمیٹی نے پمز کے ڈاکٹڑوں، نرسوں کو معطل کرنے، ای ڈی، وزیر صحت کے استعفے کا مطالبہ کر دیا

 (24نیوز)  سینیٹ کی سٹینڈنگ کمیٹی نے پمز میں 14 نومولود بچوں کے آگ سے جاں بحق ہو جانے کے سانحہ پر ہسپتال انتظامیہ کے جوابات  کو مسترد کر دیا اور کئی ڈاکٹروں کو معطل کرنے کی سفارش کر دی۔

کمیٹی نے وفاقی وزیر صحت کو مستعفی ہونے کا مشورہ دیا جب کہ کمیٹی میں شامل سینئیر ہیلتھ پروفیشنل  ڈاکٹر شازیہ سومرو نے ہسپتال کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر  اور اس کے ساتھ ہیلتھ منسٹر مصطفیٰ کمال کے استعفے کا مطالبہ کیا۔ دراصل ڈاکٹر شازیہ پمز کے ای ڈی سے واضح الفاظ میں استعفیٰ مانگنے والی سٹینڈنگ کمیٹی کی واحد رکن ہیں۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے نیشنل ہیلتھ سروسز کے ارکان کی طرف سے مجموعی طور پر بھی وزیر صحت اور ای ڈی پمز کے استعفے کا مطالبہ رپورٹ ہوا ہے۔
 آج سٹینڈنگ کمیٹی کے ارکان نے خود پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) جا کر تفتیش کی اور متعلقہ لوگوں سے ملاقاتیں کیں۔ اس وزٹ کی معتبر رپورٹس میں ڈاکٹر مہیش کمار ملانی، عالیہ کامران، گل اصغر خان یا فراح خان کی طرف سے ای ڈی پمز کے استعفے کا الگ، واضح مطالبہ نہیں ملا۔ ان ارکان نے سخت سوالات کئے  اور ہسپتال کی انتظامیہ کی کارکردگی پر اعتراضات ضرور اٹھائے، مگر استعفے کا واضح مطالبہ شازیہ ثوبیہ کی طرف سے رپورٹ ہوا ہے۔

 ای ڈی پمز رانا عمران سکندر  سے آج سوال کیا گیا کہ کیا وہ استعفیٰ دے رہے ہیں تو انہوں نے واضح انداز سے کہا، نہیں میں استعفیٰ نہیں دے رہا۔ 

 پیپلز پارٹی کی ایم این اےڈاکٹر  شازیہ صوبیہ اسلم سومرو نے بتایا کہ کمیٹی نے ہسپتال میں فائر الارم کی فعالیت کے بارے میں بھی معلومات طلب کی تھیں۔

عملہ یا تو ڈیوٹی پر تھا ہی نہیں، اگر کوئی تھا تو سانحہ کے وقت موجود نہیں تھا

عملے کے “متضاد بیانات” کا نوٹس لیتے ہوئے،  ڈاکتر شازیہ سومرو نے کہا، “یا تو ڈیوٹی پر کوئی نہیں تھا، یا اگر وہ ڈیوٹی پر تھے، تو وہ کہیں باہر تھے۔”

انہوں نے پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کے ساتھ ساتھ وزیر صحت سے “اخلاقی بنیاد” پر استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا۔

ایک سوال کے جواب میں کمیٹی کے رکن ملانی نے کہا کہ آگ لگنے کی وجہ کا تعین کرنے کے لیے “تکنیکی ماہرین” سے بھی مشورہ لیا جانا چاہیے۔ انہوں  نے بھی عملے کے متضاد اکاؤنٹس کا نوٹس لیا۔

“گائنی ہیڈ نے مجھے بتایا کہ وارڈ میں تاروں کا ایک بنڈل ہے، جب کہ کسی نے کہا ہو سکتا ہے کہ کوئی آکسیجن سلنڈر پھٹ گیا ہو،” انہوں نے مزید کہا، “جب کوئی آکسیجن سلنڈر نہیں تھا تو وہ کیسے پھٹ سکتا تھا؟”

اس لیے آگ لگنے کا ذریعہ ابھی تک معلوم نہیں ہو سکا، انہوں نے کہا۔

ملانی نے کہا کہ کمیٹی کسی تکنیکی خرابی کا پتہ لگانے کے لیے “کیا صحیح کام کے لیے صحیح شخص کی تقرری کی گئی تھی” کی جانچ کرے گی۔

کمیٹی کے رکن فرخ خان نے بھی اس موقع پر  میڈیا کے نمائندوں سے بات کی اور اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ آیا نرسری کی کئی سالوں میں کوئی دیکھ بھال نہیں ہوئی۔

“اگر کوئی دیکھ بھال کی گئی تھی تو پھر بھی کمرے میں پرانا ایئرکنڈیشنر کیوں نصب تھا اور وائرنگ کیوں کھلی رہ گئی تھی؟” انہوں نے سوال کیا، انہوں نے مزید کہا کہ اگر انتظامیہ نرسری کا انتظام نہیں کر سکتی، تو “انہیں اسے ختم کر دینا چاہیے۔”

ملانی نے پھر بتایا کہ کمیٹی نے پمز کے مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ کیئر سنٹر کے بجٹ کے بارے میں معلومات مانگی ہیں، اور اس بارے میں تفصیلات مانگی ہیں کہ “اس میں سے کتنا استعمال ہوا”۔

انہوں نے کہا کہ آکسیجن اور بجلی کے نظام کی کتنی بار جانچ کی گئی اس کے بارے میں تفصیلات خاص طور پر مانگی گئی تھیں۔

جمعیت علمائے اسلام کی ایم این اے عالیہ کامران نے کہا کہ جب کمیٹی ممبران نے نرسوں سے بات کی تو ایسا لگا جیسے انہیں پہلے بتا دیا گیا ہو کہ کیا کہنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آگ لگتے ہی عملے نے شیر خوار بچوں کو چھوڑ دیا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ “ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر نے ہمیں جو  بیان دیا ہے اس سے بھی ہم مطمئن نہیں ہیں۔”

اس نے دعویٰ کیا کہ اس داستان کو آگے بڑھانے کی “جان بوجھ کر کوشش” کی گئی تھی کہ آگ ایئر کنڈیشنر سے لگی تھی۔ کامران نے کہا کہ قومی اسمبلی کی کمیٹی ہسپتال انتظامیہ کو بلا کر ان سے اپنی صلاحیت کے مطابق سوال کرے گی اور منصفانہ رائے پیش کرے گی۔

اپنے ساتھیوں کے ریمارکس کی تائید کرتے ہوئےعالیہ کامران نے وزیر صحت سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا۔

“انکوائری ٹیم اگر اقتدار میں ہے تو شفافیت برقرار نہیں رکھ سکے گی،” انہوں نے کہا اور مطالبہ کیا کہ ڈیوٹی پر موجود عملے کو معطل کیا جائے اور ان کے میڈیکل لائسنس منسوخ کیے جائیں۔

اس سانحہ کے بعد کئی عینی شاہدین نے اے ایف پی کو بتایا کہ وہ ایمرجنسی سروسز سے مدد کے لیے گھنٹوں انتظار کرتے رہے اور وارڈ میں جانے کے لیے کھڑکیوں کو توڑنے پر مجبور ہوئے جب کہ کچھ  دروازے بند پائے گئے۔

واقعے کے فوری بعد وزیراعظم شہباز شریف نے انکوائری کمیٹی تشکیل دیتے ہوئے وفاقی سیکریٹری صحت محمد اسلم غوری کو عہدے سے ہٹا دیا لیکن پمز ہسپتال میں کسی ایک بھی شخص کو ہٹایا یا معطل تک نہیں کیا گیا۔

دریں اثنا، اسلام آباد ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کی طرف سے جاری کردہ ایک نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ آگ لگنے کے پیچھے حقائق کا تعین کرنے کے لیے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل (ADCG) کی سربراہی میں سات رکنی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔

  کل ایئرکنڈیشنر سے آگ لگنے کا بتایا ، آج پتا چلا کہ اے سی تو چل ہی نہیں رہا تھا ، ڈاکٹر مہیش کمار
پمز ہسپتال میں بچوں کی نرسری میں آگ کیسے لگی ؟واقعے کے وقت ڈیوٹی عملہ موجود تھا یا نہیں ؟ غفلت کس کی ؟ ذمہ دارکون ؟ کسی بھی بات کا اب تک تعین نہیں ہوسکا۔

سینیٹ کی سٹینڈنگ کمیٹی برائے صحت نے ہسپتال کے عملے اور انتظامیہ کے جوابات پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔ کمیٹی نے اس سانحہ کے وقت ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹرز، نرسوں اور پیرامیڈیک سٹاف کو معطل کرنے کا مطالبہ کردیا، کمیٹی نے وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کو بھی مستعفی ہونے کا مشورہ دیا۔

نرسوں کو بٹھا کر بیان یاد کروایا گیا

پمز ہسپتال کے دورے کے بعد سٹینڈنگ کمیٹی کے سربراہ  ڈاکٹر مہیش کمار نے کہا کل ایئر کنڈیشنر سے آگ لگنےکا بتایا، آج پتا چلا کہ اے سی تو کام ہی نہیں کررہا تھا، سی سی ٹی وی سے بھی نہ پتا چل سکا کہ آگ کیسے لگی، بظاہر لگ رہا ہے کہ نرسوں کو بٹھا کر ایک بیان یاد کرایا گیا۔

مہیش کمار نے اس سانحہ  کی خود تحقیقات کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ نرسری 1990کی بنی ہوئی ہے، چھوٹے بچوں کو نئے بلاک کی نرسری میں رکھنا چاہیے تھا۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صحت نے پیر کو پمز ہسپتال میں ہی اجلاس بلانے کا فیصلہ کرلیا، پی ٹی آئی کے سینیٹرز کو بھی شرکت کی دعوت دے دی۔

پمز   کی ڈپٹی ایگزیکٹو ڈائریکٹر   سانحہ کی تحقیقات کرنےکے لئے  خود  پر مشتمل تحقیقاتی کمیٹی بنادی
پمز کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر نے تو ستعفا دینے سے انکار کردیا، ہسپتال انتظامیہ نے آگ لگنےکےواقعے کی تحقیقات کےلیے پروفیسرڈاکٹرعاطف انعام کی سربراہی میں 4 رکنی کمیٹی بنادی،کمیٹی کو 48 گھنٹوں کے اندر رپورٹ جمع کروانے کی ہدایت کی گئی۔

اس کمیٹی کی رکن ڈاکٹر عنیزہ جلیل نے ہی کمیٹی بنانے کا نوٹیفکیشن جاری کیا۔ اس نوٹیفیکیشن کے مطابق کمیٹی آگ لگنےکی اصل وجہ اور فائر سیفٹی اقدامات کا جائزہ لےگی۔ ریسکیو آپریشن کی افادیت اور رسپانس ٹائم کی بھی جانچ کرے گی ۔  واقعے کے ذمہ داران کا تعین کرے گی۔

پمز  کی ڈپٹی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر عنیزہ جلیل بھی کمیٹی کی ممبر ہیں، ڈاکٹرعنیزہ جلیل نے آج ہی وزیراعظم کی بنائی کمیٹی کو اپنا بیان قلمبند کروایا تھا، ڈاکٹر عنیزہ نے خود ہی پمز کی تحقیقاتی کمیٹی کے نوٹیفکیشن پر دستخط کیے۔

سانحہ پمز پر چلڈرن ہسپتال کی نرسری کے عملے سے تحریری بیانات طلب 
اس دوران سانحہ پمز  پر وزیراعظم کی تحقیقاتی کمیٹی نے چلڈرن ہسپتال کی نرسری کے عملے سے تحریری بیانات طلب کرلیے۔

 نرسری کی سی سی ٹی وی کا ریکارڈ قبضہ میں لے لیا گیا، نرسری سٹاف سے سوالات کیےگئے، کمیٹی نے سی سی ٹی وی کا جائزہ لیا، آگ کی وجوہات سے متعلق انتظامیہ کے بیان اور سی سی ٹی وی ویڈیو کا موازنہ کیا۔

آج وزٹ کے دوران سٹینڈنگ کمیٹی برائے صحت کے ارکان نے پمز ہیلتھ مینجمنٹ کے عملے سے پوچھ گچھ کی، کمیٹی پمز  انتظامیہ نے 26 اگست کو ڈیوٹی پر موجود عملے کا روسٹر جمع کرا یا جبکہ فائربریگیڈ اور  ایمرجنسی ڈپارٹمنٹ نے اپنی رپورٹ پیش کی، کمیٹی کو جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹرپمز سمیت 4افسران نے تحریری بیانات جمع کراے،کمیٹی 48گھنٹوں میں عبوری تحقیقاتی رپورٹ وزیراعظم کو پیش کرےگی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں